Updated: May 12, 2026, 10:10 PM IST
| New delhi
وزارت شماریات اور پروگرام نفاذ (MoSPI) کے لیبر فورس سروے (پی ایل ایف ایس) کے مطابق ہندوستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری جنوری تا مارچ سہ ماہی میں بڑھ کر ۱۵؍ فیصد ہو گئی، جو گزشتہ چار سہ ماہی کی بلند ترین سطح ہے۔ نوجوان خواتین میں بے روزگاری ۷ء۱۷؍ فیصد تک پہنچ گئی جبکہ مردوں میں یہ ۱۴؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ہندوستان میں Ministry of Statistics and Programme Implementation کی جانب سے جاری کردہ لیبر فورس سروے (PLFS) نے ہندوستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری کے حوالے سے تشویشناک تصویر پیش کی ہے۔ سروے کے مطابق جنوری تا مارچ ۲۰۲۶ء کی سہ ماہی میں۱۵؍ سے ۲۹؍ برس کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر ۱۵؍ فیصد ہو گئی، جو گزشتہ چار سہ ماہی کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۵ء کی سہ ماہی میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح ۳ء۱۴؍ فیصد تھی۔ نوجوان خواتین میں صورتحال مزید سنگین دیکھی گئی جہاں بے روزگاری ۶ء۱۶؍ فیصد سے بڑھ کر ۷ء۱۷؍ فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ نوجوان مردوں میں یہ شرح ۵ء۱۳؍ فیصد سے بڑھ کر ۱۴؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے : ملک میں خام تیل کے۶۰؍ دن اور ایل پی جی کے ۴۵؍ دن کے ذخائر موجود: ہردیب سنگھ پوری
پی ایل ایف ایس کے ’’کرنٹ ویکلی اسٹیٹس‘‘ (CWS) طریقۂ کار کے مطابق، اگر کسی شخص نے حوالہ ہفتے کے دوران ایک گھنٹہ بھی کام نہ کیا ہو لیکن وہ کام کے لیے دستیاب یا متلاشی ہو تو اسے بے روزگار تصور کیا جاتا ہے۔ اسی پیمانے کے مطابق ۱۵؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں مجموعی بے روزگاری کی شرح بھی ۸ء۴؍ فیصد سے بڑھ کر ۵؍ فیصد ہو گئی۔ رپورٹ میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان نمایاں فرق بھی سامنے آیا۔ شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح معمولی کمی کے ساتھ ۷ء۶؍ فیصد سے گھٹ کر ۶ء۶؍ فیصد رہی، تاہم دیہی علاقوں میں بے روزگاری ۴؍ فیصد سے بڑھ کر ۳ء۴؍ فیصد تک پہنچ گئی۔معاشی ماہرین نے اس اضافے کی مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ وی پی سنگھ جو گریٹ لیکس انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، گڑگاؤں میں اکنامکس کے ڈائریکٹر ہیں، نے کہا کہ نوجوانوں میں مہارتوں کی کمی روزگار کے بحران کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، خاص طور پر جین اے آئی، اور عالمی جغرافیائی کشیدگی نے بھی نئی ملازمتوں کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : بھوج شالہ-کمال مولا مسجد تنازع میں مسلم فریق نے اے ایس آئی کی تحقیقات کو چیلنج کیا
رپورٹ میں لیبر فورس پارٹیسپیشن ریٹ (LFPR) بھی تقریباً جمود کا شکار دکھائی دیا۔ قومی سطح پر ایل ایف پی آر معمولی کمی کے ساتھ ۸ء۵۵؍ فیصد سے ۵ء۵۵؍ فیصد پر آ گیا، جبکہ خواتین کی شرکت کی شرح ۹ء۳۴؍ فیصد سے کم ہو کر ۷ء۳۴؍ فیصد رہی۔ اسی طرح ورکر پاپولیشن ریشو (WPR) بھی ۱ء۵۳؍ فیصد سے گھٹ کر ۸ء۵۲؍ فیصد ہو گیا۔ دیہی علاقوں میں ملازمتوں کے ڈھانچے میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔ باقاعدہ اجرت یا تنخواہ دار ملازمین کا تناسب ۸ء۱۴؍ فیصد سے بڑھ کر ۵ء۱۵؍ فیصد ہو گیا، جبکہ خود روزگار افراد کی تعداد ۲ء۶۳؍ فیصد سے کم ہو کر ۵ء۶۲؍ فیصد رہ گئی۔
سیکٹرل تقسیم کے لحاظ سے دیہی علاقوں میں زراعت اب بھی سب سے بڑا شعبہ رہا، تاہم اس میں کام کرنے والوں کا تناسب ۵ء۵۸؍ فیصد سے کم ہو کر ۸ء۵۵؍ فیصد رہ گیا۔ اس کے برعکس ثانوی شعبے، جس میں مینوفیکچرنگ اور کان کنی شامل ہیں، کا حصہ ۹ء۲۰؍فیصد سے بڑھ کر ۶ء۲۲؍ فیصد ہو گیا، جبکہ خدمات کے شعبے کا حصہ بھی ۶ء۲۰؍ فیصد سے بڑھ کر ۷ء۲۱؍ فیصد تک پہنچ گیا۔ شہری علاقوں میں ملازمتوں کی تقسیم نسبتاً مستحکم رہی، جہاں زیادہ تر افراد خدمات کے شعبے سے وابستہ پائے گئے۔ قومی دفتر برائے شماریات کے مطابق وزارت صحت و خاندانی بہبود کے آبادیاتی تخمینوں کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا کہ اس سہ ماہی کے دوران ملک میں ۱۵؍ برس یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً ۵۷۴؍ ملین افراد برسرِ روزگار تھے، جن میں ۴۰۲؍ ملین مرد اور ۱۷۲؍ ملین خواتین شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھئے : دہلی ہائی کورٹ نے پرسار بھارتی سے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کی نشریات سے متعلق درخواست پر جواب طلب کیا
یہ سروے مجموعی طور پر ۵؍ لاکھ ۶۱؍ ہزار ۸۲۲؍ افراد پر مشتمل تھا اور یہ سلسلہ وار جاری ہونے والے سہ ماہی پی ایل ایف ایس کا چوتھا ایڈیشن ہے، جس میں دیہی اور شہری علاقوں کے لیے الگ الگ تخمینے فراہم کیے گئے ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نہ صرف معیشت بلکہ سماجی استحکام کے لیے بھی بڑا چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہندوستان خود کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شمار کرتا ہے۔