Inquilab Logo Happiest Places to Work

کاکروچ جنتا پارٹی عوام کے مسائل کو سمجھنے کیلئے اگلے ماہ ’کیا بولتی پبلک‘ مہم شروع کرے گی: دِپکے

Updated: August 06, 2026, 7:46 PM IST | Aurangabad

کاکروچ جنتا پارٹی اگلے ماہ سے ملک بھر میں عوام کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کیلئے ’کیا بولتی پبلک‘ مہم شروع کرے گی۔ اس مہم کے دوران، پارٹی یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ لوگ ملک کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور انہیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Abhijeet Dipke. Photo: INN
ابھیجیت دِپکے۔ تصویر: آئی این این

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دِپکے نے جمعرات کو اعلان کیا کہ پارٹی اگلے ماہ سے ملک بھر میں عوام کے ساتھ بات چیت کرنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کیلئے ’کیا بولتی پبلک‘ مہم شروع کرے گی۔ اپنے آبائی شہر اورنگ آباد میں سی جے پی کی کور ٹیم کے اجلاس کے اختتام کے بعد ایک پریس کانفرنس میں سی جے پی سربراہ نے یہ اعلان کیا۔ واضح رہے کہ یہ اجلاس بدھ سے جاری تھا۔ دِپکے نے مزید کہا کہ اس مہم کے دوران، ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ لوگ ملک کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور انہیں کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: ’ملک میں جوابدہی طے کرنے کیلئے ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے‘

مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان کے استعفے کو طلبہ کی تحریک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے دِپکے نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ دس بارہ برسوں میں جو خوف پیدا کیا تھا وہ اب ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”لوگ اب سڑکوں پر آئیں گے۔ آج انہوں نے ایک شخص کا استعفیٰ مانگا ہے، کل وہ دوسروں کے استعفے کا مطالبہ کریں گے۔“ انہوں نے کہا کہ سی جے پی ایک ترقی یافتہ ہندوستان کیلئے بی آر امبیڈکر، مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے نظریات کے مطابق کام کرے گی، دِپکے نے مزید کہا کہ پارٹی کا نظریہ آئینِ ہند کا عکس ہے۔ پریس کانفرنس میں سی جے پی کے چیف ترجمان سورو داس، ترجمان آشودوش رانکا اور دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی: راہل گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کی اجازت منسوخ

واضح رہے کہ نیٹ پیپر لیک اور دیگر امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف گزشتہ ماہ نئی دہلی کے جنتر منتر پر سی جے پی کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں دھرمیندر پردھان کو مرکزی وزیرِ تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ دِپکے نے نوٹ کیا کہ اس احتجاج میں نہ صرف طلبہ بلکہ بے روزگار نوجوان بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے؛ ہم اسے ملک گیر مسئلہ بنائیں گے۔ ہم تعلیمی اصلاحات پر کام کریں گے۔ اسکولی تعلیم ہی سے تعلیم عام لوگوں کی پہنچ سے باہر رہی ہے۔ تعلیم کو منافع کمانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن ہم اسے بدلنا چاہتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدید تر، مزید ۵؍ بھوک ہڑتال پر بیٹھے

دِپکے نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ملک کی ۶۰ فیصد آبادی ۳۵ سال سے کم عمر ہے اور جنتر منتر کے مظاہرین زیادہ تر اسی عمر کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کی ساکھ کو بحال کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK