امریکہ ایران کشیدگی کے باعث عالمی گیس سپلائی متاثر ہونے کے بعد ہندوستان میں ایل پی جی کی مانگ اچانک بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں انڈین آئل وَن ایپ گوگل پلے اسٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا جانے والا ایپ بن گیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi
امریکہ ایران کشیدگی کے باعث عالمی گیس سپلائی متاثر ہونے کے بعد ہندوستان میں ایل پی جی کی مانگ اچانک بڑھ گئی ہے، جس کے نتیجے میں انڈین آئل وَن ایپ گوگل پلے اسٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کیا جانے والا ایپ بن گیا ہے۔
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ ایران تنازعے کے اثرات اب عالمی توانائی کی سپلائی پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت محدود ہونے کے باعث قدرتی گیس اور توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات ہندوستان سمیت کئی ممالک تک پہنچ رہے ہیں۔ اسی صورتحال کے نتیجے میں ہندوستان میں کھانا پکانے والی گیس یعنی ایل پی جی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کئی گھروں میں ممکنہ قلت کے خدشے کے باعث صارفین نے بڑی تعداد میں گیس سلنڈر بک کروانا شروع کر دیے ہیں۔اسی بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان سرکاری ایل پی جی بکنگ پلیٹ فارم ’’IndianOil ONE‘‘ ایپ گوگل پلے اسٹور کے چارٹس میں پہلے نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ یہ ایپ صارفین کو ایل پی جی سلنڈر بک کرنے، آرڈر کی ٹریکنگ کرنے اور اپنے گیس کنکشن کا انتظام کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
imagine being on the tech team at indian oil today.
— Jai Pandya (@jaipandya) March 14, 2026
that`s an app to book LPG cylinders and it has crossed chatgpt in rankings. pic.twitter.com/srAH3KrOBq
ایپ کی ڈاؤن لوڈنگ میں اچانک اضافے کی وجہ یہ ہے کہ لاکھوں صارفین سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور ڈیلیوری میں تاخیر کے خدشات کے پیش نظر فوری طور پر گیس ری فل محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس ایپ نے ڈاؤن لوڈنگ کے لحاظ سے کئی مشہور ایپس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے، جن میں چیٹ جی پی ٹی، فلپ کارٹ اور جیو ہاٹ اسٹار جیسے بڑے پلیٹ فارم شامل ہیں۔ واضح رہے کہ گیس کی سپلائی میں دباؤ کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے اور یہاں سے قطر، متحدہ عرب امارات اور عمان جیسے خلیجی ممالک سے قدرتی گیس اور توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شان پین کا تیسرا آسکر، مگر تقریب میں غیرحاضری نے سب کو حیران کر دیا
موجودہ صورتحال میں بحری نقل و حرکت متاثر ہونے کے باعث عالمی گیس مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کے اثرات ہندوستان کی توانائی سپلائی پر بھی پڑ رہے ہیں۔
حکومت نے اس صورتحال کے پیش نظر گھریلو استعمال کے لیے گیس کی فراہمی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان ایل این جی درآمدی صلاحیت بڑھانے اور مقامی گیس پیداوار میں اضافہ کرنے پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں طلب کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکے۔ اسی دوران پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک نیا اصول بھی متعارف کروایا ہے۔ اس کے تحت جن صارفین کے پاس پہلے سے پائپڈ نیچرل گیس (PNG) کنکشن موجود ہے، انہیں ایل پی جی سلنڈر رکھنے یا دوبارہ بھرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے:رافینہ کی ہیٹ ٹرک؛ بارسلونا کی سیویلا کے خلاف بڑی جیت
وزارت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد محدود گیس ذخائر کو ان گھروں کے لیے محفوظ رکھنا ہے جو کھانا پکانے کے لیے مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی توانائی مارکیٹ میں مزید دباؤ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک کی توانائی پالیسیوں اور گھریلو صارفین تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔