مہاراشٹر اسٹیٹ کو آپریٹیو بینک گھوٹالا معاملے میں کلوژر رپورٹ عدالت نے قبول کر لی، روہت پوار کو بھی راحت
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 1:04 AM IST | Mumbai
مہاراشٹر اسٹیٹ کو آپریٹیو بینک گھوٹالا معاملے میں کلوژر رپورٹ عدالت نے قبول کر لی، روہت پوار کو بھی راحت
مہاراشٹر کے مشہور ’مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک‘ گھوٹالہ معاملے میں ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کی جانب سے دائر کردہ کلوژر رپورٹ قبول کر لی ہے۔ ساتھ ہی سماجی کارکن انا ہزارے کی اعتراض پر مبنی عرضی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی مداخلت کی عرضی کو بھی خارج کر دیا گیا ہے۔عدالت کے اس فیصلے سے اس معاملے میں اجیت پوار، سونیترا پوار اور روہت پوار سمیت تقریباً ۷۰؍ ملزمین کو ملنے والی کلین چٹ پر ایک بار پھر مہر لگ گئی ہے۔
خصوصی جج مہیش مادھو نے اقتصادی جرائم کے شعبے کی سی سمری رپورٹ کو منظور کر لیا ہے۔ سی سمری کا مطلب یہ ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات میں کوئی مجرمانہ پہلو سامنے نہیں آیا، اسلئے جن لوگوں کو ملزم بنایا گیا تھا انہیں کلین چٹ دی جاتی ہے۔واضح رہے کہ یہ پورا معاملہ مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک میں ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالے کا ہے۔ اسے اپیکس بینک گھوٹالہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس معاملے میں سال ۲۰۰۷ء سے ۲۰۱۱ء کے درمیان بینک کے اس وقت کے بورڈ آف ڈائریکٹرس پر الزام تھا کہ انہوں نے قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے شوگر ملوں اور ٹیکسٹائل ملوں کو قرضے تقسیم کئے۔ایسے الزامات بھی عائد کئے گئے تھے کہ شوگر فیکٹریاں جو ’این پی اے‘ بن چکی ہیں ان کو دوبارہ قرض دیا گیا۔
یہی نہیں قرض ادا نہ کرنے پر کچھ کارخانے کوڑیوں کے داموں پر ڈائریکٹرس کے رشتہ داروں کے حوالے کر دیئے گئے۔ شکایتوں میں ایسے الزامات عائد کئے گئے تھے، جس سے اپیکس بینک کو ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔قابل ذکر ہے کہ معاملے کی سماعت کے دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹو ریٹ(ای ڈی) نے عدالت میں سخت موقف اپناتے ہوئے اپنی مداخلت کی درخواست کو برقرار رکھنے کیلئے پرزور دلائل دیئے، لیکن ہائی کورٹ نے ای ڈی کی درخواست مسترد کر دی۔ بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد مہاراشٹر اسٹیٹ کوآپریٹو بینک کے معاملے پر اب قانونی طور پر پردہ پڑتا دکھائی دے رہا ہے اور ملزمین کو ملنے والی راحت برقرار رہے گی۔