Updated: August 05, 2026, 5:04 PM IST
| New Delhi
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس کی پالیسیوں اور اسکیموں، خصوصاً کھیلو انڈیا اور ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹی او پی ایس ) کے ذریعے ملک میں کھیلوں کا ڈھانچہ مضبوط ہوا ہے اور کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگرچہ کئی شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مختلف کھیلوں اور ریاستوں کے درمیان ترقی یکساں نہیں رہی۔
وزیر کھیل اور ایتھلیٹ۔ تصویر:پی ٹی آئی
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس کی پالیسیوں اور اسکیموں، خصوصاً کھیلو انڈیا اور ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹی او پی ایس ) کے ذریعے ملک میں کھیلوں کا ڈھانچہ مضبوط ہوا ہے اور کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ تاہم دستیاب اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اگرچہ کئی شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مختلف کھیلوں اور ریاستوں کے درمیان ترقی یکساں نہیں رہی۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کا نمایاں ہائی پرفارمنس سینٹر آرمی اسپورٹس انسٹی ٹیوٹ کیسے بنا؟
حکومت کے مطابق کھیلوں کے بجٹ میں اضافہ، نئے اسٹیڈیم، تربیتی مراکز، کوچنگ پروگرام اور بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی نے ہندوستانی کھیلوں کو نئی رفتار دی ہے۔ اولمپکس، ایشیائی کھیلوں اور کامن ویلتھ گیمز میں ہندوستان کی کارکردگی میں بہتری کو بھی ان پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کامیابی کی بڑی وجہ چند مخصوص کھیلوں پر زیادہ سرمایہ کاری اور انفرادی کھلاڑیوں کی محنت بھی ہے۔ کئی کھیل، خصوصاً فٹبال، تیراکی، جمناسٹکس اور دیگر شعبے اب بھی بنیادی سہولیات، معیاری کوچنگ اور مالی معاونت کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں کھیلوں کا انفراسٹرکچر اب بھی محدود ہے جبکہ خواتین اور پیرا ایتھلیٹس کے لیے سہولیات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ کئی ریاستوں میں کھیلوں کی ترقی تیز رہی، لیکن بعض علاقوں میں مطلوبہ رفتار حاصل نہیں ہو سکی۔ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بین الاقوامی مقابلوں میں ہندوستان کے تمغوں کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے، مگر یہ ترقی تمام کھیلوں میں یکساں نہیں ہے۔ بعض کھیلوں میں نمایاں کامیابیاں ملی ہیں جبکہ کئی دیگر کھیل ابھی بھی عالمی سطح پر مضبوط مقام بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نکھیتا گاندھی آئی ایف ایف ایم ۲۰۲۶ء میں پرفارم کریں گی
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف بجٹ میں اضافہ کافی نہیں بلکہ نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تلاش، طویل مدتی تربیت، سائنسی کوچنگ، جدید اسپورٹس سائنس، غذائیت، ذہنی صحت کی معاونت اور شفاف کھیلوں کی انتظامیہ پر بھی مسلسل توجہ دینا ضروری ہے۔مجموعی طور پر، حکومت کی پالیسیوں سے کھیلوں کے شعبے میں کچھ مثبت نتائج ضرور سامنے آئے ہیں، لیکن اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ بھارت کو عالمی کھیلوں کی بڑی طاقت بنانے کے لیے ابھی انفراسٹرکچر، کوچنگ، ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اور مساوی مواقع کے شعبوں میں مزید جامع اور مسلسل کام کرنے کی ضرورت ہے۔