معطل کئے گئے لیڈر ریجو دتہ نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کے ۵۰؍ اراکین اسمبلی الگ ترنمول کانگریس بنانے کی تیاری کررہے ہیں اور انتخابی نشان پر قبضہ کی بھی کوشش ہے
EPAPER
Updated: June 03, 2026, 8:34 AM IST | Kolkata
معطل کئے گئے لیڈر ریجو دتہ نے دعویٰ کیا کہ ٹی ایم سی کے ۵۰؍ اراکین اسمبلی الگ ترنمول کانگریس بنانے کی تیاری کررہے ہیں اور انتخابی نشان پر قبضہ کی بھی کوشش ہے
ریاست پر بی جے پی کے قبضے کے بعد اب مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے لیے مشکلیں بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ وہاںبھی وہی سیاسی حالات پیدا ہورہے ہیںجو مہاراشٹر میں پیداہوچکے ہیں۔ پارٹی سے معطل لیڈر ریجو دتہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹی ایم سی کے ۵۰؍ اراکین اسمبلی الگ ترنمول کانگریس بنانے کی تیاری کررہے ہیں اوران کی پارٹی کے انتخابی نشان پر قبضہ کرنے کی بھی کوشش ہے۔ انہوں نے ایک جگہ میٹنگ کر کے پارٹی کے انتخابی نشان پر قبضہ کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔منگل کویہ میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جبکہ ترنمول کانگریس کے چنداراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کولکاتا کے رانی رشمونی اوینیومیںجمع تھےجہاںممتا بنرجی ایک احتجاجی مظاہرے کی قیادت کررہی تھیں۔
۵۰؍ اراکین اسمبلی کی الگ میٹنگ
ریجو دتہ نے کہا کہ ترنمول کانگریس کے۲؍ اراکین اسمبلی رتبرت بنرجی اور سندیپن ساہا نے اسمبلی اسپیکر کو خط لکھ کر دعویٰ کیا ہے کہ(اپوزیشن لیڈر کیلئے دی گئی پارٹی کی درخواست پر) ان کے دستخط جعلی ہیں۔ یہ معلوم ہونے پر ترنمول کانگریس نے ان دونوں اراکین اسمبلی کو معطل کر دیا۔ ریجو نے دعویٰ کیا کہ ’’میں نے کئی برسوں تک ترنمول کانگریس میں کام کیا ہے، اس لیے مجھے خبر ملی اور کنال گھوش نے بھی میڈیا میں بتایا کہ رتبرت بنرجی کی قیادت میں تقریباً۵۰؍ ٹی ایم سی اراکین اسمبلی ایک ہوٹل میں ملے۔ انھوں نے فون پر بھی بات کی اور گزشتہ شام ایک ہاسٹل میں کئی اراکین اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی۔ ان اراکین کا اسمبلی اسپیکر سے ملنے کی خبر تھی جس میں وہ ۳؍ معاملہ ا ٹھانے والے تھے۔
ٹی ایم سی سے معطل ترجمان ریجو دتہ نے مزید بتایا کہ ’’پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہے۔ تقریباً۵۰؍ اراکین اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں ۔ ہم اصل ترنمول کانگریس ہیں۔ دوسری بات، چونکہ ہم اصل ترنمول کانگریس ہیں، اس لیے اپوزیشن کے لیڈر رتبرت بنرجی ہوں گے نہ کہ شوبھن دیب چٹوپادھیائے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہے، اس لیے یہ انتخابی نشان ہمارا ہونا چاہئے۔‘‘ ریجو دتہ نے کہا کہ بنگال میں دو اہم باتیں کہنا چاہتا ہوں۔ پہلی، ابھیشیک بنرجی کو ذمہ داری لینی ہوگی۔ جن لوگوں کو ابھیشیک نے ہاتھ پکڑ کر اس پارٹی میں لایا، انہوں نے پارٹی کو دھوکہ دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی کو بھی ذمہ داری لینی ہوگی۔ جو میں نے۸؍ اور۹؍ تاریخ کو کہی تھی ۔ آج وہ وہی بات کہہ رہے ہیں۔ وہ آئی-پیک سے ناراض ہیں۔ وہ ابھیشیک بنرجی سے ناراض ہیں۔واضح رہے کہ ٹی ایم سی میں ٹوٹ کی خبروں نے زور اس لیے پکڑا کیونکہ ممتا بنرجی نے پیر کو۲؍ اراکین اسمبلی رتبرت بنرجی اور سندیپن ساہا کو معطل کر دیا۔ گزشتہ روز ہی ایک ہوٹل میں ۶؍اراکین اسمبلی ملے تھے جہاں۲؍باغی اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔ باغی اراکین اسمبلی رتبرت بنرجی کو ہی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنانا چاہتے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی نے اپنے قریبی شوبھن دیب چٹوپادھیائے کو یہ عہدہ دیا ہے۔
ٹی ایم سی میںتقسیم کیسے؟
دو تہائی ایم ایل اے بی جے پی میں شامل ہوجائیں توبھی ٹی ایم سی ٹوٹ جائے گی ۔ ٹی ایم سی کے کل۸۰؍ ایم ایل ایز میں سے دو تہائی(۵۴) بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتے ہیںتو اس صورت میں، دل بدلی قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ تاہم بی جے پی نے اس کی تردید کی ہے۔اس کے علاوہ ایسا بھی ہوسکتا ہےکہ پارٹی ۲؍ گروہوں میں بٹ جائے۔ ایک گروپ پارٹی سے الگ ہوجائے جیسا کہ مذکورہ معاملے میں نظر آرہا ہے اوراصل ترنمول پردعویٰ کرے۔ اس کیلئے بھی ۵۴؍ ایم ایل ایز کی حمایت درکار ہوگی۔ اگر ایسا ہوا تو الیکشن کمیشن بڑے گروہ کے حق میں فیصلہ سناسکتا ہے جبکہ معاملہ عدالت میں بھی جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کیلئے بھی دو تہائی یا ۲۸؍ میں سے۱۹؍لوک سبھا ممبران کی ضرورت ہوگی۔
اس کے علاوہ اگر نیا گروہ دیگر اراکین اسمبلی کو اپنے خیمے میں نہیںکرپاتا تو اسے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرکا عہدہ مل سکتا ہے لیکن پارٹی کا نام اور نشان نہیں مل سکتا۔