دھاراوی بچاؤ آندولن کا بیان، اسے پھنسانے کا نیا حربہ قرار دیا اور دھاراوی واسیوں کے۵؍ بنیادی مطالبات دہرائے۔ اپنے مستقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنے پر زور۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 1:59 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Dharavi
دھاراوی بچاؤ آندولن کا بیان، اسے پھنسانے کا نیا حربہ قرار دیا اور دھاراوی واسیوں کے۵؍ بنیادی مطالبات دہرائے۔ اپنے مستقبل کا فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنے پر زور۔
دھاراوی بچاؤ آندولن نے ایکسپیریئنس سینٹر کو دھوکہ دینے کا نیا انداز بتایا ۔ واضح رہےکہ دھاراوی میںایکسپیریئنس سینٹر بناکر وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس ، ایس آر اے کے سی ای او اور ری ڈیولپمنٹ کرنے والے اڈانی گروپ کے افسران کے ذریعے گزشتہ روز افتتاح کیا گیا۔ پی ایم جی کالونی سیکٹر ایک دھاراوی میں ۲۲؍ ہزار اسکوائر فٹ ایریا پر قائم کردہ اس سینٹر میں ایک طرح سے سیمپل فلیٹ دکھائے گئے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دھاراوی واسیوں کے سپنوں کا گھر کیسا ہوگا؟ اس کے قریب کی سڑکیں، فلیٹ میں تمام سہولتیں بشمول فرنیچر ، بال کنی، فلیٹ کی کشادگی اور دیگر سہولتیں کس طرح کی ہوں گی ؟ اسے بتانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہر ایک قانونی قرار دیئے جانے والے کو ۳۵۰؍ اسکوائر فٹ کا اور بی ایم سی عمارتوں اور چالیوں میں رہنے والوں کو ۵۰۰؍ اسکوائر فٹ کا مکان اور تاجروں کے لئے روزگار کا نظم کیا جائے گا۔ اس طرح اڈانی گروپ کے ذریعے دھاراوی واسیوں کا کایا پلٹ ہوجائے گا اور گویا دھاراوی واسیوں کو ایسی رہائش گاہ ملے گی جس کا انہوں نے تصور نہیں کیا ہوگا۔
اس کے برخلاف دھاراوی بچاؤ آندولن نے مکینوں کو ورغلانے کا نیا حربہ قرار دیا۔ ساتھ ہی۵؍ سوالات قائم کئے کہ جو دھاراوی واسیوں کے بنیادی مطالبات ہیں، اس پر واضح طریقے سے کچھ کیوں نہیں کہا جارہا ہے۔ ہمارا سب سے اہم سوال یہ کہ ہر دھاراوی واسی کو دھاراوی ہی میں مکان اور تاجروں کے لئے روزگار کا نظم کیا جائے، نہ تو کوئی باہر جائے گا اور نہ ہی بے گھر کیا جائے گا مگر اس پر خاموشی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گجرات کے وفد کا جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے دفتر کا دورہ
یہ نئے انداز میں دیا جانے والا دھوکہ ہے
دھاراوی بچاؤ آندولن کے فعال رکن کامریڈ نصیرالحق نے ایکسپیریئنس سینٹر کے قیام کے تعلق سے کہا کہ یہ سیمپل فلیٹ دکھانے اور بنانے کی تجربہ گاہ نہیں بلکہ دھوکے سے پھنسانے کا نیا انداز ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیوں آئے دن نیا نیا انداز اپنایا جارہا ہے اور اب تک کوئی حتمی نتیجہ کیوں اخذ نہیں کیا گیا ہے۔ زور زبردستی، ڈرا دھمکاکر پولیس اور باؤنسر کی مدد سے سروے کرایا جارہا ہے ۔ اگر واقعی اڈانی گروپ اور حکومت دھاراوی واسیوں کی بہی خواہ ہے تو اسے ماسٹر پلان ظاہر کرنے اور ہردھاراوی واسی کو دھاراوی میں بسانے کا اعلان کرنے میں اسے پس وپیش کیوں ہے؟ اسی لئے اس طرح کے نئے نئے حربے آزمائے جارہے ہیں مگر دھاراوی واسی ایکسپیرئنس سینٹر کی حقیقت بھی جانتے ہیں کہ ہاتھی کے دانت دکھانے کے کچھ اور کھانے کے کچھ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ پور: ساگوان کے درختوں کی مبینہ کٹائی، محکمۂ جنگلات نے تحقیقات کا یقین دلایا
یہ ایکسپیرئنس سینٹر بھی۱۵؍ لاکھ جیسا جملہ ہے
دھاراوی بچاؤ آندولن کے سابق ذمہ دار اور اس تعلق سے مسلسل آواز بلند کرنے والے سنجے بھالے راؤ نے کہا کہ یہ ایکسپیرئنس سینٹر بھی۱۵؍ لاکھ کھاتے میں آئیں گے، جیسا جملہ ہے۔ یہ محض دھوکہ دینے کا ایک نیا انداز ہے ۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا دھاراوی واسیوں کو اعتماد میں لیا گیا، ان سے مشورے اور اعتراضات منگوائے گئے، یہ کسی پروجیکٹ کا بنیادی عمل ہے، یہاں تو اڈانی گروپ محض فریب دہی کررہا ہے اور نئے نئے اعلانات کئے جارہے ہیں اور الگ الگ علاقوں میں زمین الاٹ کرواکر دھاراوی واسیوں کو بھگانے کی پلاننگ بھی کی جاچکی ہے۔ ان کےمطابق ایکسپیرئنس سینٹر بناکر ایسی کوشش آنجہانی ایکناتھ گائیکواڑ کے دور میں بھی کی جاچکی ہے مگر وہ کاغذ سے آگے نہیں بڑھ سکی، اس لئے میرا دھاراوی واسیوں کو اب بھی یہی مشورہ ہے کہ ایکسپیرئنس سینٹر دیکھئے، آنند لیجئے، مگر اپنے مستقبل کا فیصلہ اور دستاویزات جمع کرانے کے تعلق سے ٹھوس اور تحریری شکل ہی میں سوچ سمجھ کر کیجئے۔
دھاراوی کیلئےالگ سی ای او کامطالبہ
سنجے بھالے راؤ کے مطابق ہم سب کا یہ مطالبہ ہے کہ دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کیلئے ایس آر اے کے سی او مہیندر کلیانکر کے پاس ممبئی ہی نہیں ریاست بھر کے ایس آر اے کی ذمہ داری ہے ، اس لئے وہ وقت نہیں دے رہے ہیں ، دھاراوی پرو جیکٹ کے لئے الگ سے سی ای او کی تقرری کی جائے تاکہ ہرچیز باریکی سے دیکھ کر فیصلہ کیا جاسکے۔