Updated: February 24, 2026, 5:02 PM IST
| New Delhi
ہندوستان میں بھینس کے گوشت کی برآمدات میں سرِفہرست شمار ہونے والے الانا گروپ کی جانب سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو دیا گیا بڑا سیاسی عطیہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ہندوستان اسلامی ممالک سمیت نئی عالمی منڈیوں میں بیف ایکسپورٹ کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
۲۰۱۴ء کے عام انتخابات کے دوران نریندر مودی نے اُس وقت کی یو پی اے حکومت پر ’’گلابی انقلاب‘‘ کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا تھا، جس کا اشارہ گوشت کی برآمدات میں اضافے کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک میں بڑے پیمانے پر مذبح خانے کام کر رہے ہیں اور مویشیوں کا ذبیحہ بڑھ رہا ہے۔ گائے کے گوشت کی صنعت طویل عرصے سے ہندوتوا سیاست کا حساس موضوع رہی ہے، حالانکہ ہندوستان بنیادی طور پر گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا گوشت برآمد کرتا ہے، جسے بین الاقوامی تجارت میں ’’کارابیف‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی جیلوں میں اعلیٰ عہدوں پر مسلم نمائندگی انتہائی کم
الانا گروپ اور سیاسی عطیہ
۱۶۰؍ سالہ پرانا کاروباری ادارہ Allana Group ہندوستان کے سب سے بڑے بھینس گوشت برآمد کنندگان میں شمار کیا جاتا ہے۔ مختلف تجارتی اور برآمدی رپورٹس کے مطابق کمپنی مشرق وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقی ممالک میں نمایاں سپلائر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس اور انتخابی بانڈ سے متعلق عوامی انکشافات کے مطابق، الانا گروپ نے بی جے پی کو نمایاں مالیت کا عطیہ دیا، جسے گوشت برآمدی شعبے کی جانب سے سب سے بڑی یا نمایاں ترین سیاسی معاونت میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ مکمل سرکاری تفصیلات محدود ہیں، تاہم دستیاب ریکارڈز کے مطابق یہ عطیہ ’’قابلِ ذکر سطح‘‘ کا تھا اور اس نے سیاسی و معاشی حلقوں میں بحث کو جنم دیا۔
ہندوستان کی بیف (بھینس) برآمدات: معاشی تصویر
ہندوستان دنیا کے بڑے بھینس گوشت برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا بھینس گوشت برآمد کرتا ہے۔اہم خریدار ممالک میں مصر، ویتنام، ملائیشیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ یہ شعبہ زرِ مبادلہ، روزگار اور دیہی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سیاسی سطح پر سخت بیانیے کے باوجود، مودی حکومت کے دور میں گوشت برآمدی شعبہ نہ صرف برقرار رہا بلکہ کئی برسوں میں اس میں اضافہ بھی دیکھا گیا۔
نئی منڈیوں کی تلاش
حالیہ برسوں میں ہندوستان نے اسلامی ممالک اور افریقی خطوں میں نئی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ تجارتی وفود، حلال سرٹیفکیشن معیارات اور لاجسٹک انفراسٹرکچر میں بہتری اس حکمت عملی کا حصہ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں بڑے ایکسپورٹرز کی سیاسی وابستگی یا مالی معاونت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا یہ کاروباری مفادات اور حکومتی پالیسیوں کے درمیان ہم آہنگی کی علامت ہے یا محض معمول کی سیاسی فنڈنگ۔
یہ بھی پڑھئے: اے ایس آئی کا تاریخی مساجد میں عبادت کے انتظامات نہ ہونے کا اعتراف
تضاد یا عملی سیاست؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک جانب بی جے پی اور اس سے وابستہ نظریاتی حلقے گائے کے تحفظ اور مذبح خانوں کے خلاف سخت موقف اپناتے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ہندوستان کی بھینس گوشت برآمدات مسلسل جاری اور بعض اوقات بڑھتی رہی ہیں۔ یہ فرق اکثر گائے اور بھینس کے قانونی و مذہبی امتیاز کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، کیونکہ کئی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے، مگر بھینس کی برآمد قانونی ہے۔
ہندوستان کی بیف (بھینس) برآمدی صنعت ایک بڑا زرعی و تجارتی شعبہ ہے، جو عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے۔ ایسے میں سب سے بڑے برآمد کنندگان میں شامل ایک کمپنی کی جانب سے حکمران جماعت کو دیا گیا بڑا عطیہ سیاسی اور معاشی مباحث کو نئی جہت دے رہا ہے۔ یہ معاملہ ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کرتا ہے کہ ہندوستان میں کاروبار، برآمدات اور سیاست کے درمیان تعلقات کس حد تک شفاف اور پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہیں خاص طور پر ایسے شعبے میں جو سماجی اور نظریاتی اعتبار سے حساس سمجھا جاتا ہے۔