بزرگوں کی یادگار، مولانا شاہ ابرارالحق (حضرت ہردوئی) کے خلیفہ، مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی کے خادم خاص اور مولانا شاہ وصی اللہ الٰہ آبادی کے صحبت یافتہ شاعر ، صوفی انصار احمد کامل چائلی الٰہ آبادی کا اتوار کی صبح دارالعلوم امدادیہ (چونا بھٹی ) میں اچانک حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا۔
صوفی انصار احمد کامل۔ تصویر: آئی این این
بزرگوں کی یادگار، مولانا شاہ ابرارالحق (حضرت ہردوئی) کے خلیفہ ، مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھی کے خادم خاص اور مولانا شاہ وصی اللہ الٰہ آبادی کے صحبت یافتہ شاعر ، صوفی انصار احمد کامل چائلی الٰہ آبادی کا اتوار کی صبح دارالعلوم امدادیہ (چونا بھٹی ) میں اچانک حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا۔ جس وقت انہوں نے دارالافتاء میں آخری سانس لی، ان کی عمر۹۸؍ برس تھی۔ بذریعہ طیارہ ان کا جسد خاکی آبائی وطن روانہ کیا گیا جہاں آج ان کی تدفین عمل میں آئے گی۔ ان کے پسماندگان میں ۵؍بیٹے اور۳؍ بیٹیاں شامل ہیں ۔ اہلیہ اور ایک صاحبزادی پہلے ہی انتقال کرچکی ہیں۔
ایک ہفتہ قبل صوفی انصار احمد ممبئی کے دورے پر تھے اور مفتی سعید الرحمن قاسمی کے مہمان تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دھاراوی کا ایکسپیرئنس سینٹر دھوکہ دینے کا نیا انداز ہے‘‘
اتوار کی صبح تقریباً۱۰؍بجے ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ دارالافتاء میں آئے تو انہیں سانس لینے میں دقت ہونے لگی، اسی کیفیت میں چند گھونٹ پانی پیا مگر بے چینی بڑھنے لگی، ایمبولینس بلائی گئی اور اسپتال لے جانے کی تیاری شروع کی گئی لیکن اس سے قبل ہی وہ دار فانی سے دار بقاء رخصت ہوگئے۔ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ وطن واپسی کا آج پیر کا ان کا ٹکٹ تھا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور وطن واپسی سے قبل ہی داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔
واضح رہےکہ یکم اکتوبر کو وہ مولانا محمد یحییٰ قاسمی کی خانقاہ رحمانیہ نقشبندیہ اندھیری (ایسٹ) بھی گئے تھے۔ صوفی انصار احمد اکابرین کے تربیت اور فیض یافتہ تھے، اسی لئے ان کے متعلقین کا حلقہ وسیع تھا اور لوگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ اکابرین کی زندگی، ان کے انداز تربیت، سالکین کی تربیت ورہنمائی اور ان کے اقوال وافعال سے انہیں روشناس کرائیں۔ چنانچہ وہ خاص انداز میں اپنے شیخ اور دیگر اکابرین کا خصوصی مجالس میں تذکرہ کیا کرتے تھے۔