ماسکو کی کیف سے مذاکرات کی پیشکش، روسی حملے اور یورپی یو نین کی پابندیاں ساتھ

Updated: May 05, 2022, 11:56 AM IST | Agency | Moscow/Brussels/Kyiv

یوکرین اور روس کا تنازع ایسے مرحلے میں ہے جب پوتن نے کیف سےمذاکرات کی پیشکش کی ہے جبکہ اسی روسی حملے اور یورپی یونین کی پابندیاں بھی جاری ہی۔

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

یوکرین اور روس کا تنازع ایسے مرحلے میں  ہے جب پوتن نے کیف سےمذاکرات کی پیشکش کی ہے جبکہ اسی روسی حملے  اور  یورپی یونین کی پابندیاں بھی جاری ہی۔    رو سی حملے سے متعلق ڈونیٹسک خطے کے گورنر نے بتایا کہ منگل  کو مشرقی یوکرین پر روسی حملوں میں کم از کم ۲۱؍شہری ہلاک اور۲۷؍دیگر زخمی ہوگئے۔ یہ ایک ماہ کے دوران کسی ایک دن اب تک کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ ڈونیٹسک کے گورنر پاولو کرائلینکونے ٹیلی گرام پر بتایا، ’’اودیویکا کوک پلانٹ پرروسیوں کی گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم۱۰؍افراد ہلاک اور ۱۵؍زخمی ہوگئے۔یہ کوک پلانٹ یورپ کے سب سے بڑے کوک پلانٹس میں سے ایک ہے۔ گورنر کرائلینکو نے مزید بتایا کہ لائمن قصبے پر گولہ باری میں مزید ۵؍ افراد جبکہ ووگیلڈار قصبے پر گولہ باری میں۴؍ افراد ہلاک ہوگئے۔ ان کے علاوہ ولائیکا نووسیلکا اور شینڈری گلوو گاوں میں ایک ایک شخص کی موت ہوئی ۔کرائلینکو نے بتایا کہ ایک ماہ قبل کراماٹورسک شہر میں ایک ریلوے اسٹیشن پرروسی حملے میں ۵۹؍افراد کی ہلاکت کے بعد سے کسی ایک دن میں روسی فوجی کارروائیوں میں  مرنے والوں کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کرائلینکو نے بتایا کہ اودیویکا پرروسیوں نے اس وقت حملہ کیا جب کارخانے میں کام کرنے والے افراد اپنی ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد اپنے اپنے گھر جانے کیلئے بس اسٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا،’’روسیوں کو یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ کس جگہ کو نشانہ بنارہے ہیں؟‘‘علاحدگی پسندوں کے کنٹرول والے ڈونیٹسک کے شمال میں واقع اودیویکا ایک صنعتی قصبہ ہے۔ روس نے حالیہ ہفتوں میں مشرقی ڈونباس خطے میں ان علاقوں پر حملے تیز کردیئے ہیں جو کیف کے قبضے میں ہیں۔ ماسکو اب ان علاقوں پر اپنی توجہ مرکوز کررہا ہے۔  اسی دوران روسی صدر ولادیمیر پوتن نے منگل کو اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکروں سے ٹیلی فون پر تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔ روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق پوٹن نے میکروں سے کہا کہ روس نے یوکرین کو مذاکرات کے اصولی طریقہ کار   سےمتعلق خاکہ پیش کیا ہے اور کیف   کے سنجیدگی  کا مظاہرہ نہ کرنے کے باوجود  اس سے بات چیت کیلئے تیار ہے۔ تاس کے مطابق پوٹن نے مغرب سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ یوکرین کیلئے ہتھیاروں کی سپلائی کا سلسلہ بند کردے۔ دونوں  لیڈروں نے اس سے قبل۲۶؍ مارچ کو بات چیت کی تھی۔ ادھر مغربی ممالک روس پر تازہ پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
   اسی دوران یورپی یونین  نے بدھ کو روس کے خلاف مزید پابندیوں کا اعلان کیا۔ منگل کو یورپی یونین کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے یورپی پارلیمنٹ میں کہا،’’آج ہم روس کے خلاف پابندیوں کے چھٹے مرحلے کا اعلان کر رہے ہیں۔ روس سے یورپ کو تیل کی درآمد پر مکمل پابندی لگانے کی مشق آج سے شروع کریں گے۔ اس کے تحت روس سے کسی بھی قسم کے تیل کی درآمد پر مکمل پابندی ہوگی، خواہ وہ سمندر سے نکالا جانے والا تیل ہو، پائپ لائن سے، خام تیل یا ریفائنڈ تیل  ہو۔  پابندیاں عائد کرتے ہوئے ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ روسی درآمدات پر یہ پابندی مرحلہ وار لگائی جائے ۔اس کے علاوہ ہم تین بڑے روسی نشریاتی اداروں پر بھی پابندی لگا رہے ہیں۔ پابندی کے بعد یہ براڈکاسٹر یورپی یونین کے رکن ممالک میں کیبل کے ذریعہ، سیٹلائٹ کے ، انٹرنیٹ  اور  اسمارٹ فون ایپس کے ذریعہ بھی اپنے  اپنے پروگرام نشر  نہیں کر سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ پابندیوں کے چھٹے مرحلے کی مدد سے ہم روس کے اسبربینک اور دو دیگر بڑے بینکوں کو سوئفٹ سے الگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک کمیٹی ہے جو پوری  دنیا کے بینکوں کے درمیان لین دین کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ ایسا کرنے سے مالیات کے شعبہ  کے لئے اہم بینکوں کو متاثر کرکے روس  کے صدر ولادیمیر پوتن کی اہلیت کو متاثر کریں  گے۔ ایسا کرنے سے روس کا مالیات کا شعبہ عالمی نظام سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہو جائے گا۔

ukraine Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK