Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ نے ہندوستان کو روسی خام تیل کی فروخت کی ’اجازت‘ پر خاموشی توڑی

Updated: March 08, 2026, 5:07 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور ممکنہ تیل بحران کے تناظر میں کہا ہے کہ امریکہ نے محدود مدت کیلئے ہندوستان کو سمندر میں موجود روسی تیل کے بعض بحری جہاز خریدنے کی اجازت دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عالمی تیل منڈیوں پر دباؤ کم کرنا ہے، جبکہ ہندوستانی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں توانائی کی فراہمی مستحکم ہے اور کسی کمی کا خدشہ نہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں جاری تحفظاتی بحران کے دوران اس معاملے پر خاموشی توڑ دی ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کو محدود مدت کیلئے روسی تیل کی بعض فروخت کی اجازت دے دی ہے۔ ریپبلکن رہنما نے امریکی ایئر فورس ون میں سفر کے دوران صحافیوں سے گفتگو کی، جس کے فوراً بعد امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس بات کو دہرایا کہ امریکہ نے ہندوستان کو روسی تیل قبول کرنے کی اجازت دی ہے۔ صحافیوں نے جب بیسنٹ کے حالیہ بیان اور ممکنہ دیگر اقدامات کے بارے میں سوال کیا، جن میں ایس پی آر (اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو) بھی شامل ہے، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں تاکہ تیل کی عالمی منڈیوں پر دباؤ کچھ کم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’دنیا میں تیل کی کمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں تیل کی بڑی مقدار موجود ہے اور امریکہ کے پاس بھی بہت زیادہ تیل کے ذخائر ہیں، اس لئے تیل کے دباؤ کی صورتحال جلد بہتر ہو سکتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران کی ’بری سلطنت‘ تباہ، جنگ کچھ عرصہ اور جاری رہے گی: ٹرمپ کا دعویٰ

یہاں اسٹریٹجک پٹرولیم ریزرو سے مراد امریکہ کا ہنگامی تیل ذخیرہ ہے جو امریکی ریاستوں لوزیانا اور ٹیکساس کے ساحلی علاقوں میں قائم ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بڑا ہنگامی تیل ذخیرہ ہے جس میں ۴۱۵؍ ملین سے زیادہ بیرل خام تیل محفوظ ہے۔ ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل روئٹرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد اس ذخیرے سے تیل فروخت کرنے پر فی الحال غور نہیں کیا جا رہا۔ ایک امریکی ذریعے نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تیل منڈیوں میں اس وقت تیل کی فراہمی مناسب مقدار میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ میں ایران حملوں کی مخالفت، امریکہ میں بھی جنگ پر سوالات

ہندوستان کو روسی تیل سے متعلق کیا کہا گیا؟

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سنیچر کو امریکی ٹی وی چینل فاکس بزنس کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ محدود مدت کی چھوٹ دی جائے گی تاکہ سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل کے بحری جہازہندوستانی خریداروں کو فروخت کئے جا سکیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’امریکہ کی مضبوط پالیسیوں کی بدولت دنیا میں تیل کی فراہمی کافی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہندوستان امریکہ کا اتحادی ہے اور اس نے پہلے بھی پابندیوں کے باعث روسی تیل کی خریداری روک دی تھی۔ عالمی سطح پر تیل کی عارضی کمی کو کم کرنے کیلئے ہندوستان کو صرف وہ روسی تیل قبول کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو پہلے ہی سمندر میں موجود ہے۔‘‘ بیسنٹ نے واضح کیا کہ یہ اقدام مختصر مدت کیلئے ہے اور اس سے روسی حکومت کو کوئی بڑا مالی فائدہ نہیں ہوگا کیوں کہ اس کے تحت صرف وہی بحتی جہاز فروخت کئے جا سکیں گے جو پہلے ہی سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران نے امریکی اینٹی میزائل نظام تباہ کردیا

تیل کے بحران پر ہندوستان کا مؤقف

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ہندوستان اپنی تیل کی درآمدات کا تقریباً ۴۰؍ فیصد حصہ مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور ان میں سے بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے راستے ملک تک پہنچتی ہے۔ ایران جنگ کے دوران تیل کے معاملے پر ملک کے تازہ موقف کے مطابق، وزیر پیٹرولیم ہردیپ پوری سمیت حکام نے زور دے کر کہا ہے کہ ہندوستان توانائی کی کسی بھی قسم کی کمی کیلئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے جمعہ کو سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ میں لکھا کہ ’’ہماری ترجیح اپنے شہریوں کیلئے سستے اور پائیدار ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے، اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں توانائی کی کوئی کمی نہیں ہے اور صارفین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ سنیچر کو انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کو توانائی کی درآمدات آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر راستوں سے بھی مسلسل موصول ہو رہی ہیں اور ملک کے تمام توانائی تقاضے پورے کئے جا رہے ہیں۔ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے تناظر میں ملک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پسِ پردہ ہونے والی گفتگو کی کچھ تفصیلات بھی بیان کیں۔ ہردیپ سنگھ نے ایکس پوسٹ میں لکھا، ’’آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ میری بہترین ملاقات میں ہم نے اس بات پر گفتگو کی کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی چیلنجوں کے باوجود ہندوستان توانائی کی دستیابی، اس کی مناسب قیمت اور پائیداری جیسے تین بڑے مسائل سے کس طرح نمٹ رہا ہے۔ ملک میں توانائی کی درآمدات آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر تمام راستوں سے مسلسل جاری ہیں۔ ہمارے شہریوں کی توانائی کی ضروریات مکمل طور پر پوری کی جا رہی ہیں۔ ہندوستان ایک مطمئن اور مستحکم پوزیشن میں ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی تشویش یا قیاس آرائی کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کا اطلاعاتی محاذ: ویڈیوز، مذہبی بیانیے اور سوشل میڈیا

حکومتی ذرائع کے مطابق قطر نے مائع قدرتی گیس کی مسلسل فراہمی کے حوالے سے کچھ ضمانتیں دی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق حکام نے کہا، ’’قطر نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے ہی راستہ کھلے گا وہ پہلے ہی لمحے سے ہندوستان کو گیس کی فراہمی شروع کر دے گا۔‘‘ حکام کے مطابق ملک کے پاس مائع قدرتی گیس کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کئی دیگر ممالک نے بھی گیس فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ آبنائے ہرمز سے مال بردار جہازوں کی نقل و حرکت کے بارے میں تازہ معلومات دیتے ہوئے اے این آئی نے ہندوستانی حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز کے قریب کارگو جہازوں کی آمد و رفت جلد شروع ہو سکتی ہے۔ واضح ہو کہ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ایران نے کہا کہ وہ پڑوسی ممالک کو اس وقت تک نشانہ نہیں بنائے گا جب تک ان کی سرزمین سے اس پر حملہ نہ کیا جائے۔ تاہم اس کے باوجود خلیجی خطے کے بعض علاقوں، جن میں بحرین اور کویت شامل ہیں، میں اتوار کی صبح تک فوجی حملوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK