ڈی کے شیو کمار کو ریاست کی ذمہ داری ملنا تقریباً طے ، پارٹی کے مرکزی مبصرین بھی بنگلور پہنچ گئے ، سدارمیا بھی ممکنہ طور پر میٹنگ میں شامل ہوں گے
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 7:14 AM IST | Bangalore
ڈی کے شیو کمار کو ریاست کی ذمہ داری ملنا تقریباً طے ، پارٹی کے مرکزی مبصرین بھی بنگلور پہنچ گئے ، سدارمیا بھی ممکنہ طور پر میٹنگ میں شامل ہوں گے
کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کا راستہ اس وقت صاف ہو گیا جب گورنر تھاورچند گہلوت نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ یاد رہے کہ سدارمیا نے ۲۸؍مئی کو وزراء کے ساتھ ’بریک فاسٹ میٹنگ‘ میں استعفیٰ کا اعلان کیا تھا اور پھر لوک بھون پہنچ کر گورنر کے پرائیویٹ سیکریٹری کو وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دینے کا خط سونپ دیا تھا۔ چونکہ گورنر تھاورچند گہلوت بنگلور سے باہر تھے، اس لئے سدارمیا نے استعفیٰ نامہ ان کے پرائیویٹ سکریٹری کے حوالے کیا تھا۔سدارمیا نے اپنا استعفیٰ تو دے دیا تھا لیکن اس بات کو لے کر چہ میگوئیا ں شروع ہو گئی تھیں کہ گورنر یہ استعفیٰ قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ حالانکہ بنگلور پہنچنے کے بعد گورنر نے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے سدارمیا کا استعفیٰ قبول کر لیا اور اس کے ساتھ ہی نئی حکومت کی تشکیل کی سرگرمیاں بھی شروع ہو گئیں۔ حالانکہ گورنر نے آئینی ضرورت کے تحت سدارمیا سے کہا ہے کہ نئی حکومت تشکیل دیے جانے تک وہ اس عہدہ پر برقرار رہیں۔
اب سبھی کی نظریں کانگریس قانون ساز پارٹی کی میٹنگ پر مرکوز ہیں، جس میں نیا لیڈر منتخب کیا جائے گا۔ یہ میٹنگ بنگلور میں آج ہو گی جس میں۱۰۰؍ فیصد امکان ہے کہ ڈی کے شیو کمار کو کانگریس کی قانون ساز پارٹی کا نیا لیڈر منتخب کرلیا جائے جس کے بعد وہ حکومت سازی کا دعویٰ پیش کریں گے۔ اس میٹنگ کے لئے کانگریس پارٹی کے مرکزی مبصرکے سی وینو گوپال اور پارٹی کے کرناٹک امور کے انچارج رندیپ سرجیوالا بھی بنگلور پہنچ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ کرناٹک میں بغیر کسی شور شرابہ یا بدمزگی کے اقتدارکی منتقلی ہو رہی ہے ۔ اس کے لئے جہاں راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے کو کریڈٹ دیا جارہا ہے وہیں سدارمیا کی بھی ستائش ہو رہی ہےکہ انہوںنے پارٹی ہائی کمان کے ایک کہنے پر کرسی چھوڑدی۔