آسام میں تین دن کیلئے سرکاری سوگ، میزورم نے معافی مانگی

Updated: July 28, 2021, 7:07 AM IST | Guwahati

۵؍ پولیس اہلکاروں سمیت ۶؍افراد کی موت پر آسام میں میزورم کے تئیں سرکاری اور عوامی سطح پر برہمی کااظہار۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے ۶؍ مرتبہ میزورم کے وزیراعلیٰ کو فون کیا، اس کے بعد انہوں نے معافی مانگی اور گفتگو کیلئے انہیں آئزول مدعو کیا ہے۔ زخمیوں کی تعداد بھی ۵۰؍ سے زیادہ

Assam Chief Minister Himanta Biswa Sarma addresses media
آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کا میڈیا سے خطاب

آسام اور میزورم کے درمیان سرحدی تنازع میں ایک دن قبل ہونےوالی پولیس اہلکاروں کی موت پر آسام میں سرکاری اور عوامی سطح پر شدیدبرہمی پائی جارہی ہے۔  اسی کے پیش نظر آسام نےتین دنوں کیلئے سرکاری   سوگ کااعلان کیا ہے۔ اس درمیان وہاں پرکسی قسم کی سرکاری تقریبات اور کسی قسم کے جشن کا انعقاد نہیں ہوگا۔تشدد کے بعد دونوں ریاستوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے درمیان سرحد پر سی آر پی ایف کی تعیناتی کی گئی ہے۔
  میزورم کے تئیںعوامی اور سرکاری طور پر برہمی کے درمیان آسام کے وزیراعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے میڈیا سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت سرحد پر گولی باری ہورہی تھی، میں نے ۶؍ مرتبہ میزورم کے وزیراعلیٰ کو فون کیا تھا لیکن بات نہیں ہوسکی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اس معاملے پر معافی مانگی ہے اور انہیں بات چیت کیلئے آئزول مدعو کیا ہے۔ میڈیا کے روبرو  ہمانتا نے کہا کہ ہماری زمین کا ایک انچ بھی کوئی نہیں لے سکتا۔  انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سرحدی  تنازع کو باہمی طور پر حل کرنے کیلئے میں نے میزورم کے وزیراعلیٰ کو خط لکھا تھا۔ہمارے درمیان اس موضوع پر بات چیت ابھی چل ہی رہی تھی کہ میزورم پولیس نے فائرنگ کردی ۔ اس کی وجہ سے آسام میں شدید غم و غصے کی لہر ہے۔
 خیال رہے کہ پیر کو سرحدی تنازع کے پیش نظر دونوں ریاستوں کی پولیس اور عوام کے درمیان تصادم ہوگیا تھا۔اس میں پہلے دونوں طرف سے لاٹھیاں چلی تھیں، معاملہ بڑھا تو پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ۔ اسی درمیان فائرنگ بھی ہوئی جس میں آسام کے ایک شہری اور ۵؍ پولیس اہلکار مارے گئے۔ 
   میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آسام کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کوئی  یہ سوچتا ہے کہ وہ آسام کی زمین پر بزور طاقت قبضہ کرلے گا تو وہ خام خیالی میں مبتلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کل پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون بنا دے، جس کے تحت براک وادی کو میزورم کے حوالے کردیا جائے تواس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن جب تک ایسا کچھ نہیں ہوتا، میں کسی کو بھی آسام کی ایک انچ زمین پرقبضے کی اجازت نہیں دوں گا۔
  اس تنازع کو ان معنوں میں بہت زیادہ افسوسناک کہا جا سکتا ہے کہ ابھی تین دن قبل ہی مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے اس خطے کا دورہ کیا تھا۔اطلاع کے مطابق صورتحال کو قابو میں لانے کیلئے امیت شاہ دونوں وزرائے اعلیٰ سے بات چیت کر رہے ہیں۔  دوسری طرف حالات کو سمجھنے کیلئے کانگریس نے فوری طور پر ایک ۷؍ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی اس معاملے کی رپورٹ  کانگریس صدر سونیا گاندھی کو سونپے گی۔ آسام کے ریاستی صدر بھوپین بورا کی قیادت میں تشکیل دی گئی اس کمیٹی میں رقیب الحسن اور گورو گوگوئی کو بھی شامل رکھاگیا ہے۔

assam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK