پارلیمنٹ میں زبردست مخالفت کے باوجود منظور کئے گئے انشورنس ترمیمی بل پر اپوزیشن کا شدید رد عمل،راجیہ سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھڑگے کی قیادت
میں اپوزیشن لیڈران کا مشترکہ خطاب ،حکومت سے وضاحت طلب کی ، بل کو سلیکٹ کمیٹی میں نہ بھیجنے پر بھی سوال اٹھائے ، بہترین کمپنیاں بھی فروخت کرنے کا الزام
اپوزیشن لیڈران ملکارجن کھڑگے ۔ تصویر : پی ٹی آئی
اپوزیشن اور انشورنس کمپنی کے لاکھوں ملازمین کی مخالفت کے باوجود مودی حکومت کی جانب سے انشورنس ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پاس کیا گیا جس سے اپوزیشن شدید طور پر برہم ہے ۔ اس نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو ہندوستان لوٹنے کے لیے دعوت دینے جیسا عمل ہے ۔ پارلیمنٹ کے باہر راجیہ سبھا میں کانگریس کے اپوزیشن لیڈر ملکا ارجن کھڑگے کی قیادت میں اپوزیشن لیڈران نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔کانگریس نے انشورنس ترمیمی بل کو ملک کی بیمہ کمپنیوں کےلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں غیر ملکیوں کے ہندوستانی کمپنیوں پر اختیار حاصل کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ حکومت انشورنس کمپنیوں کے سلسلے میں جو بل لائی ہے ، اس میں غیر ملکی کمپنیوں کو ہندوستانی کمپنیوں پر قبضہ کرنے کا اختیار دینے جیسی بہت سی خامیاں ہیں ،اس لئے حکومت کو اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت کمپنیوں کو جو بھی پیسہ ملے گا،جو ایف ڈی آئی ،جو انویسٹ کریں گے،اس پر آہستہ آہستہ غیر ملکی کمپنیوں کو اونرشپ دینے اور اس کوکنٹرول کرنے کا بھی التزام کیا گیا ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں جو کنٹرول کریں گی اور غیر ملکی سرمایہ کار جو پیسہ لگانے کی کوشش کریں گے،وہ ہمارے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی صورت حال پیدا کریں گے۔
کھڑگے نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ وہ یہ بل کس مقصد سے لائی ہے۔یہ حکومت نجکاری پر بہت زور دے رہی ہے، ان کا بھروسہ نجی شعبہ پر ہی ہے ،اس لئے ہم یہ وضاحت چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے کہ ایسے قدم اٹھانے کا اس کا مقصد کیا ہے۔ حکومت بتائے کہ وہ ہندوستانی کمپنیوں کو غیر ملکی ہاتھوں میں کیوں سونپنا چاہتی ہے۔واضح رہے کہ ’بیمہ ترمیمی بل‘ کو راجیہ سبھا میں پاس کراتے وقت کانگریس اور اپوزیشن کی دیگر کئی پارٹیوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے بائیکاٹ کردیا تھا۔ اس سلسلے میں منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں شیوسینا سے انل دیسائی ، سماجوادی پارٹی سے نشاد صاحب ، سی پی آئی ایم سے جھرنا داس ، کانگریس سے کیلکر جی ، امی یاگنک ، سماج وادی پارٹی سے سکھرام ، ڈی ایم کے سے النگون ، سی پی آئی سے ونوئے وشوم ، آر جے ڈی سے پروفیسر منوج کمار جھا ، این سی پی سے فوزیہ خان اورکانگریس سے سید ناصر حسین شامل ہوئے۔
اس موقع پر کھڑگے نے کہا کہ ہم یہاں پر سبھی پارٹی کے لیڈر ایوان میں جو کچھ ہوا ہے وہ بتانا چاہتے ہیں ۔ہم انشورنس ترمیمی بل کے خلاف ایوان میں اڑے رہے ، ہمارا مقصد ایک ہی تھا ، جو انشورنس بل لایا گیا ہے اس میں بہت سی خامیاں ہیں،ان کو دور کیا جائے تو اس لئے ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجنا چاہئے کیونکہ بل میں جو ہے وہ نہیں بتایا جارہا بلکہ عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ کھڑگے نے کہا کہ اپنے سرمایہ کار دوستوں کی مدد کرنے کے لئے مودی صاحب ہمیشہ ایسا قانون لاتے ہیں جس سے ملک کو ہی خطرہ پیدا ہو جائے ۔ اب ان کی کوشش ہے کہ ریزرویشن کو کسی طرح ختم کردیا جائے۔ اسی کے لئے یہ ہر سرکاری کمپنی کی نجکاری کررہے ہیں۔ یہ ایک چال ہے جسے ملک کے عوام کو سمجھنا چاہئے۔ خاص کرکے او بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی کو جو مواقع سرکاری ملازمتوں میں ملتے ہیں انہیں ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت کی اس حرکت سے بڑے پیمانے پر لوگ بے روزگار ہو جائیں گے ۔ یہ بہت بڑا سیکٹر ہے جہاں لوگوں کو روزگار ملتا ہے لیکن اس قانون کی وجہ سے اس میں تخفیف ہو جائے گی ۔ انھو ں نے کہا کہ اس پر حکومت گمراہ کن بات کرتی ہے ۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے ۱۹۵۶ء میں بیمہ کمپنی کو نیشنلائز کیا تھا ۔ ان کا مقصد تھا کہ عام لوگوں کو اس کا فائدہ ملے ۔ جس طرح بعد میں اندرا گاندھی نے پرائیویٹ بینکوں کو نیشنلائز کیا تھا لیکن موجودہ حکومت ان کو فروخت کرنے کا کام کر رہی ہے ۔ آج اس کے خلاف پورے ملک میں آواز بلند ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ دو دن بینک ملازمین نے اور ایک دن ایل آئی سی کے ورکروں نے ہڑتال کی تھی ۔
انشورنس بل کا مقصد حکومت یہی بتارہی ہے کہ اس سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا اور نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی کیوں کہ نجی کمپنیاں زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگاکر اس سیکٹر کو اور بھی بہتر بنانے کی کوشش کریں گی مگر اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس حرکت کے ذریعے انشورنس جیسے سیکٹر کو نجی ہاتھوں میں سونپنے کا انتظام کررہی ہے جس سے بے روزگاری بڑھ جائے گی۔