Inquilab Logo Happiest Places to Work

جون میں اسرائیلی افواج نے مسجد اقصیٰ پر۲۶؍ بار چھاپے مارے: فلسطینی وزارتِ اوقاف

Updated: July 06, 2026, 3:03 PM IST | Jerusalem

فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے انکشاف کیا ہے کہ جون کے دوران اسرائیلی افواج اور آبادکاروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی سمیت دیگر اسلامی مقدسات کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ وزارت نے ان اقدامات کو مذہبی آزادی اور مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کیلئے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

Israeli forces can be seen inside the Al-Aqsa Mosque compound. Photo: INN
مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی فورسیز کو دیکھا جاسکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

اسرائیلی افواج نے جون کے دوران مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے پر ۲۶؍ مرتبہ چھاپے مارے، جبکہ حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی میں ۸۴؍ مواقع پر اذان دینے سے روک دیا۔ یہ بات فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے اتوارکو جاری کردہ ایک بیان میں کہی۔ یہ اعداد و شمار وزارت کی ماہانہ رپورٹ میں شامل ہیں، جس میں گزشتہ ماہ مسجد اقصیٰ اور مسجد ابراہیمی کے خلاف اسرائیلی خلاف ورزیوں کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ 
رپورٹ کے مطابق، جون کے دوران۴؍ ہزار ۲۱۲؍ اسرائیلی آبادکار اسرائیلی پولیس کی سیکوریٹی میں صبح اور دوپہر کے اوقات میں باب المغاربہ کے راستے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔ وزارت نے کہا کہ’’ٹیمپل ماؤنٹ‘‘ سے وابستہ گروہ مسجد اقصیٰ میں دراندازیوں میں اضافے اور مسجد کے اندر’’نئی صورتِ حال‘‘ مسلط کرنے کی اپیلیں کرتے رہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبادکاروں نے مسجد کے احاطے میں تلمودی مذہبی رسومات ادا کیں، جن میں مکمل سجدہ، اجتماعی سجدہ، اجتماعی دعائیں، اور قبة الصخرہ کے سامنے اسرائیلی فوجیوں کیلئے دعائیں شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، ’’یشیوات ہار ہبائیت‘‘(Yeshivat Har HaBayit) نامی مذہبی مدرسے کے سربراہ ربی الیشا وولفسن (Rabbi Elisha Wolfson) نے بھی متعدد مرتبہ آبادکاروں کے ساتھ مسجد کے احاطے میں داخل ہو کر تلمودی رسومات ادا کیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ان شاء اللہ ‘‘مرکزی انگریزی زبان کا حصہ بن چکا ہے، ڈیٹا سے ثابت

وزارت کے مطابق، اسرائیلی افواج نے فلسطینی نمازیوں پر عائد پابندیوں میں بھی اضافہ کیا، خصوصاً جمعہ کو، جب وہ خطبے اور نماز کے دوران قبلی مصلیٰ اور قبة الصخرہ کے اطراف میں داخل ہوئیں اور مسجد کے دروازوں پر سخت پابندیاں نافذ کیں۔ الخلیل میں واقع مسجد ابراہیمی کے حوالے سے وزارت نے کہا کہ جون کے دوران۹۵۰؍ اسرائیلی فوجی مسجد میں داخل ہوئے، جبکہ۸۴؍ مرتبہ اذان دینے سے روکا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی حکام نے۲۰۲۵ءکے آغاز سے مسجد کا مشرقی دروازہ بند رکھا ہوا ہے، کھڑکیوں کو ترپال سے ڈھانپ دیا ہے، اوقاف کے ملازمین کیلئے گیٹ نمبر ۷؍بند کر رکھا ہے، اور نمازیوں و عملے پر مختلف پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

یہ بھی پرھئے: آبنائے ہرمز: جہازوں کے گزرنے کی فیس لیں گے مگر اتحادی ملکوں کے ساتھ مختلف رویہ

وزارت نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام نے فلسطینی وزارتِ اوقاف یا بلدیہ الخلیل سے مشاورت کئے بغیر مسجد کے مرکزی صحن پر چھت نصب کر دی۔ مزید یہ کہ مسجد کے ڈائریکٹر اور نگرانوں کے سربراہ کو گرفتار کر کے ۱۲؍دن کیلئے مسجد میں داخلے سے روک دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی دیگر مساجد بھی اسرائیلی کارروائیوں سے محفوظ نہیں رہیں۔ وزارت کے مطابق، رام اللہ کے شمال میں واقع قصبوں جلجلیا اور المزرعہ النوبانی کی دو مساجد کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی آبادکاروں کے گروہوں نے الخلیل کے علاقے جباری میں واقع مسجد الرأس میں داخل ہو کر مسجد کی دیواروں اور چھتوں پر اسرائیلی پرچم لہرائے، صحن میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے عبرانی گانے چلائے، اور نمازیوں کو مسجد تک پہنچنے سے روکا۔ وزارتِ اوقاف نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے، اسلامی مقدسات کے تحفظ کو یقینی بنانے، اور ان کے تاریخی و قانونی تشخص کو برقرار رکھنے کیلئے مؤثر اقدامات کریں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK