آئی ایم ایف کے اقدام سے عالمی سطح پر ہندوستان کی رُسوائی ، اپوزیشن حکومت پر حملہ آور، ہندوستانی روپیہ کو بھی ’’غیر مستحکم‘‘ قرار دیا جاچکاہے۔
جے رام رمیش نے آئی ایم ایف کے حوالے سے مودی سرکار کو نشانہ بنایا ہے۔ تصویر:آئی این این
ایک طرف ہندوستانی میڈیا ۲۰۲۶ء میں مجموعی گھریلو پیداوار ’’جی ڈی پی‘‘ کے ۲ء۸؍ فیصد رہنے کی قیاس آرائیوں پر حکومت کی پزیرائی کررہا ہے دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ’’آئی ایم ایف‘‘ نے مودی حکومت کے فراہم کردہ جی ڈی پی اور دیگر اعدادوشمار کے اعتبار پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے اسے ’’سی گریڈ‘‘ میں ڈال دیا ہے۔ اس پر اپوزیشن نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور جی ڈی پی کو ناپنے کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلی ایک بار پھر موضوع بحث ہے۔ اس سے قبل آئی ایم ایف ہندوستانی کرنسی کو مستحکم سے’’ آہستہ آہستہ تبدیل پر آمادہ ‘‘ کے زمرے میں منتقل کر چکا ہے۔
ہندوستان کے اعدادوشمار ناقابل اعتبار؟
آئی ایم ایف کے سالانہ جائزے میں جو گزشتہ دنوں جاری ہوا ہے،ہندوستان کے قومی حساب کتاب سے متعلق اعداد و شمارکو ’’سی گریڈ‘‘ کردیا گیاہے۔ یہ دوسرا کم ترین درجہ ہے۔ جن اعدادوشمار کو ’سی گریڈ‘ کیاگیا ہے ان میں جی ڈی پی کے ساتھ ہی ’’گراس ویلیو ایڈیڈ‘‘( جی وی اے) (مجموعی قدرِ افزوں)جیسی اہم شرحیں شامل ہیں۔
سی گریڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دستیاب ڈیٹا میں ’’کچھ خامیاں‘‘ ہیں جو معاشی نگرانی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’قومی حساب کتاب کے اعداد و شمار مناسب وقت پر دستیاب ہوتے ہیں اور ان میں مناسب تفصیل موجود ہے، تاہم کچھ سائنسی اورطریقہ کار کی کمزوریاں معاشی نگرانی میں رکاوٹ بنتی ہیں، اسی لیے اس شعبے کو ’سی‘ درجہ دیا گیا ہے۔‘‘آئی ایم ایف کی درجہ بندی میں ’اے ،بی ،سی اور ڈی‘یہ چار گریڈ ہوتے ہیں۔
۱۲-۲۰۱۱ء کی بنیاد پر حساب
رپورٹ میںنشاندہی کی گئی ہے کہ یہ اعداد و شمار۱۲-۲۰۱۱ء کی پرانی بنیاد پر مبنی ہیں اور اس میں ڈیٹا کی بنیاد ہول قیمتوں کو بنایاگیا اور پروڈیوسر پرائس انڈیکس فراہم نہیں کیاگیا۔ اس کے علاوہ جی ڈی پی کے حساب میں پیداواری اور اخراجاتی طریقوں کے درمیان بھی اکثر ’’نمایاں فرق‘‘ پایا جاتا ہے جو غیر رسمی شعبے اور اخراجاتی اعداد و شمار کے کمزور احاطے کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ میں بہرحال یہ اطمینان ظاہر کیا گیا ہے کہ حکومت۲۰۲۶ء تک جی ڈی پی اور سی پی آئی کے نظام کو نئے بیس ایئر(بنیاد بنائے جانے والے) کے ساتھ جدید بنانے پر کام کر رہی ہے۔ گزشتہ سال بھی اس زمرے میں ہندوستان کو ’’سی گریڈ‘‘ ہی ملا تھا۔
ہندوستانی ماہرین نے بھی خامی کو تسلیم کیا
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے معاشیات کے سابق پروفیسر ارون کماراور جو ہندوستان کے محکمہ شماریات کے سابق سربراہ پرنب سین نے ’دی وائر‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں آئی ایم ایف کی تائید کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ اس بات سے پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان غیر منظم شعبے کا اندازہ لگانے کیلئے منظم شعبے کو بطور پیمانہ استعمال کرتا ہے، جبکہ غیر منظم شعبہ بشمول زرعی شعبہ، جی ڈی پی کا تقریباً۴۵؍ فیصد ہے۔ لیکن اگر دونوں شعبے مخالف سمت میں حرکت کر رہے ہوں جیسا کہ نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور کورونا کے بعد ہواتو غیر منظم شعبے کا اندازہ یا تو بہت زیادہ یا بہت کم لگ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’معاشی دعوے تقریباً ۵۰؍ فیصد غلط ہیں، سرکار ہندوستانی معیشت کا حجم ۳ء۸؍ٹریلین ڈالر بتاتی ہے جبکہ میرا اندازہ ہے کہ یہ اب بھی۵ء۴؍ ٹریلین ڈالر کے آس پاس ہے۔‘‘
اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھو ں لیا
کانگریس لیڈر جے رام رمیش اور سپریہ شرینیت نے اس ضمن میں مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔شرینیت نے کہا ہے کہ ’’ہندوستان کی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے۔اس سے ہمارا اعتبار مشکوک ہوجاتاہے۔‘‘ جے رام رمیش نے میڈیا میں مباحثہ کو تبدیل کرنے کی حکمت عملی پر نکیر کی اورکہا ہے کہ یہ کیسا اتفاق ہے کہ جب آئی ایم ایف نے جی ڈی پی سے متعلق ہندوستان کے فراہم کردہ اعدادوشمار کو ’سی گریڈ‘ کیا ہے تبھی شرح نمو کے ۸ء۲؍ فیصدرہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔‘‘