Updated: April 16, 2026, 7:10 PM IST
| Mumbai
اداکارہ اور سیاستداں کنگنا رناوت نے فلم انڈسٹری میں ۸؍ گھنٹے کی شفٹ پر جاری بحث میں دپیکا پڈوکون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مقام کے باعث اپنی شرائط طے کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب دپیکا نے بڑے پروجیکٹس سے علاحدگی اختیار کی۔
کنگنا رناوت اور دپیکا پڈوکون۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ میں کام کے اوقات پر جاری بحث نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے، اور اس بار اداکارہ و سیاستداں کنگنا رناوت نے کھل کر دپیکا پڈوکون کی حمایت کی ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب دپیکا پڈوکون نے مبینہ طور پر فلم ’’کالکی اے ڈی ۲۸۹۸‘‘ کے سیکوئل اور ’’اسپرٹ‘‘ جیسے بڑے پروجیکٹس سے علاحدگی اختیار کی۔ رپورٹس کے مطابق، ان کے اس فیصلے کے پیچھے ۸؍ گھنٹے کی ورک شفٹ کا مطالبہ ایک اہم وجہ تھا، جس نے فلمی حلقوں میں طویل بحث کو جنم دیا۔
یہ بھی پڑھئے: کرینہ کپور کا ’’کیپوچینو کارنر‘‘ وائرل، منصور علی خان کی تصویر نے توجہ حاصل کی
ایک حالیہ انٹرویو میں، کنگنا رناوت نے کہا کہ’’مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی مسئلہ پیدا ہونا چاہیے… اگر آپ دیکھیں کہ وہ کہاں سے آئی ہیں، تو انہوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ وہ اب ماں ہیں اور ایک ٹاپ اداکارہ ہیں۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ انڈسٹری میں مقام اور تجربہ بہت اہم ہوتا ہے، اور سینئر فنکاروں کو اپنے کام کے حالات طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ کنگنا نے ماضی کی ایک گفتگو کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ اور دپیکا پڈوکون ایک ساتھ کام کر رہے تھے، تو طویل ورک شفٹ عام بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس نے کہا کہ ہماری ۱۲؍ گھنٹے کی شفٹ ہے… میں نے کہا میں صرف ۱۰؍ گھنٹے کام کرتی ہوں۔ ایک وقت تھا جب ہم ۱۲-۱۴؍ گھنٹے کام کرتے تھے کیونکہ ہم کامیابی چاہتے تھے۔‘‘
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ نئے فنکار اکثر ایسے مرحلے میں ہوتے ہیں جہاں وہ آسانی سے تبدیل کئے جا سکتے ہیں، اس لئے وہ زیادہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ لیکن جب کوئی اداکار ایک خاص مقام حاصل کر لیتا ہے، تو وہ اپنی شرائط خود طے کر سکتا ہے۔ کنگنا کے مطابق، ایک ماں ہونے کے ناطے دپیکا پڈوکون کیلئے ورک لائف بیلنس زیادہ اہم ہو جاتا ہے، اور انڈسٹری کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ اس مقام پر ہیں جہاں پروڈیوسرز اور ٹیمیں ان کے شیڈول کے مطابق کام کرنے کیلئے تیار ہیں، چاہے اس کا مطلب کم گھنٹوں کی شفٹ ہی کیوں نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: عامر خان کے اشنیر گروور کی بایوپک میں نظر آنے کے امکانات
اس سے قبل خود دپیکا پڈوکون نے بھی اس تنازع پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ۸؍ گھنٹے کی شفٹ کو غیر ضروری طور پر بڑا مسئلہ بنا دیا گیا، خاص طور پر اس لئے کہ یہ مطالبہ ایک خاتون اداکارہ کی جانب سے آیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پروجیکٹس سے علاحدگی کے بعد دپیکا نے شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’’کنگ‘‘ کا اعلان کیا، جس میں سہانا خان، ابھیشیک بچن، راگھو جیال، ارشد وارثی اور رانی مکھرجی بھی شامل ہیں۔ یہ فلم ۲۴؍ دسمبر ۲۰۲۶ء کو ریلیز ہوگی۔