Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ واضح  ملی بھگت ، چھپانے کی کوشش بھی نہیں ‘‘

Updated: May 13, 2026, 7:36 AM IST | New Delhi

بنگال کےایس آئی آر میں کلیدی رول اد اکرنےوالے  انتخابی افسران کو وزیراعلیٰ کا مشیر اور چیف سیکریٹری مقرر کرنے پر اپوزیشن بی جےپی پر حملہ آور

Manoj Agarwal, who was the Chief Electoral Officer
منوج اگروال جو چیف الیکٹورل آفیسر تھے

بنگال میں پہلے ایس آئی  آر پھر انتخابات میں کلیدی رول اد اکرنے والے الیکشن کمیشن کےاعلیٰ افسران کی وزیراعلیٰ کے چیف سیکریٹری اور مشیر مقرر کئے جانے پر اپوزیشن  نے اسے ’’ملی بھگت‘‘   کا کھلا ثبوت قرار دیا ہے۔    ۹؍ مئی کو حلف برداری کے دن ہی ایس آئی آر میں الیکشن کمیشن  کے خصوصی مشیر کے طور پرکام کرنے والے سبرتا گپتا کو وزیراعلیٰ کا مشیر خاص مقرر کر دیا گیا تھا۔ پیر کو بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو ریاست کا چیف سیکریٹری بنا دیا گیا۔
 ان الزامات کےبیچ کہ الیکشن کمیشن  نے بنگال میں بی جےپی کو کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے، یہ تقرریاں  غیر معمولی طور پراہم ہوجاتی ہیں۔ لوک سبھا میں  اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منوج اگروال اور سبرتا گپتا  کی تقرری کی خبر شیئر کرتے ہوئے ایکس پوسٹ کیا ہے کہ ’’بی جے پی- الیکشن کمیشن کے’چوروں کے بازار‘ میں جتنی بڑی چوری، اتنا بڑا انعام۔‘‘
 کانگریس کے جنرل سیکریٹری  جے رام رمیش نے کہا ہے کہ ’’ تقرریاں الیکشن کمیشن اور بی جے پی کے درمیان کھلے عام ملی بھگت اور سازباز کو ظاہر کرتی ہیں۔ اب تو اس گٹھ جوڑ کو چھپانے یا پردے میں رکھنے کی کوشش بھی نہیں کی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں  نے کہاکہ یہ تقرریاں  ثبوت ہیں کہ الیکشن کمیشن غیر جانبدار نہیں تھا اور صرف بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کام کر رہا تھا۔
  ترنمول کانگریس کے ایم پی کیرتی آزاد نے  کہاکہ’’یہ بالکل واضح ہے کہ بنگال میں کل یگ کا رام راج چل رہا ہے۔ ہمیں شروع سے معلوم تھا کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر چال چل رہے ہیں۔انہوں نے اکثریتی ووٹوں سے نہیں بلکہ چال بازی  سے کامیابی حاصل کی ہے۔‘‘ ٹی ایم سی کی  ایک اور رکن  پارلیمان ساگوریکا گھوش نے کمیشن کی غیر جانبداری  پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ’’بنگال  الیکشن میں الیکشن کمیشن کے ساتھ بطور مبینہ’غیر جانبدار امپائر‘ کام کرنے والے افسران، جنہوں نے لاکھوں ووٹرس کے نام کاٹے اب بنگال میں بی جے پی حکومت میں اعلیٰ  عہدوں  پر  فائز کئے جارہے ہیں

 انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ  احسان کے بدلے احسان کا معاملہ ہے؟ کیا اب  بھی کوئی  یہ یقین کرتا ہے کہ۲۰۲۶ء کے بنگال اسمبلی انتخابات آزادانہ اور منصفانہ تھے؟ ملک کو یہ سوال پوچھنے کا حق ہے۔‘‘
  اس کے جواب میں وزیراعلیٰ  شوبھندو ادھیکارنے منگل کو کہاکہ ’’ وہ (اگروال ) صرف سابق چیف الیکٹورل آفیسر نہیں بلکہ ریاست کے سب سے سینئر سرکاری افسر بھی ہیں۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو دوسروں سے بات کرے۔ ہمقانون کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘ شاہنواز حسین نے کہا ہے کہ ’’تو کیا ہمیں ان تقرری سے پہلے ترنمول کانگریس سے مشورہ کرنا چاہیے تھا؟‘‘انہوں نے کہا کہ’’حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ بنگال کا چیف سیکریٹری کون ہوگا۔ منوج اگروال قابل اور تجربہ کار افسر ہیں۔ کیا یہ عہدہ کسی ترنمول کانگریس کارکن کو دے دینا چاہیے تھا؟‘‘تاہم ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر نے بنگال سے نکلنےوالے انگریزی اخبار  ’’دی ٹیلیگراف‘‘ سے بات  چیت میں بتایا کہ انہیں یاد نہیں کہ اس سے پہلے کبھی کسی ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کو نئی ریاستی حکومت کا چیف سیکریٹری بنایا گیا ہو تاہم حالیہ برسوں میں  الیکشن کمیشن کے افسران کو دیگر ریاستوں کی بیوروکریسی میں عہدے دینے کا رجحان بڑھا ہے۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK