ایرانی اورامریکی بحریہ آمنے سامنے،تہران کی بندرگاہوں پر آمدورفت پر بھی پہرہ ، ٹرمپ نے اتحادیوں سے مدد مانگی مگر نیٹو نےساتھ دینے سےانکار کردیا
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 8:34 AM IST | Tehran
ایرانی اورامریکی بحریہ آمنے سامنے،تہران کی بندرگاہوں پر آمدورفت پر بھی پہرہ ، ٹرمپ نے اتحادیوں سے مدد مانگی مگر نیٹو نےساتھ دینے سےانکار کردیا
کسی بھی صورت میں ایران کو زیر کرنے میں بے بس نظر آرہے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ہدایت پر اب امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کردی ہے۔اس کے ساتھ ہی اس نے شرانگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں پر تمام بحری آمدورفت کی بھی ناکہ بندی کر دی ہے جس کی وجہ سے صورتحال دھماکہ خیز ہوگئی ہے۔ ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہ کو نشانہ بنایاگیا تو پھر خطہ میں کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہےگی۔ اس بیچ پیر کو پھر ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے اتحادیوں سے مدد کی اپیل کی اورانہیں ٹکا سا جواب ملا۔ نیٹو نے ہرمز کی ناکہ بندی میں امریکہ کا ساتھ دینے سے صاف انکار کردیاہے۔ فرانس نے اعلان کیا ہے کہ ہرمز پر بہت جلد درجنوں ممالک ایک اجلاس کریں گے۔
آبنائے ہرمز پر امریکہ کی دھاندلی
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کردی گئی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک کے جہازکو ایرانی بندرگاہ یا ساحلی علاقوں تک جانے نہیں دیا جائے گا، تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں۔اس کے جواب میں ایران کی مسلح افواج نے بین الاقوامی پانیوں میں پابندیوں کوایک غیر قانونی عمل قرار دیا ہے، جو ’بحری قزاقی‘ کے مترادف ہے۔
پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والا کوئی بھی جنگی جہاز موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرے گا۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ ایسی جرأ ت کرنےوالے جہاز کو پاسداران انقلاب کی بحریہ نشانہ بنائے گی۔یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اس ناکہ بندی میں ایران کی تمام بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں تک پہنچنے والے یا وہاں سے نکلنے والے ہر قسم کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔
امریکی حرکت عالمی معیشت کیلئے تباہ کن
ایران نے متنبہ کیاہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا فیصلہ عالمی معیشت کو ہی نقصان پہنچائے گا۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیرکو کہاکہ’’کیا اپنی مرضی سے تھوپی گئی ’غیر قانونی جنگ‘کو عالمی معیشت کے خلاف ’اپنی مرضی کے انتقام‘ کے ذریعے جیتا جا سکتا ہے؟‘‘ ٹرمپ کی حرکتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے انہوں نے یہ سوال بھی کیاکہ’’دوسرے کے چہرے کو بدنما کرنے کیلئے کیا اپنی ہی ناک کاٹنا دانشمندانہ عمل ہوسکتاہے؟‘‘ اس سے قبل امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد اعلیٰ سطح کے ایرانی حکام نے جوابی کارروائی کی دھمکیاں دیں۔
سب محفوظ ہوں گےیا پھر کوئی نہیں: ایران
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اب بھی ایران کےمکمل کنٹرول میں ہے،کسی بھی فوجی نقل و حرکت کابھرپور جواب دیا جائے گا۔ایران نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خلیج فارس اور خلیج عمان کی تمام بندرگاہوں کو دھمکی دی ہے جس سے خطے میں بڑے ٹکراؤ کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کو جاری بیان میں خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان نے کہا کہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی سیکوریٹی یا تو سب کیلئے ہوگی یا پھر کسی کیلئے نہیں ہوگی۔ ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اب خطے کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔
ٹرمپ کو اتحادیوں کا ٹکا سا جواب
اس بیچ برطانیہ نے ٹرمپ کی مدد کی اپیل کے جواب میں اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی فوجی ناکہ بندی نافذ کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانوی میڈیا نے واضح کیا ہے کہ بحری جہاز اور فوجی ایرانی بندرگاہوں کو ہرمز کی ناکہ بندی کیلئے استعمال نہیںکیا جائےگا۔ حکومت برطانیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم جہاز رانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی حمایت جاری رکھیں گے، کیونکہ عالمی معیشت اور مقامی سطح پر زندگی گزارنے کی لاگت کو قابو میں رکھنے کیلئے اس کا کھلنا انتہائی ضروری ہے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں شامل ہونے کیلئے آسٹریلیا سے کوئی درخواست نہیں کی گئی ہے۔ نیٹوفوجی اتحاد میں شامل دیگر ممالک نے بھی ٹرمپ کی مدد کی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ فرانس برطانیہ اور دیگر ممالک پر جلد ہی ایک اجلاس طلب کرنے کافیصلہ کیا ہے۔