Updated: April 23, 2026, 7:03 PM IST
| Bhopal
مدھیہ پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے پریتم لودھی کی جانب سے ایک پولیس افسر کو دھمکانے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تنازع بڑھ گیا ہے۔ ایم پی آئی پی ایس آفیسرز اسوسی ایشن نے اس بیان کی شدید مذمت کی، جبکہ تازہ ویڈیوز اور سیاسی ردعمل نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے پریتم لودھی۔ تصویر: ایکس
مدھیہ پردیش کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب بی جے پی ایم ایل اے پریتم لودھی کا ایک متنازع ویڈیو منظر عام پر آیا، جس میں وہ ایک پولیس افسر کو مبینہ طور پر دھمکاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ان کے بیٹے کے خلاف ایک حادثے کے سلسلے میں تحقیقات کا آغاز کیا گیا، جس میں اس پر پانچ افراد کو گاڑی سے ٹکر مارنے کا الزام ہے۔ یم پی آئی پی ایس آفیسرز اسوسی ایشن نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایم ایل اے کے رویے کو ’’غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت‘‘ قرار دیا۔ اسوسی ایشن نے کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف پولیس فورس کے مورال کو متاثر کرتے ہیں بلکہ قانون کی بالادستی کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب ایک اور ویڈیو سامنے آئی، جس میں لودھی مبینہ طور پر آیوش جھاکڑ (سب ڈویژنل آفیسر آف پولیس) کو دھمکی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ۱۵؍ دن کے اندر یہ وضاحت نہ دی گئی کہ ان کے بیٹے کے خلاف کارروائی کس کے کہنے پر ہو رہی ہے، تو وہ اپنے ہزاروں حامیوں کے ساتھ افسر کے گھر کا گھیراؤ کریں گے اور اسے ’’گائے کے گوبر سے بھر دیں گے۔‘‘ پریس رپورٹس کے مطابق، ایم ایل اے نے اس معاملے پر میڈیا یا حکام کی جانب سے رابطے کی کوششوں کا جواب نہیں دیا، جس سے قیاس آرائیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسام کے وزیر اعلیٰ کے عدالت کی نوٹس کے باوجود اشتعال انگیز تبصرے جاری
ریاستی پولیس کے اعلیٰ حکام نے غیر رسمی طور پر افسران کو ’’سیاسی دباؤ کے باوجود قانون کے مطابق کام جاری رکھنے‘‘ کی ہدایت دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس نے اس واقعے کو قانون کی حکمرانی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ایم ایل اے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد عوامی ردعمل تیز ہو گیا ہے، جہاں کئی صارفین نے پولیس کے حق میں اور سیاسی مداخلت کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔بعض رپورٹس کے مطابق ریاستی حکومت کے اندر بھی اس معاملے پر خاموش بے چینی پائی جا رہی ہے، اور اعلیٰ سطح پر اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ واقعہ ایک بڑے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے، سیاسی اثر و رسوخ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی۔ اگر ایسے واقعات پر سخت کارروائی نہ کی گئی تو یہ انتظامی نظام کی غیر جانبداری کو متاثر کر سکتا ہے۔