وہاٹس ایپ کی نئی پالیسی سے بڑے پیمانے پر تشویش، صارفین نےخیر باد کہنا شروع کردیا

Updated: January 14, 2021, 9:03 AM IST | Agency | New Delhi

کمپنی نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ۸؍ فروری سے صارفین کی معلومات اپنی مالک کمپنی فیس بک سے شیئر کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے بعد صارفین دیگر ایپس کی طرف راغب ہورہےہیں

Picture.Picture :INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

مشہور پیغام رسانی ایپلی کیشن `وہاٹس ایپ  نے اپنی پالیسیاں تبدیل کر دی ہیں، جس کے بعد صارفین بڑی تعداد میں دوسری ایپلی کیشنز کا رخ کر رہے ہیں۔ وہاٹس ایپ کی نئی پالیسی کا اطلاق  ۸؍فروری سے ہونا ہے جس کے تحت صارفین سے متعلق معلومات واٹس ایپ کی مالک کمپنی فیس بک سے شیئر کی جائیں گی۔ اس کے بعد سے ہی وہاٹس ایپ استعمال کرنے والوں میں بے چینی پھیل گئی ہے اور وہ اس ایپ کو اَن انسٹال کرنے پر غور کررہے ہیں۔ غیر مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ  گزشتہ چند روز میں صرف پیسیفک ایشیاء سے   ایک لاکھ افراد نے وہاٹس ایپ کو اَن انسٹال کردیا ہے۔ اس میں ہندوستانیوں کی تعداد کتنی ہے فی الحال اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے لیکن اندازہ ہے کہ صرف ہندوستان سے ۲؍ سے ۳؍ لاکھ  صارفین کم ہوسکتے ہیں۔    دلچسپ بات یہ ہے کہ نئی پالیسی کا اطلاق وہاٹس ایپ کے یورپ اور برطانیہ میں رہنے والے صارفین پر نہیں ہوگا کیوں کہ اس خطے میں نجی معلومات کے تحفظ کے انتہائی سخت قوانین موجود ہیں۔یہ بھی ضروری نہیں کہ وہاٹس ایپ صارف کا فیس بک اکاؤنٹ بھی ہو۔ بلکہ تمام وہ صارفین جن کے پاس وہاٹس ایپ کی جانب سے اپ ڈیٹ کا نوٹس جائے گا، اُن کی مذکورہ معلومات فیس بک سے شیئر کی جائیں گی۔
 دریں اثنا، وہاٹس ایپ نے واضح کیا ہے کہ اس کی پالیسی اپ ڈیٹ سے صارفین کے پیغامات کی پرائیویسی متاثر نہیں ہو گی۔ وہاٹس ایپ نے اپنے ایک بیان میں صارفین کو کہا ہے کہ یہ بات۱۰۰؍  فیصد واضح ہونی چا ہئے کہ وہاٹس ایپ صارفین کےپیغامات  `اینڈ ٹو اینڈ اِن کرپٹڈ ہیں۔نئے اپ ڈیٹ کے تحت صارفین کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کا فون نمبر، وہاٹس ایپ کے ذریعے دوسرے لوگوں سے رابطہ کرنے کا دورانیہ اور وہاٹس ایپ استعمال کرنے کا وقت وغیرہ اشتہاری مقاصد کے لئے فیس بک کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
  وہاٹس ایپ کی جانب سے دوسری بار اس کی نئی پالیسی سے متعلق وضاحت سامنے آئی ہے۔ قبل ازیں وہاٹس ایپ نے کہا تھا کہ اس کی نئی اپ ڈیٹ صرف بزنس اکاؤنٹس سے متعلق ہے۔صارفین کی آگاہی کے  لئے وہاٹس ایپ کے جاری کردہ حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہاٹس ایپ اور فیس بک دونوں ہی صارفین کےپیغامات نہیں پڑھ سکتے اور نہ ہی صارفین کی کالز کو سن سکتے ہیں۔ اس  لئے صارفین دیگر لوگوں کے ساتھ پیغامات  میں جو بھی شیئر کرتے ہیں، وہ بھیجنے والے اور وصول کرنے کے درمیان ہی رہتا ہے۔
 وہاٹس ایپ کی جانب سے نئی پالیسی کا اعلان ۵؍ جنوری کو کیا گیا تھا۔ اس پالیسی کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی پرائیویسی سے متعلق بحث چھڑ گئی  ہے اور بہت سے لوگوں نےاس پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دیگر پیغام  رسانی ایپس استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا۔وہاٹس ایپ کی اس نئی پالیسی کے اعلان کے بعد سے اسی نوعیت کی دیگر ایپس کی ڈاؤن لوڈنگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح بعض لوگوں نے اپنا وہاٹس ایپ اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK