James Allenنے انسان کو اس کے باطن کی قوت سے روشناس کرایا اور یہ پیغام دیا کہ عظمت کا آغاز انسان کے اپنے خیالات سے ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 07, 2026, 3:17 PM IST | Mumbai
James Allenنے انسان کو اس کے باطن کی قوت سے روشناس کرایا اور یہ پیغام دیا کہ عظمت کا آغاز انسان کے اپنے خیالات سے ہوتا ہے۔
جیمز ایلن انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل کے ایک معروف برطانوی فلسفی، مصنف اور روحانی مفکر تھے جنہوں نے خودی کی اصلاح، مثبت سوچ اور کردار سازی کے موضوعات پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی پیدائش۲۸؍ نومبر ۱۸۶۴ء کولیسٹر، برطانیہ میں ہوئی تھی۔ ان کا بچپن عام متوسط طبقے میں گزرا، مگر نوعمری ہی میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا جس کے بعد گھریلو حالات بگڑ گئے اور انہیں کم عمری ہی میں ملازمت اختیار کرنا پڑی۔ اس ذاتی سانحے اور جدوجہد نے ان کی شخصیت میں خود انحصاری، غور و فکر اور زندگی کے باطنی پہلوؤں کو سمجھنے کا رجحان پیدا کیا، جو بعد میں ان کی تحریروں کا مرکزی موضوع بنا۔
جیمز ایلن نے اپنی ابتدائی زندگی میں مختلف دفتری ملازمتیں کیں، مگر ان کا اصل شغف مطالعہ اور تحریر تھا۔ وہ مذہبی اور فلسفیانہ کتب کا گہرا مطالعہ کرتے تھے، خصوصاً مشرقی مذاہب، بدھ مت اور ہندو فلسفے سے متاثر تھے۔ بالآخر انہوں نے ملازمت ترک کر کے مکمل طور پر تصنیف و تالیف کو اپنا لیا اور اپنی اہلیہ للی ایلن کے ساتھ سادہ اور گوشہ نشین زندگی اختیار کی۔ وہ انگلینڈ کے جنوب مغربی علاقے ایلفراکمب (Ilfracombe ) میں مقیم ہو گئے جہاں انہوں نے اپنی بیشتر معروف کتب تصنیف کیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسٹیفن کووی امریکی ماہر تعلیم، مصنف، تاجر اور ترغیبی مقرر تھے
ان کی سب سے مشہور اور شہرۂ آفاق تصنیف’’As a Man Thinketh ‘‘ہے جو۱۹۰۳ء میں شائع ہوئی۔ یہ مختصر مگر نہایت اثر انگیز کتاب انسانی فکر کی قوت اور اس کے کردار اور تقدیر پر اثرات کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے ویسا ہی بن جاتا ہے۔ ایلن کے نزدیک خیالات بیج کی مانند ہیں جو عمل اور عادت کی صورت میں پروان چڑھ کر کردار بناتے ہیں اور کردار ہی انسان کی قسمت کا تعین کرتا ہے۔ اس کتاب نے بیسویں صدی کی ’سیلف ہیلپ ‘تحریک پر گہرا اثر ڈالا اور آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں افراد اسے رہنمائی کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔
جیمز ایلن کی دیگر اہم کتب میں ’بائے ویز آف بلیسڈنیس‘، ’ دی وے آف پیس‘ اور’ابوو لائفز ٹرموئل‘شامل ہیں۔ ان تمام تصانیف میں انہوں نے ضبطِ نفس، اخلاقی پاکیزگی، روحانی سکون اور مثبت فکر کو کامیاب زندگی کی بنیاد قرار دیا۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ بیرونی حالات دراصل انسان کے باطنی خیالات اور رویوں کا عکس ہوتے ہیں، لہٰذا اگر انسان اپنی سوچ کو درست کر لے تو اس کی زندگی کے حالات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔ ان کا اسلوب نہایت سادہ، اخلاقی اور عملی تھا جس کی وجہ سے عام قاری بھی ان کی بات کو آسانی سے سمجھ سکتا تھا۔ انہوں کی تصانیف کی تعداد ۲۲؍ کے قریب ہے۔
جیمز ایلن کی خدمات کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جدید دور میں ’’قوتِ فکر‘‘ کے نظریے کو عام فہم انداز میں پیش کیا۔ زندگی کے آخری ایام میں بھی وہ تصنیف و تالیف میں مصروف رہے۔ ۲۴؍ جنوری۱۹۱۲ء کو برطانیہ ہی میں ان کا انتقال ہوا۔
( وکی پیڈیا)