۲۰۲۰ء میں حکومت نے ٹک ٹاک سمیت۵۸؍چینی ایپس کو قومی سلامتی اور لوگوں کی رازداری کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ پابندی سے پہلے ہندوستان میں اس کے۲۰؍ کروڑ سے زیادہ صارفین تھے، جو اسے دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک بناتا تھا۔
EPAPER
Updated: August 31, 2025, 8:24 PM IST | New Delhi
۲۰۲۰ء میں حکومت نے ٹک ٹاک سمیت۵۸؍چینی ایپس کو قومی سلامتی اور لوگوں کی رازداری کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ پابندی سے پہلے ہندوستان میں اس کے۲۰؍ کروڑ سے زیادہ صارفین تھے، جو اسے دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک بناتا تھا۔
مختصر ویڈیو ایپٹک ٹاک ، جس پرہندوستان میں چار سال سے پابندی عائد ہے، نے خاموشی سے اپنی واپسی کی تیاری شروع کردی ہے۔ کمپنی نے گروگرام میں اپنے دفتر کے لیے نئے ملازمین کی بھرتی کے لیے ایک اشتہار جاری کیا ہے، جس سے یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ٹک ٹاک جلد ہی ہندوستان واپس آنے والا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کا خوب چرچا ہو رہا ہے۔ لیکن کیا یہ ایپ واقعی واپس آ رہا ہے؟ آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئیے:مرکزی بینکوں کے پاس امریکی ٹریژری سے زیادہ سونا
حکومت نے۲۰۲۰ء میں ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی تھی
بائیٹ ڈانس کی ملکیت والی کمپنی ٹک ٹاک پر جون ۲۰۲۰ء میں ہندوستان میں پابندی لگا دی گئی تھی۔ تب حکومت نے اسے۵۸؍ دیگر چینی ایپس کے ساتھ قومی سلامتی اور لوگوں کی رازداری کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ پابندی سے پہلے، ہندوستان میں اس کے ۲۰؍ کروڑ سے زیادہ صارفین تھے، جو اسے دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک بناتا تھا۔ حال ہی میں کچھ صارفین نے کہا تھا کہ وہٹک ٹاک انڈیا کی ویب سائٹ تک رسائی کرنے کے قابل ہیں۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسے غیر مسدود کرنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا ہے اور فی الحال پابندی پوری طرح نافذ ہے۔
پابندی کے باوجودٹک ٹاک نے گروگرام آفس کے لیےلنکڈ اِن پر دو نئی ملازمتوں کا اشتہار دیا ہے۔ یہ دونوں عہدے کمپنی کی `ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کا حصہ ہیں، جن کا کام مواد کو سنبھالنا اور صارفین کی حفاظت کا خیال رکھنا ہے۔