• Fri, 20 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پٹنہ ہائی کورٹ: اپوزیشن کی ریلی میں مودی کے خلاف نعرے لگانے والے شخص کو ضمانت

Updated: February 19, 2026, 10:15 PM IST | Patna

پٹنہ ہائی کورٹ نے اپوزیشن کی ریلی میں پی ایم مودی کے خلاف نعرے لگانے والے شخص کو ضمانت دے دی، درخواست گزار نے عدالت میں کہا تھاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ضبط کیے گئے موبائل فون سے کوئی قابل اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

لائیو لاء کی ایک خبر کے مطابق پٹنہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں ایک شخص کی ضمانت کی منظوری دی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے بہار میں اگست کے مہینے میں حزب اختلاف کی ایک ریلی کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا نعرے لگائے تھے۔واضح رہے کہ ملزم کو بھنگہ میں انڈیا اتحاد کی ریلی میں اس واقعے کے پیش آنے کے دو دن بعد ۲۹؍ اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ مبینہ نعروں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں، جس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کارکنوں  نے پرتشدد احتجاج کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: چھتیس گڑھ: میلے میں مسلم تاجروں کو ہٹانے پر کشیدگی، برادران وطن کی حمایت

بعد ازاں جسٹس ارون کمار جھا کی سربراہی والی بنچ نے۱۱؍ فروری کو ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، جس کے خلاف بھارتیہ نیا سنہتا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔الزامات میں گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا، عوام میں فحش زبان کا استعمال، عوامی شرارت پر مبنی بیانات دینا، امن بگاڑنے پر اکسانے کے لیے جان بوجھ کر توہین، ہتک عزت، اور ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے والی کارروائیاں شامل ہیں۔استغاثہ کے مطابق، تفتیش کے دوران درخواست گزار کا نام سامنے آیا۔ تاہم، دفاعی وکیل نے استدلال کیا کہ اسے جھوٹے الزام میں پھنسایا گیا ہے اور شناخت صرف ایک سکیورٹی گارڈ کی جانب سے وائرل کی گئی ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت کوئی جرم ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے ضبط کیے گئے موبائل فون سے کوئی قابل اعتراض مواد برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے واقعے سے متعلق کوئی ویڈیو گردش کی۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اسے قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔  تاہم ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے، استغاثہ نے دلیل دی کہ ملزم کے اقدامات کا مقصد بدامنی پھیلانا تھا اور یہ غداری کے مترادف ہے۔ضمانت دیتے ہوئے، ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ کیس کے حقائق اور حالات، الزامات کی نوعیت، درخواست گزار کی سابقہ سزا، حراست میں گزرا ہوا وقت اور چالان پیش کیے جانے کے پیش نظر، ملزم ضمانت پر رہا کیے جانے کا حقدار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھاگوت کا ’گھر واپسی‘ تبصرہ نفرت کو ہوا دیتا ہے: جمعیۃ سربراہ ارشد مدنی

دریں اثناءعدالت نے ہدایت دی کہ درخواست گزار کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ، دربھنگہ، یا متعلقہ عدالت کے سامنے۱۰؍ ہزار روپے کے ضمانتی بانڈ اور اتنے ہی رقم کے دو مچلکوں کے پیش نظر رہا کر دیا جائے۔یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعظم اور ان کی والدہ کے خلاف ’’نازیبا اور غیر مہذب‘‘ زبان کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’جمہوریت پر دھبہ‘‘ قرار دیا تھا۔تاہم، کانگریس نے الزام لگایا کہ نازیبا نعرے بی جے پی کے کسی ایجنٹ نے لگائے تھے۔ پارٹی کے پبلسٹی چیف پون کھیرا نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت کانگریس کے ووٹر ادھیکار یاترا سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے، اور کہا کہ بی جے پی کی مبینہ بدعنوانی کے بے نقاب ہونے کے بعد وہ مایوس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK