؍۴جماعتوں کے بیشتربچوں کی کارکردگی مایوس کن

Updated: May 27, 2022, 8:21 AM IST | saadat khan | Mumbai

نیشنل اچیومنٹ سروے کےمطابق ریاستی سطح پر آٹھویں اور دسویں جماعت کے ۷۰؍اور تیسری اورپانچویں جماعت کے ۵۰؍فیصد سے زیادہ طلبہ کی کارکردگی ٹھیک نہیں پائی گئی ہے۔ ریاضی اور سائنس میں طلبہ کی کارکردگی مزید خراب ہے۔ تعلیمی تنظیموں کے مطابق ماہراساتذہ کی کمی کی وجہ سے مسائل پیش آرہے ہیں

The education department is concerned about the failure of most students. (File photos)
بیشترطلبہ کی کارکردگی ٹھیک نہ ہونے سے محکمہ تعلیم فکرمند ہے۔ (فائل فوٹو)

نومبر ۲۰۲۱ءمیںکئے گئے نیشنل اچیومنٹ سروے (این اے ایس )کی رپورٹ کےمطابق ریاستی سطح پر آٹھویں اور دسویں جماعت کے ۷۰؍اور تیسری اورپانچویں جماعت کے ۵۰؍ فیصد سے زیادہ طلبہ کی کارکردگی مختلف مضامین میں بنیادی یا بنیادی سطح سے کم ہے۔ ریاضی اور سائنس مضامین میں طلبہ کی کارکردگی مزید خراب ہے۔ ان دونوں مضامین کے تعلق سے طلبہ میں خوف بھی پایا گیا ہے ۔ 
 رپورٹ کےمطابق سیکنڈری اسکول کے ۳؍میں سے ایک طالب علم سائنس اور ریاضی کے بنیادی سوالات کا جواب نہیں دے پاتا ہے ساتھ ہی رپورٹ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہےکہ اعلیٰ جماعت میں جانے کے بعد طلبہ کی کارکردگی مزید مایوس کن ہورہی ہے۔ مذکورہ سروے میں قومی سطح پر ۷۲۰؍ اضلاع کے ایک لاکھ ۸۰؍ہزار اسکولوں کے ۳۴؍ لاکھ طلبہ شامل تھے۔ طلبہ کی تعلیمی صلاحیت اور ان کی عمر کے مطابق وہ کتناجانتے ہیں ،  اس کی جانچ کیلئے یہ سروے کیاگیاتھا۔ تیسری ،پانچویں ، آٹھویں اور دسویں جماعت کے طلبہ سے تحریری ٹیسٹ کے ذریعےاین اے ایس نے یہ سروے کروایاہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۷ءمیں این اے ایس سروے کیاگیاتھا۔
 سروے میں مہاراشٹرکے ۷؍ہزار ۲۲۶؍ اسکولوں کے۳۰؍ہزار ۵۶۶؍ ٹیچروں اور۲؍لاکھ ۱۶؍ ہزار ۱۱۷؍ طلبہ نے حصہ لیاتھا  جن میں تمام گروپ کے طلبہ شریک تھے۔ ریاستی سطح پرزباندانی میں مہاراشٹر کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔جہاں تک طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کامعاملہ ہے تو پرائمری کے مقابلے سیکنڈری  کےطلبہ کی تعلیمی کارکردگی مایوس کن رہی ہے۔بالخصوص سائنس اور ریاضی میں طلبہ کمزور پائے گئے ہیں۔ دسویں جماعت کے ۳؍میں سے ۲؍طلبہ یا ۷۷؍فیصد طلبہ جن کا سروے کیاگیاہے ، وہ سائنس میں بنیادی سطح پر پائے گئے ہیں جبکہ ۸؍ویں جماعت کے ۳۸؍ فیصد طلبہ کا نتیجہ بنیادی سطح سے بھی کم رہا ہے۔ اسی طرح ریاضی کےمعاملےمیں آٹھویں جماعت کے ۲۷؍ فیصد اور دسویں جماعت کے ۳۳؍فیصد طلبہ کی کارکردگی بنیادی سطح سے کم رہی ہے ۔       
 کوکن کے ریاضی کے معلم شمس الدین عطاری نے بتایا کہ ’’بالخصوص آٹھویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کی ریاضی اور سائنس میںکارکردگی مایوس کن رہی ہے۔ نویں اور دسویں جماعت کیلئے ریاضی اور سائنس کے ٹیچروںکی اسامیاں بڑی تعدادمیں خالی  ہیں۔ ان جماعتوںکے طلبہ کو ریاضی پڑھانےکیلئے تجربہ کار ٹیچروں کی ضرورت ہے۔ان مضامین کے ٹیچروںکی قلت سے بھی اس طرح کے مسائل پیش آرہے ہیں۔‘‘
 اس تعلق سے اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کےجنرل سیکریٹری ساجد نثار نےبتایاکہ ’’ سائنس اور ریاضی کے مضامین کوسمجھنےمیں طلبہ کو دشواری ہوتی ہے، یہ بالکل درست ہے۔ بیشتر طلبہ ان مضامین کو نہیں سمجھ پاتے ہیں جس سے ان کی مجموعی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ ان مضامین کو ان  کےماہر اساتذہ اچھی طرح پڑھاسکتےہیں۔ اس لئے ان مضامین کے تجربہ کارٹیچروںکی اسکولوںمیں تقرری کی جانی چاہئے۔‘‘  
  اسٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (ایس سی ای آر ٹی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر وکاس گرڈ نے بتایا کہ ’’ قومی سطح پرریاضی اور سائنس میں طلبہ کی کارکردگی کا گراف ٹھیک نہیں ہے۔ حتیٰ کہ ۲۰۱۷ءمیں بھی سیکنڈری  کے طلبہ کی کارکردگی ان مضامین میں مایوس کن تھی۔ ہم اس سروے رپورٹ کے  اعداد وشمار کے تجزیہ کےبعد بہتر کارکردگی کیلئے منصوبہ بندی کریں گے۔‘‘
  ایجوکیشن کمشنر سورج منڈھرے نے کہاکہ ’’ ہم جانتے  ہیں کہ جو رپورٹ آئی ہے، ہمیں اسے بہتر کرنےکی ضرور ت ہے۔ میں نے ایس سی ای آر ٹی کو اس معاملہ پر غور وخوض کرنےکی ہدایت دی ہے۔ سروے رپورٹ کا جائزہ لینےکے بعد مایوس کن کارکردگی کی وجہ جاننےکی کوشش کی جائے گی بعدازیں مناسب اقدام کیا جائے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK