Updated: June 04, 2026, 4:02 PM IST
| New Delhi
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اب سے ایک سال بعد اقتدار میں نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے بقول حکومت کا کنٹرول سسٹم اندر سے کمزور ہو رہا ہے۔ نئی دہلی میں آدیواسی کانگریس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں معاشی بحران، ادارہ جاتی دباؤ اور بڑھتے عوامی غصے کا حوالہ دیا۔ گاندھی نے الزام لگایا کہ حکومت ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ انتخابی اور دیگر اداروں کے بارے میں بھی سنگین دعوے کیے۔
راہل گاندھی اور نریندر مودی۔ تصویر: آئی این این
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے گزشتہ دن دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ایک سال بعد ملک کے وزیر اعظم نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے مطابق وہ نظام جس پر حکومت کا کنٹرول تھا، اب اندرونی طور پر کمزور اور منتشر ہو رہا ہے۔ نئی دہلی میں آدیواسی کانگریس کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’میں آپ کو لکھ کر دے سکتا ہوں کہ ایک سال بعد نریندر مودی وزیر اعظم نہیں ہوں گے۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور ناراضگی کو دبانے کے لیے ’’ایمرجنسی جیسی کوئی چیز‘‘ نافذ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مظفر پور میں خوفناک آتشزدگی،آئی سی یو میں آگ لگنےسے۱۰؍مریض جاں بحق
راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہم اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں پہلے حکومت مکمل کنٹرول میں تھی، لیکن اب وہ کنٹرول کھو رہی ہے۔‘‘ اپنی تقریر میں انہوں نے ملک کی معیشت کے بارے میں بھی شدید خدشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے وہ حفاظتی معاشی ڈھانچے کمزور کر دیے ہیں جو عالمی جھٹکوں کے اثرات سے ہندوستان کو بچاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک ایسے معاشی بحران کا سامنا کرے گا جیسا آپ نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور ایک معاشی سونامی آنے والی ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے مزید الزام لگایا کہ ملک میں ’’ادارہ جاتی بغاوت‘‘ جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مختلف سرکاری اور آئینی اداروں کے اندر حکومت کے خلاف بے چینی پائی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ’’الیکشن کمیشن مکمل کنٹرول میں ہے، لیکن اب مختلف اداروں کے اندر سے ہمیں معلومات مل رہی ہیں۔ کنٹرول کا پورا نظام اندر سے ٹوٹ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکام کو اندازہ ہو چکا ہے کہ اگر عوامی ناراضگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کاکروچ جنتا پارٹی نےاحتجاج سے قبل ۳؍ ترجمان مقرر کئے
اپوزیشن لیڈر نے انتخابی عمل کے حوالے سے بھی خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر عوام کو محسوس ہوا کہ انتخابی نظام میں دھاندلی ہوئی ہے اور وہ ناراض ہو گئے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمیشن خوفزدہ نہیں ہوگا؟‘‘ تاہم، انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت عوامی دباؤ کو روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات پر غور کر سکتی ہے۔ راہل گاندھی کے ان بیانات پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات اور ملکی معیشت کے حوالے سے سیاسی بیانیہ آنے والے مہینوں میں مزید تیز ہو سکتا ہے۔