بجٹ ۲۶ء اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کے اعلان کے بعد ہونے والی اس میٹنگ میں افراط زر اور قومی معیشت کی نمو کے امکانات پر غور ہوگا۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 4:28 PM IST | New Delhi
بجٹ ۲۶ء اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کے اعلان کے بعد ہونے والی اس میٹنگ میں افراط زر اور قومی معیشت کی نمو کے امکانات پر غور ہوگا۔
رِیزو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کی سہ روزہ میٹنگ بدھ سے شروع ہوگئی جبکہ پالیسی میٹنگ کا نتیجہ جمعہ کو جاری کیا جائے گا۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی جانب سے یکم فروری کو ٹیکنالوجی کے فروغ کی تجاویز سے بھرپور بجٹ پیش کئے جانے کے بعد مرکزی بینک کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی یہ پہلی میٹنگ ہے۔ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کا اعلان تو ہوگیاہے مگر اس کے مشمولات ابھی غیر واضح ہیں۔
یہ اہم میٹنگ ایسے وقت میں بھی ہو رہی ہے جب ریزرو بینک گزشتہ سال کے دوران پالیسی میں قابلِ ذکر نرمی کر چکا ہے۔ آر بی آئی گزشتہ سال فروری سے اب تک کل۱۲۵؍ بیسس پوائنٹس کی کمی کرکے قرض دینے کی شرح یعنی ریپو ریٹ میں قابل ذکرکمی کر چکا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اقتصادی ترقی کی حمایت کرتا ہوا مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگلے تین دنوں میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اراکین مہنگائی کے رجحانات اور قومی معیشت کی ترقی کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے تفصیلی بات چیت کریں گے، جس کے بعد حتمی فیصلہ جمعہ کو جاری کیا جائے گا۔ دسمبر کی میٹنگ میں آر بی آئی نے پالیسی ریپو ریٹ میں ۲۵ ؍ بیسس پوائنٹس کی کمی کر چکاہے جس سے یہ شرح گھٹ کر ۵ء۲۵؍ فیصد ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی بینک نے اپنی معاشی ترقی کی پیش گوئی بھی تبدیل کی تھی۔ آر بی آئی نے موجودہ مالی سال میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی کا۷ء۳؍ فیصد رہنے کی امید ظاہر کی ہے جو پہلے کے تخمینے سے تقریباً آدھا فیصد زیادہ ہے۔ ملہوترا کی ٹیم کے اس نظرثانی شدہ تخمینے سے گھریلو معاشی سرگرمیوں اور مجموعی ترقی کی رفتار پر بڑھتے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ شماریات اور منصوبوں کے اطلاق کی مرکزی وزارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دسمبر۲۰۲۵ء میں ملک کا کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) دسمبر۲۰۲۴ء کے مقابلے سالانہ بنیاد پر۱ء۳۳؍ فیصد رہا۔ مہنگائی میں اضافہ ذاتی نگہداشت و ضروریات پر خرچ میں اضافہ نیز سبزیوں، گوشت و مچھلی، انڈے، مصالحے، دالوں اور ان سے بننے والی مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کے باعث ہوا۔
کسی بھی مرکزی بینک کے پاس پالیسی ریٹ مہنگائی سے نمٹنے کا ایک طاقتور ہتھیار ہوتا ہے۔ جب مہنگائی بہت زیادہ ہو جاتی ہے تو مرکزی بینک پالیسی ریٹ بڑھا کر معیشت میں پیسے کے بہاؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پالیسی ریٹ زیادہ ہونے پر بینکوں کو مرکزی بینک سے ملنے والا قرض مہنگا پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بینک اپنے صارفین کیلئےبھی قرض مہنگا کر دیتے ہیں۔ اس سے معیشت میں پیسے کا بہاؤ کم ہوتا ہے، جب پیسہ کم گردش کرتا ہے تو طلب گھٹتی ہے اور مہنگائی کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب معیشت بُرے دور سے گزر رہی ہو تو ریکوری کیلئے پیسے کا بہاؤ بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے میں مرکزی بینک پالیسی ریٹ کم کر دیتا ہے، جس سے بینکوں کو مرکزی بینک سے سستا قرض ملتا ہے اور وہ اپنے صارفین کو بھی کم شرح پر قرض فراہم کرتے ہیں۔ آر بی آئی کی میٹنگ ہر دو ماہ میں ہوتی ہےمانیٹری پالیسی کمیٹی میں ۶؍ ارکان ہوتے ہیں۔ ان میں سے۳؍ آر بی آئی کے ہوتے ہیں اور ۳؍ مرکزی حکومت کی جانب سے نامزد کئےجاتے ہیں۔