کانگریس نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، کہا: ۱۸؍ دن انتظار کرلیتی تو ۱۸؍ فیصد کا سمجھوتہ نہ کرنا پڑتا مگرجنرل نرونے کی کتاب کا معاملہ دبانے کی جلد بازی کی گئی
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 11:10 PM IST | Hamidullah Siddiqui | New Delhi
کانگریس نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، کہا: ۱۸؍ دن انتظار کرلیتی تو ۱۸؍ فیصد کا سمجھوتہ نہ کرنا پڑتا مگرجنرل نرونے کی کتاب کا معاملہ دبانے کی جلد بازی کی گئی
ٹرمپ کے ذریعہ دنیا بھر کے ممالک پر عائد کئے گئے من مانے ٹیرف کو امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد ہندوستان میں مودی حکومت ایک بار پھر گھر گئی ہے۔ کانگریس نے مودی حکومت پر ٹرمپ کے آگے گھٹنے ٹیک دینے کا الزام عائد کرتےہوئےسمجھوتہ پر فوری روک لگانے کی مانگ کی ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ کےبرسراقتدار آنے سے قبل ہندوستانی اشیاء پر امریکہ میں ٹیرف ۳؍ سے ۵؍ فیصد کے درمیان تھا۔ ٹرمپ نے اسے بڑھا کر ۲۵؍ فیصد کردیا اور ۲۵؍ فیصد اضافی ٹیرف روس سے تیل خریدنے کی پاداش میں عائد کردیا۔ اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے مودی سرکار کے ساتھ اس شرط پر تجارت کا معاہدہ کیا کہ ہندوستان روس سے تیل نہیں خریدیگا ، ساتھ ہی جو ٹیرف پہلے ۳؍ سے ۵؍ فیصد تھا اسے تجارتی معاہدہ میں بڑھا کر ۱۸؍ فیصد کردیاگیا۔ اس کے برخلاف متعدد امریکی اشیاء پرہندوستان میں ٹیرف صفر کردیاگیا۔
اب جبکہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف کے نام پر ٹرمپ کی عالمی معاشی غنڈہ گردی پر روک لگادی ہے، کانگریس نے مودی سرکار کو جم کر آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ سنیچر کو کانگریس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ذریعہ عائد کردہ باہمی محصولات کو کالعدم قرار دینے کے امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر ہند،امریکہ تجارتی معاہدے کو روک دے۔پارٹی نے کہا کہ عبوری معاہدے کے فریم ورک میں یہ شرط موجود ہے کہ اگر ایک ملک شرائط میں ترمیم کرتا ہے تو دوسرا ملک بھی ایسا کر سکتا ہے۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور کمیونی کیشن انچارج جے رام رمیش نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ۲؍ فروری کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کردہ تجارتی معاہدے کے حصول میں وزیر اعظم مودی کی جلدبازی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے ٹرمپ کے اعلان کا حوالہ دیا،جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے ’پیارے دوست وزیر اعظم مودی‘ کے کہنے پر اس معاہدے کا اعلان کر رہے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ وزیر اعظم مودی پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کی تقریر سے اس قدرخوف زدہ ہوگئے کہ انہوںنے اسی رات امریکہ سے معاہدہ کا اعلان کرانے کی انتہائی جلد بازی دکھائی ۔راہل گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی کتاب سے سنسنی خیز انکشافات کئے تھے کہ کس طرح وزیر اعظم اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہو گئے اورانہوںنے فیصلہ کرنے کے بجائے نرونے سے کہا کہ ’’جو اُچت سمجھو کرو‘‘۔جے رام رمیش نےسوال کیا کہ آخر اس معاہدہ پر متفق ہونے اور اس کا اعلان کرنے میں کیا جلدبازی تھی، جب کہ سب کو معلوم تھا کہ ٹرمپ کے ٹیرف کو وہاں کی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔آخر وزیر اعظم نے اس معاہدہ کیلئے ایک ماہ کا انتظار کیوں نہیں کیا؟ کانگریس کے سینئر لیڈر نے مزید کہا کہ امریکی سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ٹرمپ کو ٹیرف لگانے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ یہ امریکی قانون اور آئین کے خلاف ہے۔امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کے اس بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ہند،امریکہ تجارتی معاہدہ اب بھی برقرار ہے، جے رام رمیش نے زور دیکر کہا کہ وزیر اعظم مودی کو واضح اور غیر مبہم الفاظ میں کہنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر موجودہ حالات میںعبوری معاہدے کا فریم ورک نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوںنے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آیا وہ ٹرمپ کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدہ اب بھی برقرار ہے؟ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت کی طرف سے اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔اس معاملہ پروزیر اعظم اور وزیر تجارت دونوں خاموش ہیں۔ کانگریس کے جنرل سیکریٹری نے امریکہ کے ساتھ معاہدے سے ہندوستان کے کسانوں کی روزی روٹی کو خطرہ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معاہدے میں اس بات کا ذکر ہے کہ کاٹن، سویا بین اور پھلوں سمیت زرعی مصنوعات پر ٹیرف کم یا مکمل طور پر ختم کر دیئے جائیں گے۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ ہمارے کسانوں کے تحفظ کیلئے تجارتی معاہدے میں ترمیم کی جانی چاہیے، کیونکہ معاہدے میں ہی ترمیم کا بہت زیادہ انتظام ہے۔
امریکی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد راہل گاندھی نے حکومت پر حملہ کیا اور ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’’وزیر اعظم سمجھوتہ کر رہے ہیں۔ان کی دھوکہ دہی اب کھل کر سامنے آرہی ہے۔وہ دوبارہ مذاکرات نہیں کرسکتے۔وہ پھرسے خودسپردگی کردیں گے۔‘‘