میراروڈ :مستحق طلبہ کوسرکاری اسکالرشپ اسکیموں کا فائدہ پہنچانے کی کوشش

Updated: August 20, 2022, 9:11 AM IST | sajid Shaikh | Mumbai

دیگر غیرسرکاری تنظیموں اور اداروں کی طرح ’اسٹار فاؤنڈیشن‘ بھی والدین میں اس تعلق سے بیداری لانے کیلئے تگ ودو کررہی ہے

Information about scholarship schemes is being given to parents and students in Star Foundation office.
اسٹار فاؤنڈیشن کے دفتر میں والدین اور طلبہ کو اسکالرشپ اسکیموں کی معلومات دی جارہی ہے ۔ (تصویر: انقلاب)

  معاشی طور پر کمزور اورمستحق طلبہ کیلئےمرکزی و صوبائی  حکومتوں کی اسکالرشپ اسکیموںکی  معلومات کی کمی کے باعث بہت سے ضرورتمند طلبہ ان سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ جاتے ہیں اور  اسکولوں کی بھاری بھرکم فیس کی وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیںیا فیس کی ادائیگی میں مدد کیلئے ایک ٹرسٹ سے دوسرے ٹرسٹ کا چکر لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر بہت سی غیر سرکاری تنظیمیں لوگوں کو مدد کرتی ہیں جن میں میراروڈ کی’ اسٹار فاؤنڈیشن ‘نامی غیر سرکاری تنظیم بھی شامل ہے جو کئی برس سے لوگوں میں اس تعلق سے بیداری لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وہ ورکشاپ منعقد کرتی ہے اور ویڈیو پیغام کے ذریعے بھی لوگوں کو بیدار کیا جاتا ہے ۔ورکشاپ میں اسکالر شپ کی تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں اور اس کیلئے درکار دستاویزات کی تیاری میں مدد کی جاتی ہے ۔               
 اسٹار فاؤنڈیشن کے قیام کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اس کے روح رواں ڈاکٹر دانش لامبے نے بتایا کہ وہ  زمانہ طالب علمی میں تعلیمی اخراجات کی تکمیل کیلئے پریشان رہتے تھے اس وقت انہیں سرکاری اسکیموں کے بارے میں بتانے والا کوئی نہیں تھا اس لئے انہوں نے اسٹار فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی تاکہ کوئی بھی طالب علم اسکالرشپ کے حصول کیلئے پریشان نہ ہو ۔ ۲۰۰۷ء میں اسٹار فاؤنڈیشن رائے گڑھ ضلع کے ایک تعلقہ سے شروع ہوئی اور اب ۱۶  ؍اضلاع تک پہنچ گئی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ سرکار سے ملنے والی مراعات اور فوائد راست مستحق افراد تک پہنچے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی این جی او سرکار کے رائٹ ٹو ایجوکیشن پر بھی کام کرتی ہے اس کے علاوہ میڈیکل کالج کیلئے داخلہ ٹیسٹ نیٹ، انجینئرنگ کا داخلہ ٹیسٹ جے ای ای ، یونین پبلک سروس کمیشن اور مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن  سمیت سبھی مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری میں مدد کی جاتی ہے۔ ہم نے حکومت کی جانب سے ایک اسٹڈی سینٹر حاصل کیا ہے جہاں لاکھوں روپے کا امتحانی مواد صرف چند ہزار روپے میں فراہم کیا جاتا ہے ۔            
   ڈاکٹر دانش لامبےکے مطابق  اسکالرشپ کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ جولائی تا نومبر مرکزی حکومت کی اسکیم کا وقت ہوتا ہے جبکہ نومبر تا اپریل ریاستی حکومت کی اسکیمیں آتی ہیں ۔کسی ایک اسکیم میں ہی درخواست دی جا سکتی ہے۔ایک  والدین کے زیادہ سے زیادہ دو بچوں کو اسکالرشپ ملتی ہے۔  اس سلسلے میں درکار دستاویزات کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آمدنی سرٹیفکیٹ اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔  آمدنی سرٹیفکیٹ اسکالرشپ کے حصول کے علاووہ میڈیکل خرچ ،مہاتما جیوتی با پھلے آروگیہ یوجنا ،راشن کارڈ  اورنرادھار یوجنا میں بھی کام آتا ہے۔ دستاویزات کی تیاری میں والدین کا تعاون کیا جاتا ہے، انہیں مشورہ دینے اور معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی طور  پر کمزور والدین کی مدد کی جاتی ہے۔ عموماً غریب لوگ کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔ اُن کے پاس رہائشی ثبوت نہیں ہوتے اس لئے ان کے پاس بہت سے دستاویز نہیں ہوتے ہیں۔ ہم ان کی ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ آمدنی کا سرٹیفکیٹ تحصیلدار کے دفتر سے بنانا ضروری ہے۔ بچے کا بینک اکاؤنٹ کھولنا نہ بھولیں، بینک  یا پوسٹ آفس میں اکاؤنٹ ہونا چاہئے اور اکاؤنٹ کا آدھار  کارڈ سے لنک لازمی ہے۔ کئی معاملات میں اسکالرشپ منظور ہو جاتی ہے مگر بینک اکاؤنٹ نہ ہونے کی وجہ سے رقم واپس چلی جاتی ہے ۔
  ڈاکٹر دانش لامبے نے بتایا کہ اسٹار فاؤنڈیشن کی کوششوں سے ہر سال ایک محتاط اندازے کے مطابق ۲؍ ہزار طلبہ مستفید ہوتے ہیں۔  میراروڈ میں اپنے کام کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ۳؍ سال پہلے تک میراروڈ میں اکا دکا لوگوں کو اسکالرشپ ملتی تھی مگر اب اسٹار فاؤنڈیشن کی کوششوں سے بہت سے طلبہ سرکاری اسکیموں سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK