Updated: March 03, 2026, 7:04 PM IST
| Jerusalem
اسرائیلی فورسیز نے اتوار کی شام مقبوضہ مشرقی یروشلم کے پرانے شہر میں شیخ لولو مسجد سے نمازیوں کو زبردستی باہر نکال دیا اور عشاء اور تراویح کی ادائیگی روک دی۔ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب مسلسل دوسرے دن بھی مسجد اقصیٰ بند رہی اور شہر میں ہنگامی اقدامات کے تحت سخت پابندیاں نافذ رہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سیکوریٹی بندشیں مزید سخت کر دی گئی ہیں اور داخلی راستوں پر چیک پوائنٹس میں اضافہ ہوا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی اہلکار عشاء کی اذان سے کچھ دیر قبل شیخ لولو مسجد میں داخل ہوئے اور نمازیوں کو فوری طور پر باہر نکلنے کا حکم دیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فورسیز نے مسجد کو خالی کروا کر عشاء اور تراویح کی نماز ادا کرنے سے روک دیا۔ مقامی باشندوں نے بتایا کہ ’’فورسیز نے بغیر پیشگی اطلاع کے مسجد میں داخل ہو کر عبادت روک دی اور نمازیوں کو منتشر کر دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نے کئی ماہ تک ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا
مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب الاقصیٰ مسجد مسلسل دوسرے روز بھی بند رہی۔ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے جب مسجد اقصیٰ میں تراویح نہیں ادا کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے ایران پر حالیہ حملوں کے بعد اعلان کردہ ہنگامی حالت کا حوالہ دیتے ہوئے بندش کو سیکوریٹی اقدام قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق ’’علاقائی کشیدگی کے پیش نظر عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے عارضی اقدامات ناگزیر ہیں۔‘‘ پرانے شہر کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، شناختی جانچ سخت کر دی گئی ہے اور متعدد علاقوں میں نقل و حرکت محدود ہے۔
تازہ پیش رفت
(۱) مقامی ذرائع کے مطابق پرانے شہر کے اطراف میں سیکوریٹی اہلکاروں کی نفری میں اضافہ کیا گیا ہے۔
(۲) بعض داخلی راستوں پر غیر مقامی افراد کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
(۳) شہر میں متعدد دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے، جس سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
(۴) انسانی حقوق کے کارکنوں نے عبادت اور نقل و حرکت کی آزادی پر قدغن کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔
ایک مقامی سماجی کارکن نے کہا کہ ’’عبادت گاہوں کی بندش اور اجتماعی نماز کی ممانعت شہری حقوق پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔‘‘
یہ بھی پرھئے: ٹرمپ نے ایران میں تبدیلی کا پاگل پن ترک نہ کیا تو تیسری عالمی جنگ ہوگی: روس
علاقائی پس منظر
اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں ہنگامی اقدامات نافذ کیے ہیں، جن کے تحت حساس مقامات پر سیکوریٹی سخت کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے احتیاطی نوعیت کے ہیں۔ دوسری جانب فلسطینی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات شہر میں مذہبی آزادی کو محدود کرتے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔
موجودہ صورتحال
تاحال یہ واضح نہیں کہ مسجد اقصیٰ اور دیگر عبادت گاہیں کب تک بند رہیں گی۔ سیکوریٹی اداروں نے کہا ہے کہ صورتحال کا روزانہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔