پوری وادیٔ کشمیر سوگ، غم اور غیر معمولی غصے کی لپیٹ میں آگئی۔ لکھنؤ اور حیدرآبادمیں سینہ کوبی کرکے احتجاج درج کرایاگیا۔ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔ حالات کے پیش نظر یوپی میں ا لرٹ۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 10:57 AM IST | New Delhi
پوری وادیٔ کشمیر سوگ، غم اور غیر معمولی غصے کی لپیٹ میں آگئی۔ لکھنؤ اور حیدرآبادمیں سینہ کوبی کرکے احتجاج درج کرایاگیا۔ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔ حالات کے پیش نظر یوپی میں ا لرٹ۔
امریکہ -اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبروں کے بعد اتوار کو دہلی، لکھنؤ، جموں اور حیدرآباد کے مختلف حصوں میں زبردست احتجاج کیا گیا۔ اسی طرح رانچی، کولکاتا اور دیگر جگہوں پر احتجاج کیا گیا۔
نئی دہلی میں احتجاج اور دعائیہ تقریب
دارالحکومت دہلی میں جنوب مشرقی دہلی کے علاقے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے جو امریکی اور اسرائیلی حملے میں خامنہ ای کی موت پر سوگ منانے اور ایک مسجد میں خصوصی دعائیہ تقریب کیلئے منعقد کیا گیا تھا۔ اس دوران طلبہ کے گروپس اور مقامی لیڈروں کو ایرانی رہنما کی حمایت میں احتجاج کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
جموں کشمیر میں جلوس اورامریکہ، اسرائیل کیخلاف نعرے
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کے بعد پوری وادیٔ کشمیر سوگ، غم اور غیر معمولی غصے کی لپیٹ میں آگئی ہے۔ اتوار کی صبح ایران کے سرکاری ذرائع نے خبر جاری کی تو چند ہی منٹوں میں وادی کے مختلف اضلاع میں عوام گھروں سے نکل آئے اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے، ماتمی جلوس، دھرنے اور دعائیہ اجتماعات شروع ہوگئے۔ شیعہ اکثریتی علاقوں میں کہرام مچ گیا جبکہ سنی اکثریتی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ اظہارِ یکجہتی کیلئے سڑکوں پر اتر آئے۔
فجر کی نماز کے فوراً بعد سری نگر کے تاریخی لال چوک میں ہزاروں لوگ جمع ہوگئے۔ گھنٹہ گھر کے اطراف سیاہ پرچم، بینرس، آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اور احتجاجی نعروں کی گونج سنائی دیتی رہی۔ ’خامنہ ای صرف ایران کے نہیں، امت کے رہبر تھے‘ اور ’امریکہ اور اسرائیل اس دہشت کے ذمہ دار ہیں ‘ جیسے نعرے مسلسل بلند ہوتے رہے۔ مظاہرین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ مظلوم اقوام کی آواز بن کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا اور ان کی شہادت امتِ مسلمہ کیلئے ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔ اسی دوران سونہ وار میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر ہزاروں افراد نے دھرنا دیا۔ مظاہرین نے کہا کہ خامنہ ای کی شہادت دنیا بھر کے مسلمانوں پر حملے کے مترادف ہے، کشمیر اس ظلم پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
پلوامہ، بڈگام، بانڈی پورہ اور بارہمولہ سمیت متعدد اضلاع میں بڑے ماتمی جلوس نکلے جن میں دونوں مکاتبِ فکر کے لوگ شریک ہوئے۔ بڈگام اور سری نگر میں سیاہ پٹیاں باندھے نوجوانوں نے غم و غصے کا اظہار کیا جبکہ بارہمولہ کے مین بازار میں نکالی گئی ریلی میں عوام کا جمِ غفیر امڈ آیا۔ گندربل میں خواتین کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، نوحہ خوانی کی اور خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر ان کیلئے دعائیں کیں۔
خبر کی تصدیق کے بعد وادی کا ماحول یکسر تبدیل ہوگیا، بازار نیم بند رہے، گلیوں میں سوگوار جلوسوں کا سلسلہ جاری رہا اور مساجد و امام بارگاہوں میں مجالسِ ترحیم، قرآن خوانی اور خصوصی دعائیں ہوتی رہیں۔ حسن آباد، زڈی بل اور دوسرے شیعہ آبادی والے علاقوں میں گہرا سوگ چھایا رہا اور امام بارگاہیں سوگواروں سے بھری رہیں۔
پولیس کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے تمام اضلاع میں سیکوریٹی ہائی الرٹ پر ہے۔ لال چوک اور دیگر حساس مقامات پر اضافی فورسیز تعینات کی گئی ہیں جبکہ ڈرون کے ذریعے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اب تک تمام احتجاج مکمل طور پر پرامن ہیں تاہم صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
اتحاد المسلمین، انجمن شرعی شیعیان اور دیگر تنظیموں کے رہنماؤں نے اپنے خطابات میں کہا کہ خامنہ ای کی آواز دبانے سے حق ختم نہیں ہوسکتا۔
لکھنؤ میں میں زبردست احتجاج
آیت اللہ علی خامنہ ای کی اسرائیلی-امریکی مشترکہ کارروائی میں موت پر اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں شیعہ مسلمانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور کلاک ٹاور کے قریب احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر ہاتھ میں لئے نعرے لگائے اور ان کی شہادت پر غم کا اظہار کیا۔ اس دوران لوگوں نے سینہ کوبی کرکے اپنا احتجاج درج کرایا اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرے میں شامل افرادنے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کیا گیا ہے اور یہ کارروائی دھوکے سے کی گئی۔ ان کا الزام تھا کہ اس واقعے کے ذمہ دار لوگوں نے غداری کی ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے چلے جانے کے بعد بھی ان کے افکار زندہ رہیں گے۔ وہیں شیعہ مذہبی رہنما مولانا سیف عباس نے اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی نے خلیجی خطے کو غیر مستحکم کر دیا ہے اور حالات مسلسل بگڑ رہے ہیں۔
حیدرآباد میں شدید احتجاجی مظاہرے
آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد حیدرآباد کے پرانا شہر کے کئی حصوں میں شدید احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ اتوار کو شیعہ طبقہ کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کی شدید مذمت کی۔ پرانی حویلی، نور خان بازار، دارالشفاء اور دیگر علاقوں میں سیاہ لباس میں ملبوس مرد و خواتین نے سڑکوں پرنکل کر احتجاج کیا اور علی خامنہ ای کی تصاویر اٹھا کر نعرے لگائے۔ اس موقع پر احتجاجیوں نے کہا کہ علی خامنہ ای نے ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور سمجھوتہ نہ کرنے کی پاداش میں شہادت پائی۔ تنظیم جعفری کی اپیل پر نکالی گئی اس احتجاجی ریلی میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جو پرانی حویلی سے شروع ہوئی۔ ریلی کے دوران کئی مظاہرین اپنے قائد کی تصاویر سینے سے لگائے زار و قطار روتے ہوئے نظر آئے۔
کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پولیس نے پرانے شہر میں سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں اور صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاہم اب تک کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری جانب حیدرآباد میں قائم ایرانی قونصل خانہ میں سوگ کے طور پر ایران کا قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا۔
یوپی میں الرٹ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد الگ الگ اضلاع میں ہورہے مظاہروں کو دیکھتے ہوئے اترپردیش میں ہائی الرٹ کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اسرائیل کے حملے اورخلیج ممالک میں کشیدگی کے حالات کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے سبھی اضلاع کوخصوصی احتیاط کا مظاہرہ کرنے ہدایت دی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کی صبح اعلیٰ سطحی میٹنگ میں نظم ونسق کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو اضافی احتیاط کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد محکمہ داخلہ کی جانب سے سبھی اضلاع کو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اے ڈی جی نظم ونسق امیتابھ یش نے بتایا کہ شیعہ اکثریتی علاقوں اور اہم مذہبی مقامات پر اضافی پولیس فورس کو تعینات کیا جارہا ہے۔ حساس علاقوں میں گشت بڑھا دیاگیا اور خفیہ ذرائع کو بھی مستعد کردیا گیا ہے۔