کھرگے نے راجیہ سبھا میں وزیراعظم کی ۹۷؍ منٹ طویل تقریر کو بے بنیاد قراردیا، کہا : حکومت خود نہیں چاہتی کہ ایوان جمہوری طریقہ سے چلے
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 11:45 PM IST | New Delhi
کھرگے نے راجیہ سبھا میں وزیراعظم کی ۹۷؍ منٹ طویل تقریر کو بے بنیاد قراردیا، کہا : حکومت خود نہیں چاہتی کہ ایوان جمہوری طریقہ سے چلے
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے راجیہ سبھا میں وزیراعظم مودی کی ۹۷؍ منٹ طویل تقریر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جمعہ کو الزام لگایا کہ ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اپوزیشن کے سوالوں کے جواب دے سکیں۔ راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد نے الزام لگایا کہ مودی حکومت خود نہیں چاہتی کہ ایوان کی کارروائی جمہوری طریقے سے چلے۔ انہوں نے کہا کہ’’ راجیہ سبھا میں اپنی۹۷؍ منٹ کی تقریر میں انہوں نے کوئی ٹھوس حقیقت پیش نہیں کی اور اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے کسی بھی اہم سوال کا جواب نہیں دیا۔‘‘
’’جھوٹ دہرانا‘‘ مودی کا کام
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل دینا ضروری نہیں تھا تاہم انہوں نے جو باتیں کہیں وہ قابل اعتراض تھیں، اس لیے جواب دینا ضروری ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ’’جھوٹ دہرانا‘‘ مودی کا کام بن چکا ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے قائد نے کہا کہ ’’ہم نے صدر کے خطاب پر جو سوالات اٹھائے وزیراعظم نے ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔اپنی تقریر میں وہ حالیہ مسائل کے بجائے۱۰۰؍سال، ۷۵؍سال اور ۵۰؍ سال پرانی باتوں کو دہراتے رہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’جب ہمیں نرونے کی کتاب مل گئی، تو حکومت کے پاس کیسے نہیں ہوگی؟ مگر وہ پارلیمنٹ میں کہتے رہے کہ کتاب شائع ہی نہیں ہوئی۔ امیت شاہ ہوں یا راجناتھ سنگھ... سب کہتے رہے کہ کتاب موجود نہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ کتاب موجود ہے‘‘۔
’’سچائی کو سنیں پھر جواب دیں‘‘
ملکارجن کھرگے نے حیرت کا اظہار کیا کہا کہ’’ جب راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں نرونے کی ’کتاب‘ کا ذکر کیا تو پورا حکمراں فریق نہ جانے کیوں ناراض ہوگیا۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’میں ان سے کہنا چاہتا ہوںکہ پہلے سچ سنیں، پھر جواب دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نریندر مودی میں اتنی ہمت نہیں کہ ہمارے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیں۔‘‘کانگریس صدر نے کہاکہ ’’مودی کہتے ہیں کہ ہم نے سکھوں کی توہین کی۔ مطلب، ایوان کے باہر۲؍افراد کی بات چیت کو سکھوں کی توہین بنا دیا گیا۔‘‘ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ ’’کانگریس پارٹی سکھوں کا احترام کرتی ہے اوراسی کے دور میں ڈاکٹر منموہن سنگھ وزیر خزانہ اور پھر وزیراعظم بنے جبکہ نریندر مودی نہ سکھوں کا احترام کرتے ہیں، نہ دلتوں کا، نہ آدیواسیوں کا۔ ان کے ذہن میں صرف دوسروں کو کمتر ثابت کرنے کا خیال ہوتا ہے۔‘‘
نہروپر تنقید کا جواب
مجاہد آزادی اور ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو پر وزیراعظم مودی کے حملوں پر کھرگے نےکہا کہ’’ جدید ہندوستان کے معمار جواہر لال نہرو نے پبلک سیکٹر(سرکاری کمپنیاں) قائم کیا، مگر مودی انہیں دیوالیہ فیکٹریاں کہتے ہیں۔ جب ملک میں ایک گھڑی بھی نہیں بنتی تھی تو پبلک سیکٹر نے یہ ذمہ داری اٹھائی مگر اسے بچانے کے بجائے نریندر مودی اسے توڑرہے ہیں۔ نریندر مودی کا کوئی نظریہ نہیں، نہ ہی ان کے پاس ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کا کوئی وژن ہے۔‘‘
’’مودی کا حوصلہ ٹوٹ چکاہے‘‘
کھرگے نے مودی کی تقریر کو اس بات کا ثبوت قراردیا کہ ان کا’’حوصلہ ٹوٹ چکا ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ ’’اگر ملک کا وزیراعظم جمہوریت اور ملک کے بارے میں غلیظ زبان استعمال کرے تو یہ اچھی بات نہیں۔ نریندر مودی اس بات سے ڈرتے ہیں کہ راہل کیا سوال پوچھ لیں گے، کیا حقائق پیش کردیں گے، اسی لئے وہ ایوان میں بیٹھتے ہی نہیں۔‘‘ لوک سبھا اسپیکر کے اس دعویٰ پر کہ خفیہ اطلاع ملی تھی اس لیے مودی جی کو لوک سبھا میں خطاب نہ کرنے کا مشورہ دیاگیا، کھرگے نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ’’اگر آپ کی انٹیلی جنس اتنی اچھی ہے تو پلواما جیسے دہشت گرد حملوں کے وقت کہاں تھی؟‘‘