پچھلے کچھ عرصے سے بار بار خبردار کرتا آ رہا تھا کہ مودی حکومت کچھ بھی کہے، ٹرمپ اس میں کامیاب ہو جائیں گے کہ وہ ہندوستان کو ایک تجارتی معاہدے پر مجبور کریں۔ چاہے جتنا بھی پروپیگنڈا ہو، اس ڈیل میں زراعت کو شامل کیا جائے گا۔ پچھلے کئی مہینوں سے درباری میڈیا یہ پھیلا رہا تھا کہ مودی نے امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگست میں وزیر اعظم نے سینہ ٹھونک کر کہا تھا کہ کسان، مویشی پرور اور ماہی گیر ان کی اولین ترجیح ہیں اور ان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جو چاہتے تھے، مودی حکومت نے وہی کیا۔ تصویر: آئی این این
پچھلے کچھ عرصے سے بار بار خبردار کرتا آ رہا تھا کہ مودی حکومت کچھ بھی کہے، ٹرمپ اس میں کامیاب ہو جائیں گے کہ وہ ہندوستان کو ایک تجارتی معاہدے پر مجبور کریں۔ چاہے جتنا بھی پروپیگنڈا ہو، اس ڈیل میں زراعت کو شامل کیا جائے گا۔ پچھلے کئی مہینوں سے درباری میڈیا یہ پھیلا رہا تھا کہ مودی نے امریکہ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگست میں وزیر اعظم نے سینہ ٹھونک کر کہا تھا کہ کسان، مویشی پرور اور ماہی گیر ان کی اولین ترجیح ہیں اور ان کے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: معاشیانہ: کیا جین زی معیشت کا ’’پاور سینٹر‘‘ بن رہی ہے؟
یورپی یونین کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے میں زراعت کو باہر رکھنے پر بھی یہی دعویٰ کیا گیا کہ مودی کسانوں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔آخرکار وہی ہوا جو ہونا تھا۔ ہند پاک جنگ بندی کی طرح اس بار بھی ہندوستان عوام کو پہلی خبر امریکی صدر ٹرمپ سے ملی۔ ابھی تک وزیر اعظم نے کچھ نہیں کہا ہے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بیان آیا ہے لیکن ٹرمپ کے بیان میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ اس ڈیل میں زراعت کو شامل کیا گیا ہےجس کی تصدیق امریکہ کی وزیر زراعت بروک رولنز کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے امریکی کسانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اب ان کی فصلوں کیلئے ہندوستان کی منڈیوں کے دروازے کھول دیئے ہیں۔یقیناً اب ہندوستانی حکومت کی طرف سے لیپاپوتی کی کوششیں شروع ہوں گی لیکن درباری میڈیا کے پروپیگنڈے میں آنے سے پہلے کچھ بنیادی حقائق پر غور کرنا ضروری ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے، چاہے کسی بھی پارٹی کی حکومت رہی ہو، ہندوستان کی پالیسی یہ رہی ہے کہ زراعت کو بین الاقوامی تجارتی معاہدوں سے باہر رکھا جائے تاکہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ ہندوستانی کسانوں کو غیر ملکی تجارت سے خطرہ اسلئے نہیں ہے کہ وہ نااہل ہے، بلکہ اسلئے کہ دنیا کے تمام بڑے زرعی پیداواری ممالک اپنے کسانوں کو بھاری سبسیڈی دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عالمی منڈی میں اپنی پیداوار سستے داموں فروخت کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، ہندوستانی حکومت کسانوں کو جتنا دیتی ہے، اس سے زیادہ اس کی جیب سے نکال لیتی ہے۔ تکنیکی زبان میں کہا جائے تو ہندوستان میں کسان کو’ منفی سبسیڈی‘ ملتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قاری نامہ: غازی آباد میں جو کچھ ہوا، والدین، سرپرست اور سماج کی ذمہ داریاں؟
اسی لئے جن فصلوں کی ہندوستان میں مناسب پیداوار ہوتی ہے، ان پر درآمدی محصولات لگا کر حکومت کسانوں کو بازار میں غیر ملکی مال کی فراوانی سے بچاتی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت پچھلے برسوں میں ہونے والے تمام غیر ملکی تجارتی معاہدوں سے زرعی مصنوعات کو باہر رکھا گیا البتہ یورپی یونین کے ساتھ مجوزہ معاہدے میں پروسیسڈ فوڈ کی اجازت دی گئی ہے، جس کا اثر بالآخر ہمارے کسانوں پر پڑ سکتا ہے۔ٹرمپ نے ہندوستان حکومت کو اس پالیسی کو پلٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ابتدا سے ہی امریکی مذاکرات کاروں کی نظرہندوستان کی زرعی منڈی پر تھی۔ امریکہ دنیا میں مکئی، سویا بین اور کپاس کے سب سے بڑے پیدا کرنے والے ممالک میں سے ہے۔ پچھلے کچھ برسوں میں وہاں پیداوار بڑھی ہے، لیکن چین نے مکئی اور سویا بین کی خرید کم کر دی ہے۔ پچھلے سال امریکی محکمہ تجارت کی ایک رپورٹ میں اس زائد پیداوار کی کھپت کیلئے ہندوستان کو ایک بڑے ممکنہ بازار کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔
ان کیلئے رکاوٹ یہ تھی کہ ہندوستان میں درآمدی محصولات بہت زیادہ ہیں اور امریکہ کی زیادہ تر مکئی اور سویا بین جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) ہیں، جن پر ہندوستان میں پابندی ہے۔ امریکہ بھارت کو دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات بھی بیچنا چاہتا ہے، لیکن یہاں بھی محصولات کے علاوہ بھارت کی یہ شرط ہے کہ جس جانور کا دودھ ہو، اسے گوشت خور خوراک نہ دی گئی ہو۔ امریکہ ان تمام شرائط سے نجات چاہتا تھا۔ابھی تک معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئی ہیں، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ حکومت نے ان میں سے کون سی شرائط تسلیم کی ہیں۔ لیکن یہ طے ہے کہ زراعت کو شامل نہ کرنے کے عزم سے مودی حکومت پیچھے ہٹ گئی ہے۔ یہ بھی یقینی ہے کہ بادام اور سیب جیسی فصلوں کی بڑے پیمانے پر درآمد بڑھے گی اور ان کی پیداوار کرنے والے کسانوں کو نقصان ہوگا۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس کی پہلی ضرب مکئی، سویا بین اور گنے کے کسانوں پر پڑے گی۔
یہ بھی پڑھئے: یوجی سی کے نئے ضوابط کے اطلاق کا مطالبہ، طلبہ سڑکوں پر اُترے، ملک گیر مظاہرہ
پچھلے کچھ برسوں میں ملک میں مکئی اور سویا بین کی پیداوار بڑھی ہے اور کسانوں کو ان کی بہتر قیمت بھی ملی ہے۔ امریکہ کی سستی مکئی اور سویا بین کی درآمد سے بھارتی منڈی میں ان کی قیمتیں گریں گی۔ کپاس کے معاملے میں شاید ایسا نہ ہو، کیونکہ پچھلے کچھ برسوں سے کپاس کی پیداوار گھٹی ہے اور ہمیں اسے بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا بالواسطہ نقصان گنے کے کسانوں کو ہوگا۔ امکان ہے کہ مکئی اور سویا بین میں جی ایم فصلوں پر پابندی سے بچنے کے لیے حکومت ان کے تیل اور ایتھنول میں استعمال کی اجازت دے دے۔ اس وقت ملک میں گنے کی بہتات ہے اور شوگر ملیں ایتھنول بنا کر کسانوں سے گنا خرید پا رہی ہیں۔ اگر امریکہ سے ایتھنول آنے لگا تو شوگر ملیں اور گنے کے کسان دونوں بحران میں پھنس جائیں گے۔ ڈیری کے بارے میں فی الحال کچھ واضح نہیں ہے، لیکن اگر اس پر محصولات اور پابندیاں ہٹا دی گئیں تو بھارت کے مویشی پروروں کے لیے سنگین بحران کھڑا ہو جائے گا۔باہر سے آنے والے اس بحران کو اندرونی بے حسی کے ساتھ جوڑنے پر پوری تصویر سامنے آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دولت، شہرت، ثروت، شجاعت اورذہانت.....سب سے اہم ہے : ہدایت
کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ نئے بجٹ میں ہماری وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے نام کیلئے بھی کسانوں کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ محض خانہ پری کے لیے جو اسکیموں کا اعلان کیا جاتا تھا، وہ بھی نہیں کیا گیا۔ زراعت اور اس سےمر بوط تمام درآمدات پر اخراجات کا تناسب ۲۰۱۹ء کے بعد سے مسلسل کم ہوتا رہا ہے، اور اس سال تین اعشاریہ ۳۸؍ فیصد سے گھٹا کرتین اعشاریہ۴؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ یہی نہیں، پچھلے سال جن چھ خصوصی مشنوں کا اعلان کیا گیا تھا، ان کے لیے بجٹ میں ایک پیسہ بھی مختص نہیں کیا گیا۔ اوپر سے یوریا کی سبسڈی کم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہےاور کاشتکاری کے طویل مدتی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ مجموعی طور پر حکومت نے کسانوں کو خدا کے بھروسے چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کسان اور کسان تنظیمیں اس چیلنج کا مقابلہ کس طرح کرتی ہیں۔