Inquilab Logo Happiest Places to Work

جین زی، جین الفا، موجودہ نسل سے زیادہ دیانتدارہے: موہن بھاگوت

Updated: August 06, 2026, 9:22 PM IST | Mumbai

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ممبئی میں جین زی اور جین الفا طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل موجودہ نسل کے مقابلے میں زیادہ ایماندار، صاف گو اور سوال پوچھنے کی عادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان بغیر سوچے سمجھے احکامات ماننے کے بجائے منطق اور مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں، جو ایک صحت مند جمہوری معاشرے کی علامت ہے۔ بھاگوت نے اس بات پر زور دیا کہ بزرگوں کو نئی نسل پر اپنے خیالات مسلط کرنے کے بجائے ان سے بات چیت کرنی چاہئے۔

Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) chief Mohan Bhagwat. Photo: X
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت۔ تصویر: آئی این این

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت نے ممبئی میں منعقدہ ایک خصوصی پروگرام کے دوران جین زی اور جین الفا سے تعلق رکھنے والے دو ہزار سے زائد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل موجودہ نسل کے مقابلے میں زیادہ ایماندار، بے باک اور حقیقت پسند ہے۔ ان کے مطابق نوجوان سوال پوچھنے سے نہیں گھبراتے اور کسی بھی بات کو صرف اس لیے قبول نہیں کرتے کہ انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ تقریب International Movement to Unite Nations (I.I.M.U.N.) کی ۱۵؍ ویں سالگرہ کے موقع پر ممبئی کے این ایم اے سی سی میں منعقد ہوئی، جس میں ملک کے تقریباً ۱۰۰؍ شہروں سے آئے ہوئے ۱۵؍ سے ۱۹؍ سال عمر کے دو ہزار سے زائد طلبہ نے شرکت کی۔ پروگرام کا موضوع ’’The Role of Youth in Uniting the World, the Indian Way‘‘ تھا۔ 

موہن بھاگوت نے خطاب میں کہا کہ ’’جین زی اور جین الفا موجودہ نسل سے زیادہ دیانت دار ہیں۔ یہ نوجوان اپنی رائے کھل کر بیان کرتے ہیں اور جو محسوس کرتے ہیں، وہی کہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ نسل صرف حکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی بلکہ ہر بات کی وجہ جاننا چاہتی ہے، اور یہی اچھی بات ہے۔‘‘ انہوں نے والدین، اساتذہ اور سماجی لیڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج کے نوجوانوں پر خیالات مسلط نہیں کیے جا سکتے۔ انہیں سمجھانا ہوگا، ان سے گفتگو کرنی ہوگی اور ان کی بات بھی سننی ہوگی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے ساتھ تعلقات کی بنیاد اعتماد، احترام اور بات چیت ہونی چاہیے، نہ کہ صرف احکامات۔ 
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ نوجوانوں میں سچائی، حساسیت اور انصاف کا احساس پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے مطابق اگر انہیں صحیح رہنمائی اور اظہارِ خیال کا مناسب ماحول فراہم کیا جائے تو یہی نسل مستقبل میں ملک اور دنیا کی بہتر قیادت کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کے سوالات کو شک یا بغاوت کے طور پر نہیں بلکہ سیکھنے اور بہتر فیصلے کرنے کی خواہش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ یہ پروگرام ایسے وقت منعقد ہوا جب حالیہ ہفتوں میں امتحانی بے ضابطگیوں، تعلیم اور روزگار سے متعلق نوجوانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج اور عوامی مباحث دیکھنے میں آئے۔ اس سے قبل بھی موہن بھاگوت کہہ چکے ہیں کہ ’’آج کے نوجوانوں کو حکم نہیں بلکہ بات چیت چاہیے‘‘ اور اختلافِ رائے جمہوری عمل کا ایک جائز حصہ ہے۔ انہوں نے حالیہ طلبہ احتجاج کے حوالے سے بھی کہا تھا کہ نوجوانوں کی شکایات حقیقی ہیں اور احتجاج جمہوریت میں اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا ایک جائز ذریعہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: کاکروچ جنتا پارٹی عوام کے مسائل کو سمجھنے کیلئے اگلے ماہ ’کیا بولتی پبلک‘ مہم شروع کرے گی: دِپکے

سیاسی مبصرین کے مطابق آر ایس ایس کی جانب سے نوجوان نسل کے ساتھ مسلسل رابطے کی یہ کوشش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں جین زی اور جین الفا سماجی، تعلیمی اور سیاسی مباحث میں پہلے سے زیادہ فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں حالیہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی نوجوان ووٹروں تک رسائی کے لیے سوشل میڈیا پر نئی حکمت عملی اپنائی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK