• Mon, 19 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں مودی کی ریلی، گوہاٹی میں روڈ شو، ٹی ایم سی پر شدید حملہ

Updated: January 18, 2026, 9:06 AM IST | Guwahati

اسمبلی الیکشن پر نظر، وزیراعظم نے ’دراندازی ‘ کو مغربی بنگال کا سب سے بڑا مسئلہ قراردیا، ممتا بنرجی پردراندازوں کو ووٹر بنا نے اور مرکزی فنڈعوام تک نہ پہنچنے دینے کا الزام بھی لگایا

Crowds throng Prime Minister Modi`s rally in Malda. (Photo: PTI)
مالدہ میں وزیراعظم کی مودی کی ریلی میں اُمڈنے والی بھیڑ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

 وزیراعظم نریندر مودی  کے مغربی بنگال اور آسام کے دوروں میں اضافہ ہوگیا ہے۔  ان دونوں ریاستوں میں امسال  اسمبلی الیکشن ہونے ہیں۔ بی جےپی جہاں آسام میں اپنا اقتدار بچانے کیلئے پُریقین ہے وہیں  وہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی سے اقتدار چھین لینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے۔ وزیراعظم نے مالدہ میں ملک کی پہلی  وندے بھارت سلیپر ٹرین کا افتتاح کرنے کے بعد عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ’’گھس پیٹھیوں‘‘ (دراندازوں) کا معاملہ اٹھایا اور الزام لگایا کہ ممتا بنرجی دراندازوں کو ووٹر بنا رہی ہیں۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے ٹی ایم سی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ ظالمانہ طریقے سے حکمرانی کررہی ہے اور مرکزی حکومت کا فند اورا اسکیموں کا فائدہ غریبوں تک نہیں پہنچنے دے رہی ہے۔  مالدہ میں ریلی کے بعد وہ آسام پہنچے جہاں  گوہاٹی میں وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے ان کا خیر مقد کیا اوراس کے بعد انہوں نے روڈ شو کیا۔ 
سرکاری دورہ  میں  وزیراعظم کی سیاسی ریلی
 وزیر اعظم نریندر مودی  حالانکہ وندے بھارت سلیپر ٹرین کا افتتاح کرنے کیلئے سرکاری دورے پر مغربی بنگال پہنچے ہیں مگر یہاں انہوں نے عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی تقریر کی ۔  انہوں نے کہا کہ ’’ترنمول کانگریس دراندازوں کو ووٹروں میں تبدیل کر رہی ہے۔‘‘انہوںنے  دراندازی کو بنگال کیلئے بہت بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ دنیا بھر کے ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک، جن کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں، وہ  بھی دراندازوں کو اپنےیہاں سے نکال رہے ہیں۔لہٰذامغربی بنگال سے دراندازوں کو نکالنا بھی بہت ضروری ہے۔‘‘
وزیر اعظم  نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال کے کئی علاقوں میں آبادی کا توازن بگڑ رہا ہے۔ کچھ جگہوں پر بولی جانے والی زبان بھی بدل رہی ہے۔ بہت سی جگہوں پر زبان اور بولی کے درمیان فرق ہے۔
ؕمرشدآباد کے تشدد کا فائدہ اٹھانے کی کوشش
اس بیچ وزیراعظم نے مرشد آباد کے تشدد کا بھی سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ یہاں جھارکھنڈ میں بنگال کے ایک مزدور  کی موت کےخلاف احتجاج ہورہے ہیں  جو جمعہ کے بعد سنیچر کو بھی جاری رہے۔وزیراعظم نے  ان کا حوالہ دیئے بغیر کہا کہ ’’دراندازوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے مالدہ اور مرشد آباد سمیت مغربی بنگال کے کئی علاقوں میں فسادات ہورہے ہیں۔ انہوںنے مزید الزام عائد کیا کہ مغربی بنگال میں دراندازوں اور حکمراں جماعت کے درمیان ساز باز ہے۔اس کے ساتھ ہی  مودی نے اعلان کیا کہ ’’بی جے پی کی حکومت بنتے ہی دراندازی اور دراندازی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘
 اس سے قبل مالدہ ٹاؤن اسٹیشن سے ہاوڑہ-کامکھیا کے درمیان ملک کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے موقع پر طلبہ سے بات چیت میں انہوںنے کہا کہ ’’ابھی گزشتہ روز ہی مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا، جس میں بی جے پی نے تاریخی فتح حاصل کی۔ بالخصوص بی جے پی نے پہلی بار مہاراشٹر کی راجدھانی اور دنیا کی سب سے بڑی میونسپل کارپوریشنوں میں سے ایک بی ایم سی میں  ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔ابھی کچھ دن پہلے ہی کیرالہ کی راجدھانی ترواننت پورم میں بی جے پی کے میئر بنے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان جگہوں پر بھی جہاں کبھی بی جے پی کیلئے  الیکشن جیتنا ناممکن سمجھا جاتا تھا، اب بی جے پی کو بے مثال حمایت مل رہی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک کے ووٹرز اور جنریشن زی بی جے پی کے ترقیاتی ماڈل پر کتنا بھروسہ کرتے ہیں۔‘‘  انہوں نے الزام لگایا کہ ’’کئی دہائیوں تک، مشرقی ہندوستان نفرت کی سیاست کرنے والوں کی گرفت میں رہا۔ بی جے پی نے ان ریاستوں کو نفرت کی سیاست کرنے والوں کے چنگل سے آزاد کرایا ہے۔‘‘
’’ مشرقی ریاستوں کو بی جےپی پر بھروسہ‘‘
وزیر اعظم  نے کہا کہ ’’اگر مشرقی ریاستوں کو کسی پر بھروسہ ہے تو وہ  بی جے پی ہے۔ادیشہ میں پہلی بار بی جے پی کی حکومت بنی ہے، تریپورہ نے کئی سالوں سے بی جے پی پر بھروسہ کیا ہے، آسام نے بھی پچھلے انتخابات میں بی جے پی کا ساتھ دیا تھا، اور کچھ دن پہلے بہار میں ایک بار پھر بی جے پی،این ڈی اے کی حکومت بنی۔اس کا مطلب ہے کہ اب گڈ گورننس کے لیے بنگال کی باری ہے۔ ‘‘ہندوستانی ریلوےکو جدید اور خود انحصاری کی طرف لے جانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی لوکوموٹیوز، ہندوستانی ٹرین کے ڈبے، اور ہندوستانی میٹرو کوچ سبھی ہندوستان کی ٹیکنالوجی کی پہچان بن رہے ہیں۔آج، ہم امریکہ اور یورپ سے زیادہ انجن تیار کرتے ہیں۔ ہم دنیا کے کئی ممالک کو مسافر ٹرینیں اور میٹرو کوچز برآمد کرتے ہیں۔یہ سب ہماری معیشت کو بہت فائدہ پہنچاتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK