پٹیشن کو ’’قبل از وقت‘‘ قرار دیکر خارج کردیا، پہلے ٹربیونل سے رجوع کی ہدایت دی، ۱۹؍ ٹربیونلس میں ۳۴؍ لاکھ درخواستیں زیر سماعت ہیں، الیکشن سے پہلے فیصلہ مشکل۔
بنگال الیکشن۔ تصویر:پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال میں لاکھوں افراد کے ووٹنگ سے محروم رہ جانے کے اندیشوں پر پیر کو فکرمندی کااظہار کیا مگر اس کے خلاف داخل کی گئی عرضی کو قبل از وقت قرار دیکر خارج کردیا۔ایس آئی آر میں جن لوگوں کے نام کٹے ہیں، عدالت نے پہلے ریاست میں ہائی کورٹ کے ذریعہ قائم کئے گئے ۱۹؍ ٹربیونل سے روجوع کی ہدایت دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ریاست میں اسمبلی الیکشن کیلئے ۲۳؍ اور ۲۹؍ اپریل کو دومرحلہ میں ووٹنگ ہوگی اور اس بات کی امید کم ہے کہ ۳۴؍ لاکھ اپیلوں پر ٹربیونل اس سے قبل فیصلہ سنا سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے بعد جاری کی گئی ووٹنگ لسٹ کو فریز(منجمد) کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی جارہی ہے۔اس فیصلے کے مطابق جتنے نام اس وقت ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ میں ہیں وہیں ووٹ دے سکیں گے جبکہ ایسی لاکھوں مثالیں ہیں جہاں تمام دستاویز ہونے کے باوجود ووٹرس کےنام ایس آئی آر میں نہیں آئے ہیں۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالا باغچی کی بنچ قریشہ یاسمین اور دیگر کی عرضی پر سماعت کررہی تھی جن کے نام ایس آئی آر میں نہیں آئے اور انہوں نے ٹربیونل میں اپیل داخل کی ہے۔ بنچ نے کہاکہ’’چونکہ درخواست گزار (قریشہ یاسمین اور دیگر) پہلے ہی اپیلٹ ٹریبونلز سے رجوع کر چکے ہیں اس لئے ہمارے خیال میں پٹیشن میں ظاہر کی گئی تشویش قبل از وقت ہے۔ ‘‘
بنگال میں ایس آئی آر کےعمل میں ووٹر لسٹ سے تقریباً۹۱؍ لاکھ ووٹرز کے نام حذف ہو گئے ہیں جن میں سے تقریباً۳۴؍لاکھ افراد ٹربیونل میں اپیلیں داخل کرچکے ہیں۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ان اپیلوں پرفیصلے کیلئے۱۹؍ ٹریبونلز قائم کئے ہیں، جن کی سربراہی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور جج کر رہے ہیں۔
یہ درخواست ان۱۳؍ ووٹرس کی جانب سے دائر کی گئی تھی جن کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کے گئے ہیں۔ درخواست میں الزام لگایا گیا کہ الیکشن کمیشن بغیر مناسب قانونی عمل کے نام حذف کر رہا ہے اور اپیلوں کی بروقت سماعت نہیں ہو رہی۔ سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے، نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت۳۰؍ سے۳۴؍لاکھ اپیلیں زیر التوا ہیں۔
بنچ نے کہاکہ’’ہر ٹریبونل کو ایک لاکھ سے زائد اپیلوں کو نمٹانا ہے۔‘‘ درخواست گزاروں کے وکیل نے دلیل دی کہ الیکشن کمیشن نے متعلقہ عدالتی حکام کے سامنے ضروری احکامات پیش نہیں کئے اس لئے ووٹر لسٹ کو منجمد کرنے کی تاریخ میں توسیع کی جانی چاہیے۔انہوں نے سوال کیا کہ ’’کیا یہ اپیلیں کسی مقررہ مدت میں نمٹائی جائیں گی یا بس ملتوی ہوتی رہیں گی؟‘‘
سماعت کے دوران جسٹس باغچی نے ووٹنگ سے محرومی پر تشویش کااظہار کیا اور کہا کہ ووٹ دینے کا حق محض آئینی تقاضا نہیں بلکہ جمہوریت میں ایک’’جذباتی‘‘معاملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ’’جس ملک میں آپ پیدا ہوئے ہیں وہاں ووٹ دینے کا حق صرف آئینی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہے۔ یہ جمہوریت کا حصہ بننے اور حکومت کے انتخاب میں حصہ لینے کا معاملہ ہے۔‘‘تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق ججوں پر مشتمل ٹریبونل پر فیصلوں کیلئے وقت مقرر کر کے اضافی بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ انہوں نے ایک طرف یہ کہاکہ’’ ووٹروں کو ۲؍آئینی اداروں کے درمیان سینڈوِچ نہیںہونےدیا جاسکتا۔‘‘ مگر دوسری طرف یہ بھی واضح کیا کہ اس مرحلے پر انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پہلے ہی اپیلوں پر سماعت کے طریقہ کار کا تعین کر چکے ہیں، جس کا آغاز پیر سے ہو چکا ہے۔ بنچ نے کہاکہ’’جب تک بڑی تعداد میں ووٹرس کو خارج نہ کیا جائے یا اس سے انتخابات پر نمایاں اثر نہ پڑے تب تک انتخابات منسوخ نہیں کئے جا سکتے۔‘‘