Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل: کورٹ کا حکومت کو غزہ کے ۱۴؍ ڈاکٹروں کی حراست پر جواب داخل کرنے کا حکم

Updated: July 06, 2026, 8:58 PM IST | Tel Aviv

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے حکومت کو غزہ سے گرفتار کیے گئے ۱۴؍ فلسطینی ڈاکٹروں کی مسلسل حراست سے متعلق درخواست پر منگل تک جواب جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ اسرائیل میں قائم تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس (PHR) کا کہنا ہے کہ تمام ڈاکٹر بغیر فردِ جرم یا مقدمے کے قید ہیں۔ درخواست میں کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی اور ان کی مبینہ تشدد زدہ حالت پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

Dr. Hussam Abu Safia. Photo: X
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ غزہ سے گرفتار کیے گئے ۱۴؍ فلسطینی ڈاکٹروں کی حراست سے متعلق درخواست پر منگل تک اپنا جواب عدالت میں جمع کرائے۔ اسرائیل میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس (PHR) کے مطابق، یہ تمام ڈاکٹر کئی ماہ سے بغیر کسی فردِ جرم یا باقاعدہ مقدمے کے اسرائیلی حراست میں رکھے گئے ہیں۔ تنظیم نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے حکومت سے ان ڈاکٹروں کی گرفتاری اور مسلسل حراست کی قانونی حیثیت پر وضاحت طلب کی ہے۔ درخواست میں شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا معاملہ خصوصی طور پر اٹھایا گیا ہے، جن کے بارے میں ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ انہیں دورانِ حراست بار بار جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایسے حالات میں رکھا گیا جو ان کی صحت کے لیے شدید خطرناک ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مضبوط سینے اور کمر کے پٹھے دل کے دورے کا خطرہ کم کر سکتے ہیں: اے آئی تحقیق

پی ایچ آر کے مطابق یہ درخواست ۳۰؍ اپریل کو سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم حکومت نے متعدد مرتبہ جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی۔ بعد ازاں عدالت نے مزید تاخیر روکنے کے لیے منگل تک حتمی جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کے وکیل ناصر عودہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کو دورانِ حراست متعدد بار تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید جسمانی چوٹیں آئیں، جبکہ ان کی صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔ درخواست میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ ایک جج، ایک ماہرِ امراضِ قلب اور وکلاء پر مشتمل ٹیم کو حراستی مرکز میں جا کر ڈاکٹر ابو صفیہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی جسمانی حالت اور حراستی حالات کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔ پی ایچ آر کا مؤقف ہے کہ بغیر فردِ جرم یا مقدمے کے طبی عملے کی طویل حراست بنیادی قانونی اور انسانی حقوق کے اصولوں سے متصادم ہے، جبکہ درخواست گزاروں نے عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK