Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی: سونم وانگچک کے جنتر منتر پہنچنے کے بعد احتجاج میں تیزی، ہجوم میں اضافہ

Updated: June 06, 2026, 3:19 PM IST | New Delhi

کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں اُس وقت تیزی آ گئی جب سماجی کارکن سونم وانگچک جنتر منتر پہنچے، جس کے بعد مظاہرین کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔انہوں نے اور ابھیجیت دپکے نے مظاہرین سے خطاب کیا۔

Cockroach Janata Party (CJP) founder Abhijeet Deepke (right), and environmental activist Sonam Wangchuck during the protest. Photo: PTI
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے(دائیں )، اورماحولیاتی کارکن سونم وانگچک احتجاج کے دوران۔ تصویر: پی ٹی آئی

سماجی کارکن سونم وانگچک سنیچرکو جنتر منتر پہنچے تاکہ وہ کوکروچ جنٹا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دِپکے کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لے سکیں۔ سونم وانگچک نے جنتر منتر پر مظاہرین سے خطاب کیا اورنرم لہجہ اختیار کرتے ہوئےکوکروچ جنٹا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کو’ایک درخواست یا اپیل‘قرار دیا۔ وانگچک نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’استعفے سے زیادہ میں چاہتا ہوں کہ حکومت ذمہ داری قبول کرے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت نے اس احتجاج کو نہیں روکا۔ ہمیں امید ہے کہ یہ حکومت مستقبل میں بھی ایسے تخلیقی اور تعمیری اظہار کی اجازت دے گی۔ ‘‘
نوجوانوں کو ہندو-مسلم سیاست میں الجھا کر رکھا گیا ہے: ابھیجیت دپکے
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ احتجاج کا واحد مقصد پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنا ہے۔ دپکے نے کہا’’ہم ایک ماہ سے سوشل میڈیا پر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن یہ لوگ اتنے بے شرم ہیں کہ کارروائی کرنے کے بجائے وہ دوسری توجہ ہٹانے والی چیزوں میں مصروف ہیں، جیسے ہمارے اکاؤنٹس ہیک کرنا اور ہماری پوسٹس ڈیلیٹ کروانا۔ ‘‘انہوں نے کہا’’آپ ہماری پوسٹس حذف کر سکتے ہیں، لیکن ہمیں اس جگہ سے مٹا نہیں سکتے۔ ‘‘’’پچھلے۱۰؍ سے۱۲؍ برسوں سے یہ لوگ ہمیں ہندو-مسلم سیاست میں الجھا کر رکھتے آئے ہیں۔ ‘‘ دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا اور سوال کیا کہ اس سے کس کو فائدہ ہوا۔ انہوں نے پوچھا: ’’کیا ہندو-مسلم سیاست سے کسی کو ملک میں نوکریاں ملی ہیں ؟‘‘دپکے نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ تنظیم کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر توجہ دے رہی ہے بجائے اس کے کہ ان کے مطالبات کا جواب دے۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ مہم ’’کوئی منظم پارٹی نہیں ‘‘ بلکہ ’’طلبہ کا غصہ‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا:’’میری والدہ بہت خوفزدہ تھیں کہ یہ حکومت مجھے جیل میں ڈال دے گی۔ اس ملک میں ہر ماں کو یہ خوف ہوتا ہے جب اس کا بچہ حکومت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔ ‘‘
بتا دیں کہ دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے ہیں تاکہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا جا سکے۔ دہلی پولیس نے احتجاج کی اجازت دے دی تھی، یہ اجازت اس وقت دی گئی جب دِپکے امریکہ سے اندرا گاندھی انٹرنیشنل (IGI) ایئرپورٹ ٹرمینل ۳؍پر پہنچے۔ دِپکے نے مظاہرین سے کہا کہ وہ براہِ راست جنتر منتر پہنچیں اور ساتھ ہی یہ بھی ہدایت دی کہ احتجاج کے مقام پر آئین کی کتاب اور ترنگا (قومی پرچم) ساتھ لائیں۔ 
اس سے پہلے، کچھ مظاہرین جو جنتر منتر کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ کوکروچ جنٹا پارٹی (CJP) کے خلاف کارروائی کی جائے، انہیں دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولیس نے وی آئی پیز کے گھروں کے باہر سیکوریٹی بڑھا دی ہے، جن میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان شامل ہیں، جنہیں مظاہرین کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

ابھیجیت کی قیادت میں ’سی جے پی‘ کا احتجاج شروع، نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک

سنیچر۶؍ جون۲۰۲۶ءکو دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو قومی دارالحکومت کے اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا، کیونکہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی ‘‘( سی جے پی )کے اراکین نے جنتر منتر پر اپنا احتجاج شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق س سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ طنزیہ آن لائن تنظیم’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘کے بانی ابھیجیت دپکے نے، امریکہ سے دہلی پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ ’’جنتر منتر پر سب سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ ‘‘
ابھیجیت دپکے جنتر منتر کے احتجاج میں طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ شامل
ابھیجیت دپکے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے میں سیکڑوں افراد، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، شریک ہوئے۔ بہت سے شرکاء نے کاکروچ کے ماسک پہن رکھے تھے اور ہاتھوں میں پھول اٹھا رکھے تھے۔ احتجاج میں متعدد اسکولی طلبہ بھی اپنے والدین کے ہمراہ موجود تھے۔ شرکاء کی اکثریت اسکول اور کالج کے طلبہ کے ساتھ نوجوان پیشہ ور افراد (Young Professionals) پر مشتمل تھی۔ ابھیجیت دپکےخود بھی اس احتجاج میں شریک ہوئے۔ 

مظاہرین نے ’این ای ای ٹی ‘پرچہ لیک معاملے میں جوابدہی نہ ہونے پر سوال اٹھایا
وشال کمار نامی۲۴؍ سالہ مظاہرین، جو غازی آباد سے تعلق رکھتے ہیں، نےکہا کہ اگر ماضی میں ہونے والے چھوٹے امتحانی پرچہ لیک واقعات کو بروقت روکا جاتا تو شاید این ای ای ٹی جیسے بڑے امتحان میں پرچہ لیک ہونے کی نوبت نہ آتی۔ دہلی میں سی جے پی کے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے وزارتِ تعلیم سے جوابدہی کا مطالبہ کیا اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امتحانی نظام میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں پر مؤثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کا اعتماد متاثر ہوا ہے، اس لئے ذمہ دار افراد کا احتساب ضروری ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: بہار کا پلمبر راتوں رات ارب پتی بن گیا، اکائونٹ میں اچانک ۲۹۴؍ کروڑ روپے آگئے

سونم وانگچک بھی شامل ہوں گے
سونم وانگچک جو لداخ کے۵۹؍ سالہ سماجی کارکن ہیں، پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ وہ اس احتجاج میں شرکت کریں گے۔ وہ گزشتہ سال ستمبر میں لداخ کی خودمختاری کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار ہوئے تھے اور تقریباً چھ ماہ حراست میں رہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا:’’اگر ہم نہیں تو پھر کون؟ اگر اب نہیں تو پھر کب؟ اگر ۵؍جون تک کچھ نہیں بدلا تو میں ۶؍ جون کو دہلی میں سی جے پی کے اراکین کے ساتھ شامل ہوں گا۔ اگر معاملات اتنے خراب ہو جائیں تو کوئی بھی باعزت وزیر استعفیٰ دے گا۔ اس کے اثرات لاکھوں نوجوانوں اور درحقیقت بھارت کے مستقبل پر پڑتے ہیں۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK