• Fri, 16 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مایاوتی کا آئندہ اسمبلی انتخابات تنہالڑنے کااعلان

Updated: January 15, 2026, 10:45 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

یوم پیدائش کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میںمیڈیا سےگفتگو کے دوران حریف جماعتوں پر شدید تنقید کی، مسلمانوں اور دیگر طبقات کے ساتھ ناانصافی کا بھی ذکر کیا اور’ای وی ایم‘ پر سوال بھی اٹھائے،وزیراعلیٰ یوگی اور سماجوادی سربراہ اکھلیش یادو نے انہیں سالگرہ کی مبارکباد دی

On the occasion of her 70th birthday, Mayawati also launched the 21st edition of her book `Blue Book`.
اپنی ۷۰؍ویں سالگرہ کے موقع پر مایاوتی نے اپنی کتاب ’بلیو بک‘ کے۲۱؍ویں ایڈیشن کی رونمائی بھی کی

بہوجن سماج پارٹی کی صدراورسابق وزیر اعلیٰ مایاوتی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ ان کی پارٹی ملک بھر میں ہونے والے تمام انتخابات، بشمول ۲۰۲۷ء کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات،تنہا لڑے گی اور ریاست میں مکمل اکثریت کے ساتھ اپنی حکومت بنائے گی۔اپنی  ۷۰؍ویں سالگرہ کے موقع پر لکھنؤ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مایاوتی نے واضح کیا کہ بی ایس پی اس  بار ریاست میں دوبارہ اقتدار میں آنے کیلئے اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی۔
 لکھنؤ میں منعقدہ تقریب میںمیڈیاسے خطاب کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ اس فیصلے پر کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہئے کہ بہوجن سماج پارٹی اتر پردیش کے آئندہ اسمبلی انتخابات اکیلے لڑے گی تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں اگر پارٹی کو یہ یقین ہو جائے کہ کوئی اتحادی جماعت اپنے ووٹ، خاص طور پر اعلیٰ ذاتوں کے ووٹ، مؤثر طریقے سے بی ایس پی کو منتقل کر سکتی ہے تو اتحاد پر مثبت فیصلہ کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسی صورتحال پیدا ہونے میں وقت لگے گا۔
 مایاوتی نے سماجوادی پارٹی کی سابقہ حکومت اور موجودہ بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ دونوں ہی دلتوں اور محروم طبقات کی توقعات پر پورا نہیں اُتریں اور ریاست میں امن و امان کی صورتحال بھی تشویش ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی حالات کے پیش نظر اتر پردیش کے عوام ایک بار پھر بی ایس پی کے چار ادوارِ حکومت کو یاد کر رہے ہیں اور پارٹی کو اقتدار میں واپس لانے کا ارادہ کر چکے ہیں۔  انہوں نے بی جے پی، کانگریس اور سماجوای پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس پی انہیں منہ توڑ جواب دے گی اور ریاست میں پانچویںمرتبہ اپنی حکومت تشکیل دے گی۔
 مایاوتی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مرکز اور ریاست میں آنے والی حکومتیں بی ایس پی کے دور میں شروع کی گئی فلاحی اسکیموں کے صرف نام بدل کر سیاسی فائدہ اٹھا رہی ہیں، جبکہ عوام کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی جماعتیں بی ایس پی کی تحریک کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔دلت لیڈروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ وہ جب تک زندہ اور صحت مند ہیں، دلتوں کے حقوق کے لئےجدوجہد جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ نہ میں جھکوں گی، نہ ہی ڈرائی جا سکتی ہوں۔ میں کانشی رام کی دی ہوئی ذمہ داری کو نبھاتی رہوں گی۔‘‘
 مایاوتی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ماضی کے انتخابات میں دھاندلی اور بے ایمانی ہوئی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بی ایس پی پوری قوت کے ساتھ ملک بھر میں انتخابات لڑتی رہے گی۔ ان کے مطابق ای وی ایم کی مخالفت پورے ملک میں بڑھ رہی ہے۔انہوں نے سابقہ حکومتوں پر بی ایس پی کے بانی کانشی رام کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال پر ’قومی سوگ‘ کا اعلان نہیں کیا گیا۔  مایاوتی نے مسلمانوں اور دیگر طبقات کے ساتھ ناانصافی کا بھی ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی ایس پی کے دور حکومت میں کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا اور تمام طبقات، بشمول یادو برادری، کا خیال رکھا گیا۔
 انہوں نےیہ بھی دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں ایکسپریس ویز اور گوتم بدھ نگر میں زیر تعمیر ہوائی اڈے سمیت بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا خاکہ بی ایس پی کے دور حکومت میں تیار کیا گیا تھا، لیکن اس وقت کی کانگریس قیادت والی مرکزی حکومت کے تعاون نہ کرنے کی وجہ سے یہ منصوبے مکمل نہیں ہو سکے۔
 واضح رہے کہ مایاوتی کی سالگرہ کے موقع پر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی انہیں مبارکباد دی۔اس  کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی کتاب ’بلیو بک‘ کے۲۱؍ویں ایڈیشن کی رونمائی بھی کی۔ اس موقع پر بی ایس پی نے پورے صوبے میں اس دن کو’جن کلیان کاری دیوس‘ کے طور پر منایا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK