Updated: April 16, 2026, 7:27 PM IST
| Ankara
ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرطلمش نے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے مجوزہ قانون پر اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اقوام متحدہ سے اس کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف ۱۹۷۴ء کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے عالمی اداروں کی غیر مؤثریت پر بھی سوال اٹھائے۔
ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرطلمش۔ تصویر: ایکس
ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرطلمش نے اسرائیل کے خلاف ایک سخت سفارتی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی رکنیت معطل کرے، جیسا کہ ماضی میں نسل پرستی کے دور میں جنوبی افریقہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ استنبول میں پارلیمان کح ۱۵۲؍ ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی برادری پہلے بھی نسل پرستی کے خلاف مؤثر اقدامات کر چکی ہے اور اسی اصول کو آج بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ’’کیا کسی ایک ملک میں فلسطینیوں کے لیے ایک قانون اور اسرائیلیوں کے لیے دوسرا قانون لاگو کرنا نسل پرستی نہیں ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: مذاکرات کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر حملے
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کے مجوزہ قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی اصولوں کے خلاف ہیں اور انہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ نعمان نے اقوام متحدہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدقسمتی سے، اقوام متحدہ ایک ایسا ادارہ بن گیا ہے جو طاقتور ممالک کی خواہشات کے مطابق کام کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یو این حالیہ تنازعات، خاص طور پر غزہ میں جاری تشدد کو روکنے میں ناکام رہا ہے، جو اس کی مؤثریت پر سوالیہ نشان ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے مشرق وسطیٰ کے وسیع تر تناظر کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ خطے کی کئی ریاستوں کو خودمختاری کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے، جبکہ بین الاقوامی نظام ان مسائل کے حل میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی پالیسیوں سے نہ صرف فلسطین بلکہ پورے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے، اور خاص طور پر خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان دشمنی کو ہوا مل سکتی ہے۔ اسی موقع پر انہوں نے خالد المعاولی سے ملاقات کی، جس میں عمان کی ثالثی کوششوں کو سراہا گیا اور پاکستان میں جاری مذاکرات کو بحال کرنے پر زور دیا گیا تاکہ جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے: ۶۰؍فیصدامریکی اسرائیل اور نیتن یاہو کوناپسند کرتے ہیں
نعمان نے یہ بھی بتایا کہ ترکی چوتھی بار انطالیہ جنرل اسمبلی کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں تقریباً ۱۵۵؍ ممالک کے نمائندے شریک ہیں، جو عالمی پارلیمانی تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ ان کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی سطح پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے، اور بین الاقوامی اداروں کے کردار پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔