راہل گاندھی کا سنسنی خیز انکشاف ، یہ بھی کہا کہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن سمیت مختلف ادارے بغاوت کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں، مودی اگلے سال تک وزیر اعظم نہیں رہیں گے
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 12:35 AM IST | New Delhi
راہل گاندھی کا سنسنی خیز انکشاف ، یہ بھی کہا کہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن سمیت مختلف ادارے بغاوت کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں، مودی اگلے سال تک وزیر اعظم نہیں رہیں گے
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی اور مرکزی حکومت کے خلاف سخت الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی عدلیہ ، الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کے اندر ’’بغاوت‘‘ برپا ہو چکی ہے ۔ یہ ادارے کسی بھی وقت بغاوت کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اسی لئے نریندر مودی ملک میں ایمر جنسی نافذ کرسکتے ہیں۔ راہل نے یہ بھی کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق اگلے ایک سال میں نریندر مودی وزیر اعظم کے عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے۔ انہوں نے ملک کے شہریوں سے مشکل حالات کے لئے ابھی سے کمر کس لینے کی اپیل بھی کی ۔
معاشی بحران کی آہٹ
دہلی میں آدیواسی کانگریس کے زیر اہتمام منعقدہ ا قومی سطح کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک ایک بڑے سیاسی اور معاشی دہانے پر کھڑا ہے۔ ملک کے پاس عالمی معاشی مندی یا دیگر معاشی بحرانوں سے نمٹنے کا جو نظام تھا، جس کی مدد سے ہم ۲۰۰۸ء کی مندی سے بھی ابھرنے میں کامیاب رہے تھے ، مودی حکومت نے اسے ختم کردیا ہے۔ ان کے بقول بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے وہ معاشی حفاظتی نظام ختم کر دیا ہے جو عالمی اقتصادی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے ہندوستان کو محفوظ رکھتا تھا، جس کے نتیجے میں اب ملک ایک ’’معاشی سونامی‘‘ کی طرف بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور آنے والا معاشی بحران اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ موجودہ نسل نے اس جیسا بحران پہلے کبھی نہ دیکھا ہو۔
اداروں کی بے چینی کا حوالہ
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے زیر اثر سمجھے جانے والے اہم اداروں کے اندر بھی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس دوران دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن، انٹیلی جنس نظام اور عدلیہ کے بعض سینئر حلقوں سے انہیں مسلسل معلومات موصول ہو رہی ہیں۔ان اداروں کے اندر حکومتی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت پیدا ہو رہی ہے۔ ان اداروں میں بیٹھے لوگ مجھے میسیج بھیج بھیج کر بتارہے ہیں کہ کیا چل رہا ہے اور کیسے ایک بڑی بغاوت ہو سکتی ہے۔راہل گاندھی نے کہاکہ آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر کے پیغامات مجھ تک پہنچ رہے ہیں۔ انٹیلی جنس نظام کے سربراہوں اور اعلیٰ عدلیہ کے افراد بھی معلومات فراہم کر رہے ہیںکہ وہاں کتنی بے چینی ہے۔ مودی حکومت کا گزشتہ ۱۲؍ سال میں تیار کردہ پورا نظام اندر سے ہل رہا ہے اور اس کے اندر بغاوت جاری ہے۔یہ لاوا کبھی بھی پھوٹ سکتا ہے۔
ایمر جنسی کا خدشہ
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ حکمراں جماعت نے گزشتہ چند برسوں میں انتخابی نظام کو اپنے کنٹرول میں لینے کی جتنی مذموم کوششیں کی ہیںاس کی وجہ سے عوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سےان اداروں کےلئے حکومت کے ساتھ اسی طرح کھڑا رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔راہل گاندھی نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر عوامی غصہ مزید بڑھا تو مودی حکومت اس دباؤ کو روکنے کے لئے ’’ایمرجنسی جیسا کوئی قدم‘‘ اٹھاسکتی ہے ۔ ان کے مطابق حکومت پہلے مکمل کنٹرول میں تھی لیکن اب اداروں کی بغاوت کی وجہ سے اس کا کنٹرول کمزور پڑ رہا ہے ۔
اداروں پر دبائو میں اضافہ
راہل گاندھی جو مودی حکومت پر سخت ترین حملے کرتے ہیں، نے کہا کہ جیسے جیسے عوام کے انتخابی نظام اور حکومتی پالیسیوں پر شکوک و شبہات بڑھتے جائیں گے، اداروں پر بھی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ موجودہ حالات وزیر اعظم مودی کے لئے تشویش کا باعث ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس نظام پر وہ انحصار کرتے تھے وہ اب ان کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔ اپنی تقریر کے اختتام پر راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق اگلے ایک سال کے دوران مودی وزیر اعظم کے منصب پر برقرار نہیں رہیں گے۔