مائیک پومپیو اور ملا عبدالغنی برادر کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے گفتگو

Updated: August 05, 2020, 10:28 AM IST | Agency | Doha

دونوں لیڈروں میں امن مذاکرات اورقیدیوں کی رہائی کے تعلق سے تبادلۂ خیال، طالبان کا بقیہ قیدیوں کو جلد از جلد رہا کرنے پر اصرار

Mike Pompeo - Pic : PTI
مائیک پومپیو ملا برادر سے ویڈیو کانفرنس پر بات کرتے ہوئے ( تصویر: ایجنسی

جنگ بندی اور بم دھماکوں کے درمیان افغانستان میں قیام  امن  کے معاملے  میں نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ پیر کی شام   قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے گفتگو کی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ دونوں لیڈروںنے افغان امن اور قیدیوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا۔
  طالبان کے دوحہ دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’آج شام ، امارت اسلامیہ کے سیاسی نائب اور سیاسی دفتر کے سربراہ جناب ملابرادر اخوند اور ان کے وفد نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ امریکی  خارجہ سیکریٹری مائیک پومپیو سے ملاقات کی۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں نے امارت اسلامیہ کے باقی قیدیوں کی رہائی کو مذاکرات کے آغاز کیلئے اہم سمجھا۔ امریکی وزیر خارجہ نے بھی عید الاضحی کے موقع پر امارت اسلامیہ کے اعلان کردہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔‘طالبان باقی قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کر رہے ہیں کیونکہ حکومت نے ان قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے آئندہ جمعہ کو مشاورتی لویہ جرگہ طلب کیا ہے۔
 افغان حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان کی ’۵؍ ہزار قیدیوں کی فہرست‘ میں چند ایسے افراد شامل ہیں جو سنگین جرائم میں ملوث ہیں، اور اس وجہ سے انہیں اب رہا نہیں کیا جائے گا۔افغان صدر محمد اشرف غنی نے عید الاضحی کے موقع پر کہا تھا کہ بطور صدر ان افراد کو معاف کرنے یا ان کو رہا کرنے کا اختیار  ان کے پاس نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے اس معاملے کو مشاورتی لویہ جرگہ کے حوالے کیا گیا۔ طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے مائیک پومپیو سے بقیہ طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کے بارے میں بات کی ہے۔طالبان کے ایک اور ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کو دیئے گئے  بیان میں کہا ہے کہ طالبان نے پچھلے تین دن میں کہیں بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی اور صرف افغان سیکوریٹی فورس کی چوکیوں کی تعمیر کو روکا تھا۔
 اگرچہ عید کے پہلے دو دن نسبتاً پر امن تھے ، تاہم جلال آباد کی صوبائی جیل پر حملے کے تیسرے دن چار حملہ آوروں کے علاوہ چار افراد ہلاک ہوگئے۔ تاہم ، داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ لیکن افغان صدر محمد اشرف غنی کے ترجمان، صدیق صدیقی نے پیر کو کابل میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو بعد میں معلوم ہوجائے گا کہ حملے کے پیچھے کون تھا۔ یہ جھڑپ اتوار کی شام شروع ہوئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK