اسرائیلی جیل میں قید غزہ اسپتال کے ڈائریکٹر کی جان کو خطرہ لاحق ہے، ایسا دعویٰ ان کے وکیل کی جانب سے کیا گیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حسام ابو صفیہ کے جسم پر ظاہری چوٹیں اور حالیہ جیل ملاقات کے دوران صحت میں خطرناک حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 10:28 PM IST | Jerusalem
اسرائیلی جیل میں قید غزہ اسپتال کے ڈائریکٹر کی جان کو خطرہ لاحق ہے، ایسا دعویٰ ان کے وکیل کی جانب سے کیا گیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حسام ابو صفیہ کے جسم پر ظاہری چوٹیں اور حالیہ جیل ملاقات کے دوران صحت میں خطرناک حد تک کمی دیکھی گئی ہے۔
غزہ پٹی کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ، جو۲۰۲۴ء سے اسرائیل کی حراست میں ہیں، اپنی جان کو لاحق فوری خطرے کا سامنا کر رہے ہیں ،یہ بات فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے سنیچر کو کہی۔فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ اس کے وکیل ناصر عودہ نے ۲؍ جولائی کو نتزان جیل میں ریکفیٹ حراستی مرکز میں ابو صفیہ سے ملاقات کے دوران سنگین چوٹوں، جسمانی تشدد کے نشانات، سانس لینے میں دشواری اور بار بار بے ہوشی کے واقعات کو دستاویزی شکل دی، جیسا کہ ہفتہ کو فلسطینی نیوز ایجنسی وفا نے رپورٹ کیا۔عودہ نے کہا کہ ابو صفیہ کو ملاقات میں ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں ڈال کر لایا گیا اور نقاب پوش جیل محافظوں کے ساتھ تھے۔اطلاعات کے مطابق ان کے سر، آنکھوں، کانوں اور گردن کے گرد تازہ زخم اور شدید چوٹ کے نشانات تھے، اور عودہ نے کہا کہ ان کی جسمانی حالت اتنی بگڑ چکی تھی کہ انہیں پہچاننا مشکل تھا۔
بعد ازاں فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل نے ابو صفیہ اور دیگر ڈاکٹروں کو جو بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید ہیں، فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ دہرایا۔ تنظیم کے قیدیوں اور نظربندوں کے شعبے کے سربراہ ناجی عباس نے کہا کہ تازہ ترین انکشاف نے ابو صفیہ کی زندگی پر شدید اور فوری خدشات پیدا کردئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وکیل کا بیان جنگ کے آغاز سے اب تک تنظیم کو موصول ہونے والی انتہائی پریشان کن شہادتوں میں سے ایک ہے، اور بتایا کہ ابو صفیہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ حراست میں مارے جا سکتے ہیں۔عباس نے مزید کہا کہ ابو صفیہ کی حالت اس وقت بگڑی جب انہوں نے عدالت میں اپنی حراست کو چیلنج کیا، اور کہا کہ یہ پیش رفت فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا تقاضا کرتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی حکام تمام قیدیوں کی صحت، حفاظت اور بہبود کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں،جس کے بعد انہوں نے فوری بین الاقوامی مداخلت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے خود کواسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا باس قرار دیا، اگلے ملاقات کی تصدیق
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے۲۷ء دسمبر۲۰۲۴ء کو کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ کو اسپتال پر حملہ کرکے حراست میں لیا تھا۔ جبکہ ابو صفیہ۲۴؍ نومبر۲۰۲۴ء کو اسپتال کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں زخمی ہوئے تھے لیکن انہوں نے جانے سے انکار کر دیا اور مریضوں کا علاج جاری رکھا، حالانکہ۲۶؍ اکتوبر۲۰۲۴ء کے ایک اسرائیلی حملے میں ان کا بیٹا شہید ہو گیا تھا۔ فروری۲۰۲۵ء میں، جب تشدد اور طبی لاپرواہی کی اطلاعات سامنے آئیںتو اسرائیلی حکام نے ابو صفیہ کو غیر قانونی جنگجو قرار دیا ۔ بعد ازاں فلسطینی قیدیوں کے میڈیا آفس نے۳؍ جون۲۰۲۶ء کو اعلان کیا کہ انہیں تنہائی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔