Updated: June 06, 2026, 10:05 PM IST
| San Francisco
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کی سالانہ بلڈ (Build) کانفرنس ایک بار پھر فلسطین حامی مظاہروں کا مرکز بن گئی، جہاں ’’نو ایژور فار اپارتھائیڈ‘‘ (No Azure for Apartheid) نامی گروپ نے سمندر، فضاء اور زمین تینوں محاذوں پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مائیکروسافٹ پر الزام عائد کیا کہ اس کی کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز اسرائیلی فوجی سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔
سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی مائیکروسافٹ کی سالانہ بلڈ کانفرنس مسلسل تیسرے سال فلسطین حامی کارکنوں کے احتجاج کی زد میں آ گئی، جہاں ’’نو ایژور فار اپارتھائیڈ‘‘ نامی مہم کے تحت متعدد مظاہرے کیے گئے۔ احتجاجی سرگرمیوں میں کشتیوں، فضائی بینرز اور زمینی مظاہروں کا استعمال کیا گیا تاکہ کانفرنس کی کارروائیوں میں خلل ڈالا جا سکے اور مائیکروسافٹ پر اسرائیل سے اپنے تجارتی تعلقات ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے۔ مظاہرین نے کانفرنس کے مقام کے قریب کائیکس (Kayaks) کے ذریعے شور پیدا کرنے والا احتجاج کیا، جبکہ ایک طیارے نے فضاء میں ایک بڑا بینر لہرایا جس پر تحریر تھا: ’’Microsoft powers genocide‘‘۔ اس کے علاوہ کانفرنس کے باہر ایسے بینرز بھی آویزاں کیے گئے جن پر ’’Cut ties with Israel now‘‘ اور دیگر نعرے درج تھے۔
احتجاجی گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’مائیکروسافٹ نے نسل کشی اور ہمارے فلسطینی شہداء کے احترام میں دی جانے والی تقاریر کو بلند آواز موسیقی کے ذریعے دبانے کی کوشش کی، لیکن ہمارا پیغام واضح طور پر لوگوں تک پہنچا کہ آپ نسل کشی کو طاقت فراہم کرتے ہوئے خود کو چھپا نہیں سکتے۔‘‘ گروپ نے مزید الزام عائد کیا کہ مائیکروسافٹ کی سیکوریٹی ٹیم نے مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ تنظیم کے مطابق سابق مائیکروسافٹ ملازم پیٹرک فورٹ، جنہوں نے نومبر ۲۰۲۵ء میں مائیکروسافٹ اگنائٹ کانفرنس کے دوران احتجاج کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا، اس بار بھی سیکوریٹی اہلکاروں کی جانب سے دھکے دیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم مائیکروسافٹ کی جانب سے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: سونم وانگچک کے جنتر منتر پہنچنے کے بعد احتجاج میں تیزی، ہجوم میں اضافہ
یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب مائیکروسافٹ حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات اور اس کی ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے شدید جانچ پڑتال کا سامنا کر رہی ہے۔ گزشتہ دنوں سامنے آنے والی ایک داخلی اور بیرونی تحقیقات کے بعد کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق اپنے طریقہ کار کو مزید سخت بنائے گی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس یونٹ ۸۲۰۰؍ نے بعض فلسطینی مواصلاتی ڈیٹا کے تجزیے کے لیے مائیکروسافٹ کی ایژور سروسز استعمال کی تھیں، جس کے بعد کمپنی نے بعض خدمات تک رسائی محدود کر دی اور نئی نگرانی کے اقدامات متعارف کرانے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دوستانہ ۲‘‘ کو ایک اور جھٹکا، ہدایت کار ادویت چندن نے فلم چھوڑ دی
بلڈ کانفرنس کے دوران صرف بیرونی مظاہرے ہی نہیں ہوئے بلکہ متعدد فلسطین حامی کارکنوں نے کانفرنس کے اندر بھی تقاریر میں مداخلت کی۔ ایک فلسطینی ٹیک ورکر نے مائیکروسافٹ کے اعلیٰ عہدیدار جے پاریکھ کی تقریر روک کر نعرہ لگایا: ’’میرے لوگ تکلیف میں ہیں، اسرائیل سے تعلقات ختم کرو، نو ایژور فار اپارتھائیڈ، فلسطین کو آزادی دو۔‘‘ بعد ازاں سیکوریٹی اہلکاروں نے انہیں ہال سے باہر منتقل کر دیا۔ احتجاجی گروپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ’’ہم ایسا کوڈ نہیں لکھیں گے جو لوگوں کو قتل کرے۔ ہم مہلک ٹیکنالوجی کی فروخت اور پھیلاؤ میں سہولت کار نہیں بنیں گے۔‘‘ کارکنوں کا کہنا ہے کہ جب تک مائیکروسافٹ اسرائیلی فوج اور حکومتی اداروں کے ساتھ اپنے معاہدوں کا خاتمہ نہیں کرتی، ان کی احتجاجی مہم جاری رہے گی۔ دوسری جانب مائیکروسافٹ بارہا یہ مؤقف دہرا چکی ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے فراہم نہیں کی جاتی اور کمپنی اپنی مصنوعات کے استعمال کی نگرانی کے لیے مزید سخت اقدامات کر رہی ہے۔