Updated: May 13, 2026, 7:48 AM IST
| New Delhi
یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی پرچہ لیک ہوچکا ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے یقین دلایا تھا کہ ہر ممکن احتیاط برتی جائیگی پھر بھی پرچہ بیچ کر پیسہ کمانے والوں کو روکانہیں جاسکا ،
ایجنسی صفائی دے رہی ہے، جانچ میں تعاون کا یقین دلا رہی ہے مگر طلبہ کو جو شدید ٹھیس پہنچی اُس کا کیا؟ جانچ سی بی آئی کے سپرد، ’’ماسٹر مائنڈ گرفتار‘‘ اس کے باوجود درجنوں سوال اپنی جگہ قائم
پرچہ لیک ہونے اور امتحان منسوخ ہونے کے بعد طلبہ میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔ زیر نظر تصویر دہلی میں این ایس یو آئی کے مظاہرہ کی ہے (پی ٹی آئی)
گزشتہ روز اُس وقت پورے ملک میں تہلکہ مچ گیا جب نیٹ کا امتحان منعقد کرنے والے ادارہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے ۳؍ مئی کانیٹ امتحان منسوخ کردیا اور اعلان کیا کہ طلبہ کو دوبارہ امتحان دینا ہوگا۔ اس سے افرا تفری مچ گئی اور طلبہ تنظیموں کے علاوہ اپوزیشن کی کم و بیش ہر پارٹی نے غم و غصہ کا اظہار کیا۔
این ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل ابھیشیک سنگھ کے مطابق: ’’ہم نے طلبہ اور والدین کو یقین دلایا تھا کہ امتحان میں کسی بھی بدنظمی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔ سوال یہ نہیں ہے کہ پرچہ کسی ایک جگہ پر افشاء ہوا بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ضابطہ کی خلاف ورزی ہوئی؟ تو مَیں کہوں گا کہ ہاں ہوئی، اب ہم کوشش کرینگے کہ کم سے کم وقت میں دوبارہ امتحان لیا جائے۔ ہماری یہ بھی کوشش ہوگی کہ جو بے ضابطگی ہوئی وہ دوبارہ نہ ہو۔‘‘ابھیشیک سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ’’ہم نے ۳؍ مئی کے امتحان کیلئے ہر زاویئے سے تیاری کی تھی کہ شفافیت کے ماحول میں امتحان ہو۔ اس کیلئے ۱۲۰؍ ٹیلی گرام چینلوں کو بلاک کیا گیا اور طلبہ سے اپیل کی گئی تھی کہ اگر کوئی شخص یا گروہ امتحان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے تو وہ اس کا شکار نہ ہوں۔‘‘
سی بی آئی کے حوالے، ایف آئی آر درج
حکومت نے پرچہ لیک معاملے کی سی بی آئی جانچ کا حکم دے دیا ہے جس کے بعد اس مرکزی تفتیشی ایجنسی نے ایف آئی آر درج کی اور چھان بین شروع کردی ہے۔ این ٹی اے نے کہا کہ وہ سی بی آئی کو ہر ممکن تعاون دے گی ۔ این ٹی اے کے بقول: ’’ہمیں احساس ہے کہ دوبارہ امتحان کی وجہ سے طلبہ کو بڑی زحمت ہو گی اس کے باوجود دوبارہ امتحان کا فیصلہ اس لئے کیا گیا تاکہ طلبہ کو ’اس سے بڑے اور دیر پا اثرات کے حامل نقصان‘ سے بچایا جائے اور اکزامنیشن سسٹم پر طلبہ اور والدین کا اعتماد برقرار رہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ ’’گیس پیپر‘‘ (امکانی پرچہ) لیک ہوا جس میں ۱۰۰؍ سے ۱۳۵؍ سوال وہی تھے جو امتحان کے اصل پرچے میں پوچھے گئے۔ کیمسٹری کے ۱۰۰؍ سوالوں کے علاوہ بایولوجی کے بھی کچھ سوال اصل پرچے میں موجود تھے۔ پیپر لیک پر اظہار تشویش کرنے والوں کا کہنا تھا کہ جو سوال افشاء ہونے والے پرچے میں تھے اور جو اصل امتحان میں پوچھے گئے وہ کم و بیش ۶۰۰؍ مارکس کے تھے، افشاء شدہ پرچہ امتحان سے ۴۲؍ گھنٹے پہلے ٹیلی گرام اور واٹس ایپ پر پہنچا تھا۔
ماسٹر مائنڈ گرفتار، ناسک سے بھی ایک گرفتاری
موصولہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ منیش یادو نامی ایک شخص کو جے پور میں حراست میں لیا گیا جو ممکنہ طور پر ’’ماسٹر مائنڈ‘‘ ہے۔ راجستھان پولیس کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے ناسک پولیس نے بھی ایک شخص کو حراست میں لیا ہے جہاں کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کرن کمار چوان کے بقول ’’ملزم نے اپنا حلیہ بدل لیا تھا تاکہ پولیس کی گرفت سے بچ جائے جس کی وجہ سے ابتداء میں دشواری ہوئی مگر تکنیکی شواہد اور سرویلانس سسٹم کی مدد سے اُسے گرفت میں لے لیا گیا۔‘‘
پولیس نے ہنوز اس کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ اُسے راجستھان پولیس کے حوالے کیا جائیگا۔
۲۳؍ لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے
۳؍ مئی کے امتحان میں ملک بھر سے کم وبیش ۲۳؍ لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے جن کی اکثریت کیلئے امتحان کی منسوخی بڑا صدمہ ہے۔ پرچہ خریدنے والے جو بھی ہوں مگر ان کی وجہ سے بیشتر طلبہ جو سنجیدہ اور محنتی ہیں، اس کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہیں۔ اِن کے پاس نہ تو لیک ہونے والا پرچہ پہنچا نہ ہی اُنہوں نے ایسے کسی پرچے کے حصول کی فکر کی۔ ان میں سے بیشتر نے مہینوں پڑھائی کی جبکہ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس سخت ترین امتحان کیلئے اس سے بھی زیادہ وقت صرف کیا۔ یہ اچانک صدمہ طلبہ کیلئے ذہنی دباؤ کا سبب بنے گا اور غیر یقینی حالات کا اندیشہ پیدا کریگا، اسی لئے والدین اور دیگر متعلقین پر لازم ہے کہ وہ طلبہ کو سمجھائیں، دوبارہ امتحان کیلئے اُن کو حوصلہ دیں۔
سوالات کی سونامی
پیپر لیک اور امتحان منسوخی سے کئی سوال پیدا ہوئے ہیں کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی پرچے لیک ہوئے جس کا معنی یہ ہے کہ نیٹ امتحان کے طریقہ ٔ کار میں ایسے نقائص موجود ہیں جن کا فائدہ اُٹھا کر بعض عناصر لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں اور خود مالامال ہوتے ہیں۔
طلبہ کیا کریں؟
زیادہ کچھ سوچنے اور افسوس کرنے کے بجائے پڑھائی دوبارہ شروع کردیں۔ تمام اہم ابواب (ہائی ویٹیج چاپٹرس) کا ازسرنو مطالعہ کریں۔ اپلی کیشن لاگ اِن کی تفصیل اپنے پاس رکھیں۔ دوبارہ امتحان کی تاریخ کے اعلان پر نظر رکھیں۔