’’دی وائر‘‘ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق ایک اینی میشن ویڈیو کو مبینہ سرکاری حکم پر بلاک کیے جانے کے بعد متعدد پریس تنظیموں نے اسے آزادیٔ اظہار پر ضرب قرار دیا ہے۔ صحافتی اداروں نے شفافیت اور قانونی جواز کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 4:12 PM IST | New Delhi
’’دی وائر‘‘ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق ایک اینی میشن ویڈیو کو مبینہ سرکاری حکم پر بلاک کیے جانے کے بعد متعدد پریس تنظیموں نے اسے آزادیٔ اظہار پر ضرب قرار دیا ہے۔ صحافتی اداروں نے شفافیت اور قانونی جواز کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستان میں آزادیٔ اظہار اور ڈجیٹل سینسرشپ کے حوالے سے ایک نئی بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب خبر رساں ویب سائٹ ’’دی وائر‘‘ کے وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق ایک اینی میشن ویڈیو کو مبینہ طور پر حکومتی حکم کے تحت بلاک کر دیا گیا۔ اس اقدام پر متعدد صحافتی تنظیموں اور پریس باڈیز نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے جمہوری اقدار کے لیے تشویش ناک قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مذکورہ اینی میشن ویڈیو میں سرکاری پالیسیوں اور وزیر اعظم کے کردار پر تنقیدی اور طنزیہ انداز اپنایا گیا تھا۔ بعد ازاں یہ ویڈیو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا اور یہ ملک میں دستیاب نہ رہا۔ اطلاعات ہیں کہ یہ اقدام انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت جاری کردہ بلاکنگ آرڈر کے نتیجے میں کیا گیا۔ صحافتی تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی تنقیدی یا طنزیہ مواد کو بلاک کرنا اظہارِ رائے کے بنیادی حق کو محدود کرتا ہے۔ بیان میں زور دیا گیا کہ جمہوری معاشروں میں حکومتی عہدیداران تنقید اور سوالات کا سامنا کرتے ہیں، اور میڈیا کا کردار احتساب کو یقینی بنانا ہے۔ تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ بلاکنگ آرڈر کی مکمل تفصیلات اور قانونی بنیاد عوام کے سامنے رکھی جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: اویسی نے پارلیمنٹ میں حکومت کو آئینہ دکھایا
کچھ تنظیموں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کو ہٹانے کے فیصلے اکثر شفاف عمل کے بغیر کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی مواد پر اعتراض ہے تو اس کا قانونی جائزہ عدالت میں ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی حکم کے ذریعے فوری طور پر بلاک کر دیا جائے۔ انہوں نے اسے ’’آزادیٔ اظہار کے دائرے کو کم کرنا‘‘ قرار دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت حکومت کو مخصوص حالات میں مواد بلاک کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم اس اختیار کے استعمال میں شفافیت اور تناسب بنیادی اصول ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بلاکنگ کا فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے تو اس کی وجوہات واضح طور پر بیان کی جانی چاہئیں۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں: میونسپل اسپیشل کمیٹی فار ایجوکیشن کی تشکیل کیلئے پیش رفت
ادھر آزادیٔ صحافت کے حامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ تنقیدی یا طنزیہ اظہار پر قدغن جمہوری مکالمے کو محدود کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق صحافت اور تخلیقی اظہار کو قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے، جب تک کہ وہ براہِ راست تشدد، نفرت یا واضح طور پر جھوٹی معلومات پر مبنی نہ ہو۔ دی وائر کی جانب سے جاری ردِعمل میں کہا گیا کہ پلیٹ فارم آزادیٔ اظہار کے اصول پر قائم ہے اور وہ قانونی راستے اختیار کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم اس معاملے پر حکومت کی جانب سے باضابطہ تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھئے: ملک گیر ہڑتال کا کئی ریاستوں میں زیادہ تو کئی ریاستوں میں جزوی اثر
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہندوستان میں ڈجیٹل میڈیا، آن لائن مواد اور سنسرشپ سے متعلق قوانین پر وسیع بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ایسے معاملات عدالتی تشریح اور پالیسی اصلاحات کا سبب بن سکتے ہیں۔ اینی میشن ویڈیو کی بلاکنگ نے ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کر دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار، حکومتی اختیار اور ڈجیٹل ضابطہ کاری کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔