Updated: June 06, 2026, 12:08 PM IST
| New Delhi
دہلی کے جنتر منتر پر جاری’’کاکروچ جنتا پارٹی ‘‘( سی جے پی )کے احتجاج میں نوجوانوں اور طلبہ نے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ مظاہرین نے’نیٹ یو جی ‘پرچہ لیک معاملے پر وزارتِ تعلیم سے جوابدہی اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے میں طلبہ اورنوجوان کاکروچ ماسک پہنے ہوئے۔ تصویر: پی ٹی آئی
سنیچر۶؍ جون۲۰۲۶ءکو دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں کو قومی دارالحکومت کے اہم مقامات پر تعینات کر دیا گیا، کیونکہ ’’کاکروچ جنتا پارٹی ‘‘( سی جے پی )کے اراکین نے جنتر منتر پر اپنا احتجاج شروع کر دیا۔ حکام کے مطابق س سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ طنزیہ آن لائن تنظیم’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘کے بانی ابھیجیت دپکے نے، امریکہ سے دہلی پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ ’’جنتر منتر پر سب سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ ‘‘
ابھیجیت دپکے جنتر منتر کے احتجاج میں طلبہ اور نوجوانوں کے ساتھ شامل
ابھیجیت دپکے جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے میں سیکڑوں افراد، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی، شریک ہوئے۔ بہت سے شرکاء نے کاکروچ کے ماسک پہن رکھے تھے اور ہاتھوں میں پھول اٹھا رکھے تھے۔ احتجاج میں متعدد اسکولی طلبہ بھی اپنے والدین کے ہمراہ موجود تھے۔ شرکاء کی اکثریت اسکول اور کالج کے طلبہ کے ساتھ نوجوان پیشہ ور افراد (Young Professionals) پر مشتمل تھی۔ ابھیجیت دپکےخود بھی اس احتجاج میں شریک ہوئے۔
مظاہرین نے ’این ای ای ٹی ‘پرچہ لیک معاملے میں جوابدہی نہ ہونے پر سوال اٹھایا
وشال کمار نامی۲۴؍ سالہ مظاہرین، جو غازی آباد سے تعلق رکھتے ہیں، نےکہا کہ اگر ماضی میں ہونے والے چھوٹے امتحانی پرچہ لیک واقعات کو بروقت روکا جاتا تو شاید این ای ای ٹی جیسے بڑے امتحان میں پرچہ لیک ہونے کی نوبت نہ آتی۔ دہلی میں سی جے پی کے احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے وزارتِ تعلیم سے جوابدہی کا مطالبہ کیا اور دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امتحانی نظام میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں پر مؤثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کا اعتماد متاثر ہوا ہے، اس لئے ذمہ دار افراد کا احتساب ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بہار کا پلمبر راتوں رات ارب پتی بن گیا، اکائونٹ میں اچانک ۲۹۴؍ کروڑ روپے آگئے
سونم وانگچک بھی شامل ہوں گے
سونم وانگچک جو لداخ کے۵۹؍ سالہ سماجی کارکن ہیں، پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ وہ اس احتجاج میں شرکت کریں گے۔ وہ گزشتہ سال ستمبر میں لداخ کی خودمختاری کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں کے دوران گرفتار ہوئے تھے اور تقریباً چھ ماہ حراست میں رہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا:’’اگر ہم نہیں تو پھر کون؟ اگر اب نہیں تو پھر کب؟ اگر ۵؍جون تک کچھ نہیں بدلا تو میں ۶؍ جون کو دہلی میں سی جے پی کے اراکین کے ساتھ شامل ہوں گا۔ اگر معاملات اتنے خراب ہو جائیں تو کوئی بھی باعزت وزیر استعفیٰ دے گا۔ اس کے اثرات لاکھوں نوجوانوں اور درحقیقت بھارت کے مستقبل پر پڑتے ہیں۔ ‘‘