یہاں ایک انتہائی متنازع اور قیمتی پلاٹ پر دہائیوں سے قانونی جنگ لڑنے والے ۸۱ ؍ سالہ اصغر علی ووہرا نے بالآخر اپنے بچپن کے دوست اور وزیر اعظم نریندر مودی سے براہِ راست ملاقات کرکے اپنا دکھڑا سنایا ہے۔ اصغرعلی ووہرا نے بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی نریندر مہتا، ان کی کمپنی ’سیون الیون کنسٹرکشن‘ اور ’سویم بلڈرز‘ پر شہری انتظامیہ کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی زمین ہڑپنے کی سازش کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔
اصغر علی ووہرا وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کے دوران میراروڈ کی اپنی زمین سے متعلق مسئلہ بتاتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
یہاں ایک انتہائی متنازع اور قیمتی پلاٹ پر دہائیوں سے قانونی جنگ لڑنے والے ۸۱ ؍ سالہ اصغر علی ووہرا نے بالآخر اپنے بچپن کے دوست اور وزیر اعظم نریندر مودی سے براہِ راست ملاقات کرکے اپنا دکھڑا سنایا ہے۔ اصغرعلی ووہرا نے بی جے پی کے مقامی رکن اسمبلی نریندر مہتا، ان کی کمپنی ’سیون الیون کنسٹرکشن‘ اور ’سویم بلڈرز‘ پر شہری انتظامیہ کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی زمین ہڑپنے کی سازش کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ریاستی مشنری کے جانبدارانہ رویے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس پورے معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات کے فوراً بعد مقامی انتظامیہ میں ہلچل مچ گئی اور ۹ ؍ستمبر کو میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن نے اصغر علی ووہرا، سیون الیون کنسٹرکشن اور ان کے آرکیٹیکٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ۱۶ ؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو سماعت کیلئے طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:لداخ کو ریاست کا درجہ نہیں ملے گا، بلکہ ایک منفرد منتخب باڈی دی جائے گی: حکومت
شہری انتظامیہ کی صفائی اور سی سی کا تنازع
میونسپل حکام نے ۱۷ ؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو ’سیون الیون کنسٹرکشن‘ کو دوبارہ تعمیراتی اجازت نامہ جاری کرنے پر صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تھانے کی دیوانی عدالت نے ۱۶ ؍جنوری ۲۰۲۶ء کو اصغر علی کا سول دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔ شہری انتظامیہ کا موقف ہے کہ چونکہ اس وقت زمین پر کسی قسم کا امتناعی حکم ( اسٹے آرڈر)نافذ نہیں تھا اس لئے قواعد کے تحت تعمیراتی اجازت نامہ جاری کیا گیا۔
ریوینیو کورٹ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی نریندرمہتا کی سیون الیون کنسٹرکشن کو جھٹکا
حالانکہ زمین کے سرکاری ریکارڈ ( سات بارہ) میں نام درج کرانے کی کوششوں میں سیون الیون کنسٹرکشن کو ریوینیو کورٹ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایڈیشنل کلکٹر تھانے نے ۱۵ ؍جولائی ۲۰۲۶ء کو کمپنی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سات بارہ پر نام کا اندراج دیوانی مقدمے کے حتمی فیصلے کے تابع ہوگا۔ اس سے قبل ۲۰۱۹ء میں بھی اس وقت کے میونسپل کمشنر بالاجی کھتگاؤں کر نے ایس ڈی او کے اسٹیٹس کیو (جیسا ہے ،ویسا رہے) کے احکامات کے تحت کمپنی کی تعمیراتی اجازت منسوخ کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال سیلاب: ہلاکتوں کی تعداد ۱۳۸۵؍، ۵۱۳۰؍ لاپتہ، تعمیر نو کا تخمینہ ۴؍ اعشاریہ ۷۸؍ بلین ڈالر
جعلی کاغذات سے قبضہ اور ۱۱ ؍سال بعد الٹا اصغرعلی پر کیس
متاثرہ بزرگ اصغر علی ووہرا نے اپنے موقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ۱۹۸۹ء میں موضع نوگھر (سروے نمبر ۲۴۰، نیا سروے نمبر ۱۸۵، حصہ ۶) کی ۲؍ہزار ۸۱۰؍ مربع میٹر زمین رجسٹرڈ معاہدے سے خریدی تھی اور کبھی کسی کو نہیں بیچی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ۲۰۱۱ء میں سویم بلڈرز اور سیون الیون نے سازش کے تحت جعلی کاغذات تیار کرکے زمین پر قبضہ دکھایا۔ اس معاملے میں ۲۰۱۵ء میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی مگر سی آئی ڈی کی رپورٹ آنے میں ۱۱؍ سال لگ گئے اور ۲۰۲۵ء میں بغیر کسی نوٹس کے الٹا متاثرہ بزرگ پر ہی مقدمہ درج کردیا گیا۔مقامی پولیس، شہری انتظامیہ اور ریوینیو انتظامیہ کے رویے سے نالاں اصغر علی ووہرا نے اپنے بچپن کے دوست وزیراعظم نریندر مودی سے انصاف کی فریاد کی ہے۔ اب تمام تر نظریں ۱۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ہونے والی میونسپل کارپوریشن کی اہم سماعت پر ٹکی ہوئی ہیں۔