نیتن یاہو کےہندوستانی عوام کی حمایت کےدعویٰ پر کانگریس کا جواب، غزہ میں نسل کشی پر مودی کوہدف بنایا، خاموشی پر سوال اٹھایا
EPAPER
Updated: July 06, 2026, 11:57 PM IST | New Delhi
نیتن یاہو کےہندوستانی عوام کی حمایت کےدعویٰ پر کانگریس کا جواب، غزہ میں نسل کشی پر مودی کوہدف بنایا، خاموشی پر سوال اٹھایا
نیتن یاہو کے اس دعویٰ پر کہ ۱ء۴؍کروڑ ہندوستانی اسرائیل کے ساتھ ہیں، پیر کو کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اعلان کیا کہ نیتن یاہو کو ’’موڈانی‘‘ کی حمایت بھلے ہی حاصل ہو مگر کروڑوں ہندوستانی شہری غزہ میں نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں جس میں بچوں تک کو نہیں بخشا گیا ۔ وہ مقبوضہ مغربی کنارہ سے فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کرنے کے بھی خلاف ہیں۔ نیتن یاہو کے دعویٰ پر کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے وزیراعظم مودی کی ’’سنگ دل خاموشی‘‘ کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اسے ہندوستان کی تہذیبی روایت سے غداری قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی سرزنش کرتے ہوئے کہاتھا کہ اسرائیل کے پاس امریکہ کے علاوہ کوئی طاقتور اتحادی نہیں بچا۔اس کے جواب میں یاہو نے دعویٰ کیا کہ انہیں ہندوستان کے ۱ء۴؍ کروڑ عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ پر کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے اس پر تفصیلی ’ایکس‘ پوسٹ کیا ہے کہ’’ نیتن یاہو غلط ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل’موڈانی سلطنت‘ میں اندر تک گھسا ہوا ہے اور نریندر مودی ان کےتئیں اندھی عقیدت رکھتے ہیں لیکن کروڑوں ہندوستانی غزہ میںنسل کشی، جس میں بچوں تک کو نہیں بخشا گیا، مقبوضہ مغربی کنارہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی، ایران پر اسرائیل کی شدید فضائی بمباری، جس میں ٹارگٹ کلنگ بھی شامل ہے اور جنوبی لبنان میں وحشیانہ فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔‘‘کانگریس لیڈر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ’’یہ سب انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ اسرائیل کی ان کارروائیوں پرخود ساختہ، اعزازات کے خواہش مند ’وشو گرو‘ کی خاموشی ہندوستان کی تہذیبی روایات اور اقدار سے غداری ہے اور یہ کسی بھی لحاظ سے قابلِ معافی نہیں۔‘‘
انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کو باعث شرمندگی قراردیتے ہوئےکہا کہ’’ نیتن یاہو کے تعریفی کلمات یا حمایت کا سرٹیفکیٹ اعزاز کی بات نہیں ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ خود عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہیں اور وہائٹ ہاؤس میں موجود وزیر اعظم مودی کے قریبی دوست یعنی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی ان سے ناراض ہیں۔‘‘ ہندوستان کی حمایت کا دعویٰ نیتن یاہو نے فاکس نیوز کے پروگرام’’سنڈے بریفنگ‘‘میں کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ’’ہمارے کچھ اور دوست بھی ہیں، مثلاً ہندوستان ہے جس کی آبادی۱ء۴؍ارب ہے، وہاں ہمیں بے پناہ حمایت حاصل ہے۔‘‘گزشتہ ماہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کا احترام کرنا چاہیے۔اگر میں اسرائیلی حکومت کا رُکن ہوتا تو دنیا میں اپنے واحد طاقتور اتحادی پر حملہ نہ کرتا۔ ‘‘اسی کے جواب میں نیتن یاہو نے ہندوستان کی حمایت کا دعویٰ کیا ہے۔