Inquilab Logo

مختار انصاری کا انتقال: اپوزیشن لیڈران اور اہل خانہ کا قتل کا الزام، تدفین آج شام میں متوقع

Updated: March 29, 2024, 3:25 PM IST | Lucknow

مختار انصاری کی موت کے بعد اپوزیشن لیڈران اور ان کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں دھیرے دھیرے زہر دے کر قتل کیا گیا ہے اور تفتیش کا مطالبہ بھی کیا۔ مختار انصاری کی تدفین آج شام عمل میں آنے کے امکانات ہیں۔ ان کی موت کے معاملے میں  سی جی ایم نے عدالتی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گریما سنگھ کو تفتیشی افسر مقرر کیا گیا ہے اور ایک ماہ میں رپورٹ جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

Mukhtar Ansari Photo: PTI
مختار انصاری۔ تصویر: پی ٹی آئی

مختار انصاری کے موت کے بعد سوشل میڈیا پر اپوزیشن لیڈران اور ان کے خاندان کے افراد ان کی موت پراظہار غم کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ جمعرات کو اترپردیش کے مؤ سے ۵؍ مرتبہ ایم ایل اے اور اترپردیش کے سینئر سیاستداں مختار انصاری کا جمعرات کی رات دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا تھا۔ اپوزیشن لیڈران اور ان کے خاندان کے افراد نے ان کی موت کے معاملے میں آزادانہ تفتیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ مختار انصاری اور ان کے خاندان کے افراد نے بارہا کہا تھا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے اور انہیں قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ تاہم، موت سے ۲؍ دن قبل مختار انصاری نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں دھیرے دھیرے زہر دیا جا رہا ہے۔
انصاری کے بیٹے عمر انصاری نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کے والد کو ۱۹؍ مارچ کو ان کے کھانے میں زہر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے والد کی موت کی خبر انتظامیہ نے نہیں ملی بلکہ میڈیا کے ذریعے انہیں معلوم ہوا کہ ان کے والد ختم ہو گئےہیں۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ۲؍ دن قبل انہوں نے اپنے والد سے ملنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں ملنے نہیں دیا گیا تھا۔
عمر انصاری نے رپورٹرس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اپنے والد کی موت کی خبر انتظامیہ کی جانب سے نہیں ملی بلکہ میڈیا کے ذریعے مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے والد ختم ہو گئے ہیں۔ البتہ پورے ملک کو اب تمام تفصیلات کا علم ہے۔ ۲؍ دن قبل میں نے اپنے والد سے ملنے کی کوشش کی تھی لیکن مجھے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ہم پہلے بھی یہ کہتے تھے اور آج بھی یہی کہیں گے کہ میرے والد کو دھیرے دھیرے زہر دیا جا رہا تھا۔
عمر نے مزید کہا کہ ۱۹؍ مارچ کو ان کے کھانےمیں انہیں زہر دیا گیا تھا۔ ہم عدالت سے رجوع کریں گے ہمیں اس بات پر مکمل یقین ہے۔

یہ جائز اور غیر انسانی حرکت ہے: تیجسوی یادو
مختار انصاری کی موت کے حوالے سے آر جے ڈی کے لیڈر اور بہار کے سابق وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے کہا کہ کچھ دن پہلے انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں دھیرے دھیرے زہر دیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔یہ حرکت جائز اور انسانی نہیں معلوم ہوتی ہے۔آئینی اداروں کو ایسے عجیب و غریب واقعات کا ازخود نوٹس لینا چاہئے تھا۔

حکومت نے سنگین الزامات کے باوجود بھی معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا: اسدالدین اویسی 
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنے ایکس میں لکھا کہ غازی پور کے لوگوں نے اپنے پسندیدہ بیٹے اور بھائی کو کھودیا۔ مختار صاحب نے انتظامیہ کے خلاف سنگین الزام عائد کئے تھے کہ انہیں دھیرے دھیرے زہر دیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود بھی حکومت نے ان کے علاج پر دھیان نہیں دیا جو قابل افسوس ہے۔

چندرشیکھر آزاد کا سی بی آئی تفتیش کا مطالبہ 
آزاد سماج پارٹی کے چیف چندرشیکھر آزاد نے کہا کہ قبل ازین مختار انصاری نے اپنے قتل کا خوف ظاہر کیا تھا۔ میں الہ آباد ہائی کورٹ سے ان کی موت کے معاملے میں سی بی آئی تفتیش کا مطالبہ کرتا ہوں۔ 

مختار انصاری کے گھر کے بھائی سیکوریٹی سخت کر دی گئی ہے۔ تصویر: پی ٹی آئی 

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس معاملے کا خود نوٹس لیں: پپو یادو
کانگریس کے سابق رکن پارلیمان اورکانگریسی لیڈر پپو یادو نے مختار انصاری کے قتل کو ’’ادارہ جاتی قتل‘‘ قرار دیا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔ اس معاملے میں تفتیش ہونی چاہئے۔

انہوں نے الزام عائد کئے تھے کہ انہیں دھیرے دھیرے زہر دیا جا رہا ہے۔ ان کے بھائی نے بھی الزامات عائد کئے تھے۔ ملک کے نظام پر داغ ہیں۔

مختار انصاری کے گھر کے باہر لوگوں کی بھیڑ۔ تصویر: پی ٹی آئی
واضح رہے کہ مختار انصاری کی موت کے ۲؍ دن پہلے ان کے بھائی افضل انصاری نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بھائی کو موت کے گھاٹ اتارنے کی سازش کے تحت انہیں زہر دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے رپورٹرس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مختارانصاری کو ان کے کھانے کے ساتھ زہر دیا جا رہا ہے۔ انہیں جیل میں مارنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔
تین ماہ قبل مختار انصاری نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کے بڑے بیٹے عمر انصاری نے عدالت عظمیٰ سے کہا تھا کہ اترپردیش حکومت ان کے والد کو باندہ جیل میں قتل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔گزشتہ سال ۱۶؍ جنوری کو عدالت نے اترپردیش حکومت کو حکم جاری کیا تھا کہ وہ سیکوریٹی انتظامات کرے اور اس بات کی یقین دہانی بھی کرے کہ مختار انصاری سیکوریٹی کی خلاف ورزی سے محفوظ رہیں۔
اس درمیان پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی لاش ان کے اہل خانہ کے حوالےکر دی جائے گی۔ تاہم، ان کی موت کے حوالے سے تین ممبران پر مبنی ایک کمیٹی باندہ کے ضلعی مجسٹریٹ کے حکم کی مطابق تشکیل دی گئی ہے جو ان کے قتل کے معاملے میں تفتیش کرے گی۔