سونو سود کو نوٹس دئیےجانےکامعاملہ:کورٹ نے بی ایم سی کو سخت کارروائی سے منع کیا

Updated: January 12, 2021, 6:18 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai

بی ایم سی کے ذریعہ بھیجے گئے نوٹس کے خلاف فلم اداکار سونو سود کو داخل کردہ عرضداشت کی بدولت ۲؍ دنوں کی عبوری راحت مل گئی ہے ۔

BMC - Pic : MidDay
بی ایم سی ۔ تصویر : مڈ ڈے

بی ایم سی کے ذریعہ بھیجے گئے نوٹس کے خلاف فلم اداکار سونو سود کو داخل کردہ عرضداشت کی بدولت ۲؍ دنوں کی عبوری راحت مل گئی ہے ۔ ساتھ ہی کورٹ نے اداکار کے خلاف بی ایم سی کو کسی بھی قسم کا سخت قدم اٹھانے سے منع کر دیا ہے ۔ یاد رہے کہ بی ایم سی نے سونو سود کے خلاف نوٹس جاری کرتے ہوئے جوہو میں واقع  ان کی ۶؍ منزلہ عمارت شکتی ساگر میں بنا اجازت مرمت کرنے اور بلڈنگ کے بنیادی ڈھانچہ میں تبدیلی کرنے کا الزام لگایا تھا ۔دوران سماعت سونوسود کے وکیل اموگ سنگھ بنچ کے جسٹس پرتھوی راج چوان سے کہا کہ ’’ میرے موکل نے عمارت میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی مرمت نہیں کی ہے اور جو تبدیلی کی گئی ہے وہ قانونی طور پر اجازت لینے کے بعد کی گئی ہے ۔‘‘
  وکیل نے کہا کہ عدالت اس سلسلہ میں بی ایم سی کو ہدایت دے کہ وہ میرے موکل کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کرے ۔وہیں بی ایم سی کی جانب سے وکیل انل ساکھرے نے مذکورہ بالا عرضداشت پر موقف واضح کرنے کیلئے وقت طلب کیا  ۔سنگل بنچ کے جسٹس پرتھوی راج چوان نے فریقین کی جرح سننے کے بعد سونو سود کو ۲ ؍ دنوں کی عبوری راحت دینے کے ساتھ ہی بی ایم سی کو ہدایت دی کہ وہ مذکورہ بالا معاملہ  کی سماعت مکمل ہونے تک کسی بھی قسم کی کوئی سخت کارروائی نہ کرے ۔کورٹ نے مذکورہ بالا عرضداشت پر ۱۳؍ ستمبر کو دوبارہ سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔
 واضح رہے کہ بی ایم کی جاری کردہ نوٹس اور لگائے گئے الزامات کے مطابق سونو سود نے جوہو میں واقع اپنی بلڈنگ میں بنا اجازت تعمیرات کرنے کے علاوہ رہائشی بلڈنگ کو تجارتی ہوٹل میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ اکتوبر میں بی ایم سی نے سونو سود کو نوٹس جاری کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کرنے کا الزام لگایا تھا ۔اس پر سونو سود نے پہلے مقامی عدالت میں سوٹ فائل کیا تھا ۔ اس پرکورٹ نے ۳؍ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے بی ایم سی کی کارروائی پر روک لگا دی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK